ہے ایک ایسا چارہ ہے جو کہ بڑھوتری کے دنوں میں کاٹ کر سکھا کر بعد میں استعمال کرنے کے لئے محفوظ کر کیا جاتا ہے۔ چارے کو خشک کرنا ایک ایسا عمل ہے جو چارے کو محفوظ کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ اس حالت میں اس کو سنبھالنا اور سٹور کرنا بہت آسان ہوتا ہے اور اس کو سارا سال استعمال کیا جا سکتا ہے۔

چارے کو خشک کرنے کے مقاصد

سبز چارے کو جس وقت اس میں غذائی اجزاء بہترین اور وافر مقدار میں ہوتے ہیں، کاٹ لیا جاتا ہے اس طرح اعلی درجے کے چارے کو زیادہ زیادہ مقدار میں محفوظ کر لیا جاتا ہے اور اگلی فصل کو بھی کوئی نقصان نہیں پہنچتا ہے۔ اس عمل میں چارے میں نمی کی مقدار 65 سے 85 سے کم ہو کر 20 فیصد یا اس سے کم رہ جاتی ہے اور خراب ہونے سے محفوظ ہو جاتا ہے۔

خشک چارے کے لئے مناسب فصلیں

پاکستان میں برسیم اور لوسرن اس مقصد کے لئے انتہائی موزوں چارے کی فصلیں ہیں۔ پہاڑی علاقوں میں قدرتی گیسوں کو بھی اس مقصد کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ شمالی پہاڑی علاقوں میں اس مقصد کے لئے کافی گھاس موجود ہوتی ہے۔ جو سبز حالت میں اتنی پسند نہیں کی جاتی لیکن خشک ہونے کے بعد جانوران کو شوق سے کھاتے ہیں چاہے محفوظ کی جانے والی گھاس ہو یا پھلی دار چارہ یا دونوں کا آمیزہ، ان کی کٹائی کے وقت اس کے بلوغت کی عمر اور اس کی ساخت، کوالٹی ، ہاضمیت اور غذائی اہمیت کو متاثر کرتی ہے۔

بیج لگنے سے پہلے پودے لمحیات سے بھر پور ہوتے ہیں۔ ان میں نا قابل ہضم اجزاء کی بھی کمی ہوتی ہے۔ لیکن جوں جوں پودا پکنے کے عمل میں پڑتا ہے اس میں نا قابل ہضم اجزاء کی مقدار میں اضافہ ہوتا جاتا ہے اور اس کی غذائی اہمیت کم ہو جاتی ہے۔ قابل ہضم اجزاء کی مقدار ابتدائی پھول آنے کے بعد انداز 0.5 فیصد کم ہوتی جاتی ہے۔ اسی طرح اس کو کھانے کی شرح بھی اسی حساب سے کم ہوتی ہے۔

خشک چارہ تیار کرنے کے طریقے

فصل جس کا خشک چارہ ہے بنانا ہو اس کو ابتدائی پھول آنے کے بعد جتنی جلدی ہو کاٹ کر خشک کر کے محفوظ کر لینا چاہئے ورنہ اس کی غذائی اہمیت میں کمی واقع ہو جائے گی۔

حتی الوسع یہ کوشش کرنی چاہئے کہ چارے کو محفوظ کرنےکے دوران بارش کے آنے کا خدشہ نہ ہو کیونکہ چارے کو خشک کرنے کے لئے کم از کم دو دن کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس ضمن میں محکمہ موسمیات سے بھی مدد لی جاسکتی ہے۔ کٹے ہوئے چارے کو قطاروں میں رکھ کر خشک کرنا چاہیے اس طرح اس کو اکھٹا کرنا سنبھالنا اور رات کے وقت اوس سے بچاؤ کرنے میں مدد ملتی ہے۔

چارے کو بکثرت الٹتے پلٹتے رہنے سے ایک تو اس میں سے حرارت خارج ہوتی رہتی ہے اور دوسرا چارہ پھپھوندی لگنے سے بھی محفوظ ہو جاتا ہے۔ خشک کرنے کے عمل جتنی جلدی مکمل کیا جائے اتنی ہی اچھا ہے تا کہ نقصانات کم سے کم ہو۔ اس خشک چارہ کو گھٹوں میں باندھ کریا اس کے بغیر بھی سٹور کیا جاتا ہے۔ اگر چارے کو اچھے طریقے سے تیار نہ کیا جائے تو درج ذیل نقصنات ہو سکتے ہیں۔

  • پتے جھڑنا: پتے جو کہ پودے کا انتہائی اہم اور غذا سے بھر پور جزو ہوتے ہے۔ جھڑ جاتے ہے اور چارے کی غذائی اہمیت کم ہو جاتی ہے۔ پھلی دار فصلوں میں پتے جھڑنے کی شرح زیادہ ہوتی ہے۔
  • بارش کا اثر: اگر فصل کو خشک کرنے کے دوران بارش ہو جائے تو پانی میں حل ہونے والے غذائی اجزاء بارش کے ساتھ بہہ جاتے ہیں اور خشک چارے کی غذائی اہمیت بھی کم ہو جاتی ہے۔
  • ضرورت سے زیادہ دھوپ: اگرچہ ایک خاص حد تک سورج کی روشنی چارے کو خشک کرنے کیلئے ضروری ہوتی ہے۔ لیکن اگر فصل کو ضرورت سے زیادہ وقت تک سورج کی روشنی میں رکھا جائے تو اس کی غذائی اجزاء کے ضائع ہونے کا خدشہ ہوتا ہے جس میں کیروٹن سر فہرست ہے۔

خشک چارے کو راشن کے ساتھ کھلانا

بھیڑ بکریوں کو خوراک صحیح تناسب میں دینے کے لئے اس کی توانائی اور مقدار میں ایک توازن رکھنا ضروری ہے۔ عام طور پر خشک چارہ ان کو انکے وزن کے دو فیصد کے حساب سے دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اضافی طور پر ونڈہ اور مختلف اجناس بھی خوراک میں شامل کی جاتی ہے۔ جو کہ بڑھوتری اور وزن بڑھانے کے لئے ضروری ہوتی ہے۔ ہوا میں خشک کئے ہوئے چارہ جات کی مقدار روزانہ کی خوراک میں جانور کے وزن کے 3.5 سے 3 فیصد سے زیادہ نہیں ہونی چاہئے۔ اگر جانور کو موٹا کیا جارہا ہو تو ان کی خوراک میں ونڈا اور دانے دار اجناس کی مقدار کو آہستہ آہستہ بڑھایا جائے تا کہ وہ بیماری سے محفوظ رہ سکیں۔