عمومی طور پر جانور کی پیداوار میں 70 سے 80 فیصد تک خرچہ خوراک پر آتا ہے۔ لوگ شوق سے اچھا دودھ دینے والی گائے یا بھینس خرید کر لاتے ہیں مگر خوراک کا صحیح بند و بست نہ ہونے کی وجہ سے اُن سے حسب توقع پیداوار نہیں لے سکتے ۔ جانوروں سے اُن کی صلاحیت کے مطابق زیادہ دودھ اور بڑھوتری لینے کیلئے متوازن خوراک بہت ضروری ہے۔ یہ چارے کے ساتھ ساتھ ونڈے کے استعمال سے ہی ممکن ہے۔

چارہ جات

چارے جانوروں کو پالنے کا سستا ذریعہ ہیں۔ پنجاب اور سندھ میں چارہ نسبتاً زیادہ مقدار میں پیدا ہوتا ہے اور سارا سال مہیا ہوتا ہے جبکہ بلوچستان اور صوبہ خیبر پختو نخواہ میں اس کی مقدار نسبتا کم ہے۔ یہ بات تحقیق سے ثابت ہوئی ہے کہ سبز چارہ جانور کی جسمانی ضرورت کو تو کسی حد تک پورا کرتا ہے لیکن اگر اس سے اچھی بڑھوتری لینی ہو یا دودھ کی زیادہ پیداوار حاصل کرنا ہو تو چارے کے ساتھ ونڈا یا دیگر اضافی خوراک کا انتظام ضروری ہو جاتا ہے۔ چونکہ چارے جانوروں کی بنیادی خوراک کا کام دیتے ہیں لہذا اُن کو ذرا تفصیل سے بیان کرنا ضروری ہے۔ موسم کے لحاظ سے چاروں کو دوحصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔

  • سردیوں کے چارے ( ربیع )
  • گرمیوں کے چارے (خریف )

سردیوں کے چارے

ان میں عام طور پر برسیم ، لوسرن ، رائی گراس وغیرہ شامل ہیں۔ سردیوں کے چاروں میں لحمیات کی مقدار 20 سے 22 فیصد ہوتی ہے اور قابل ہضم اشیا بھی 55 سے 60 فیصد کے درمیان ہوتی ہیں۔ لہذا کوالٹی کے لحاظ سے یہ چارے بہترین تصور کیے جاتے ہیں۔ اس میں عام طور پر خشک مادہ کم او نمی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ لہذا اگر چارے میں نمی کی مقدار بہت زیادہ ہو تو چارے کے ساتھ بھوسہ یا پرالی کتر کر ملائی جاتی ہے۔ اس سے جانور کی جسمانی خشک مادہ کی ضرورت بھی پوری ہو جاتی ہے اور موک یا Diarrhea لگنے کا اندیشہ کم ہو جاتا ہے۔ زیادہ دودھ دینے والے جانوروں کو مناسب توانائی سپلائی کرنے کے لیے بھی راشن کا استعمال ضروری ہے۔ اگر چارہ کوالٹی کا ہو تو جانور کافی مقدار میں کھا لیتے ہیں لیکن عمومی طور پر چارہ جانور کے جسم کے وزن کا 10 فیصد کافی رہتا ہے یعنی اگر جانور کے جسم کا وزن 500 کلوگرام ہو تو 50 کلو گرام چارہ کافی ہوتا ہے۔ اسی طرح گائے کے لیے 30-40 کلوگرام اور بھینس کے لیے 40-50 کلوگرام چارہ مناسب ہے۔

برسیم

یہ موسم سرما کی ایک اہم اور غذائیت سے بھر پور فصل ہے۔ اس کو چاروں کا بادشاہ بھی کہتے ہیں۔اس کی کاشت سے زرخیزی بھی بڑھ جاتی ہے۔ اس میں لحمیات کیلشیم اور حیاتین کافی مقدار میں ہوتے ہیں۔ اس کو Hay کی شکل میں بھی محفوظ کیا جا سکتا ہے۔ اس چارے کو ستمبر کے آخری ہفتے سے وسط اکتوبر تک کاشت کیا جاتا ہے۔ اس کی کاشت کے لیے 8 سے 10 کلوگرام بیج فی ایکٹر درکار ہوتا ہے۔ برسیم کی اوسط پیداوار 50 سے 55 ٹن فی ایکڑ ہے۔

جئی

جئی موسم سرما کا دوسرا مفید چارہ ہے۔ اس کو عمومی طور پر برسیم کے ساتھ ملا کر کاشت کیا جاتا ہے۔ یہ چارہ بھی غذائیت کے لحاظ سے دودھ دینے والے جانوروں کے لیے نہایت مفید ہے۔ اس کی کئی کٹائیاں دینے والی اقسام بھی حال میں متعارف ہوئی ہیں۔ کاشت کے لیے اس کا پیچ 32 تا 35 کلوگرام فی ایکٹر درکار ہے۔ چارے والی فصل سے 28 ٹن ایکڑ سبز چارہ حاصل کیا جا سکتا ہے جبکہ بیچ کی پیداوار 20 تا 25 من فی ایکڑ حاصل کی جاسکتی ہے۔

لوسرن

یہ دوامی نوعیت کا ایک پھلی دار چارہ ہے جس سے لحمیات، حیا تین میکنیشیم اور فاسفورس وافر مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔ اس فصل سے سارا سال چارہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ پھلی دار چارہ ہونے کے ناطے برسیم کی طرح یہ چارہ بھی زمین کی زرخیزی میں اضافہ کرتا ہے۔ سخت گرمی اور شدید سردی اس پر کم ہی اثر انداز ہوتے ہیں۔

 گرمیوں کے چارے

گرمیوں کے چارے میں مکئی ، جوار، باجرہ ، ماٹ گر اس اور سدا بہار وغیرہ شامل ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے چارے عام طور پر ایک کٹائی دیتے تھے مگر اب جوار اور باجرہ میں زیادہ کٹائیاں دینے والی قسمیں آگئی ہیں۔ جس سے چارہ جات کی مقدار بہت بڑھنے کے علاوہ چارے کی کمی والے وقفے بھی کم ہو گئے ہیں۔ موسم گرما کے چاروں میں عام طور پر موسم سرما کے چاروں کی نسبت خشک مادہ زیادہ اور لحمیات کم ہوتی ہے۔ خشک مادہ 20 سے 40 فی صد تک ہوتا ہے اور لحمیات کی مقدار 6 سے 8 فیصد تک ہوتی ہے۔ قابل ہضم اشیا عام طور پر 50 سے 55 فیصد ہوتی ہیں مگر اُن کی کوالٹی چارہ جات کی عمر پر بہت منحصر ہوتی ہے۔ زیادہ پکے ہوئے چارے جانور نہ تو کھانا پسند کرتے ہیں اور نہ ہی اُن کے لیے فائدہ مند ہوتے ہیں۔ لہذا انہیں مناسب وقت پر ہی کھلا دینا چاہیے۔ عمر کے ساتھ چاروں کی کوالٹی میں کمی گرمیوں کے چارہ جات میں سردیوں کے چاروں کی نسبت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ گرمیوں کے چاروں میں خشک مادہ کافی مقدار میں ہوتا ہے لہذا اُن میں توڑی یا پرالی ملانے کی ہر گز ضرورت نہیں ہوتی۔ چونکہ گرمیوں کے چاروں میں لحمیات کی مقدار کم ہوتی ہے لہذا جانوروں کی مخصوص حالتوں مثلاً بڑھوتری یا پیداواری حالت میں راشن کا استعمال ضروری ہے۔

مکئی

مکئی کی فصل سے بیج حاصل کرنے کے علاوہ اس کا چارہ جانوروں کی خوراک کے لیے بہترین حالت میں ہوتا ہے۔ مکئی کا چارہ ایک لذیذ چارہ ہے اور جانور اسے بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔ مکئی کی فصل کی کاشت کے لیے 15 سے 16 کلوگرام بیج فی ایکڑ درکار ہوتا ہے جس سے فی ایکڑ 40 سے 50 ٹن چارہ پیدا کیا جا سکتا ہے۔

جوار

جوار یا چری گرمیوں میں وسیع رقبے پر اگایا جاتا ہے۔ اسے نہری اور بارانی دونوں علاقوں میں کاشت کیا جاتا ہے ۔ یہ چارہ جانوروں کے لیے نہایت زود ہضم ہے اور ہر قسم کے جانوروں کو کھلایا جا سکتا ہے۔ لمبے عرصے تک خشک موسم کی وجہ سے بعض اوقات اس پودے میں زہریلے مرکبات بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔ اس کی کاشت کے لیے فی ایکٹر 32 سے 35 کلوگرام بیج کی ضرورت ہوتی ہے۔

سدا بہار

سدا بہار کثیر کٹائیاں دینے والا گرمیوں کا چارہ ہے جو جوار اور سوڈان گراس کے باہمی اختلاط سے تیار کیا گیا ہے۔ یہ غذائیت اور لذت کے اعتبار سے دیگر چارہ جات سے بہتر ہے۔ یہ چارہ خشک موسم برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر مناسب وقت پر کاشت کیا جائے تو یہ مئی جون میں سبز چارے کی قلت کے دوران جانوروں کی ضروریات کافی حد تک پوری کر سکتا ہے۔ اسے کاشت کرنے کے لیے 10 سے 12 کلو گرام بیج فی ایکٹر درکار ہوتا ہے اور اس سے تین یا چار کٹائیوں سے 60 سے 70 ٹن چارہ فی ایکٹر حاصل ہوتا ہے۔

چارہ جات کا ذخیرہ

چارہ جانوروں کی خوراک کا ایک اہم جز ہے۔ اس کو سارا سال جانوروں کی خوراک میں شامل کرنا ہے۔ پاکستان میں چند مہینوں میں عموماً سبز چارے کی قلت ہوتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ کثرت کے دنوں میں فاضل چارے کو کاٹ کر محفوظ کر لیا جائے تا کہ قلت کے دنوں میں جانوروں کے لیے چارے کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے چارے کو دو طریقوں سے محفوظ کر کے ذخیرہ کر لیا جاتا ہے۔

  • سبز حالت میں
  • خشک حالت میں

 سبز حالت میں سب سے آسان اور سائنسی طریقہ سبز چارے سے سائیلج بنانا ہے۔