1. ہاتھ، تھن اور برتن کی صفائی:

  • دودھ دوہنے سے پہلے ہاتھ صابن سے دھوئیں، ناخن چھوٹے رکھیں اور بال ٹوپی سے ڈھانپ لیں۔
  • تھنوں کو دودھ دینے سے پہلے اور بعد میں جراثیم کش محلول جیسے ایسیٹک ایسڈ (Acetic Acid) میں تیس سیکنڈ ڈبوئیں۔
  • صاف سٹینلیس سٹیل بالٹی استعمال کریں
  • بالٹی کو دھوبی سوڈا سے روزانہ دھوئیں اور دھوپ میں خشک کریں۔
  • دودھ کے ڈبے ڈھانپ کر رکھیں اور صاف جگہ پر ٹھنڈا کریں۔
  • دودھ نکالتے وقت کھانسنا، چھینکنا یا سگریٹ/حقہ استعمال نہ کریں۔

2. دودھ نکالنے میں احتیاطیں:

  • پہلے صحت مند جانوروں کا دودھ نکالیں، تھنوں کی بیماری میں مبتلا جانور کا دودھ آخر میں نکالیں
  • اینٹی بائیوٹک لینے والے جانوروں کا دودھ تین دن تک نہ فروخت کریں اور نہ استعمال کریں۔
  • اگر کسی تھن کا دودھ خراب ہو تو علیحدہ برتن میں دودھ دھوئیں اور فارم سے دُور دبا دیں تاکہ فارم پر دوسرے جانوروں کو جراثیم نہ لگ سکیں۔
  • دودھ دھونے کے بعد جالی یا باریک کپڑے سے دودھ چھان لیں۔حیوانے پر موجود بالوں کو تراش لیں۔ دودھ کو صاف اور ٹھنڈی جگہ پر رکھیں۔
  • جانور میں TB یا Brucellosis ہونے کی صورت میں دودھ کے زریعے انسانوں میں منتقل ہو سکتا ہے ایسا دودھ استعمال نا کریں۔
  • جانوروں کو کبھی بھی پھپھوندی لگی خوراک یا کھل نہ کھلائیں، کیونکہ اس میں موجود افلا ٹاکسن دودھ کو انسانوں کے لیے مضرِ صحت بنا دیتے ہیں۔
  • ناقص صفائی سے دودھ بیکٹیریا زدہ ہو سکتا ہے اور جلد خراب ہو جائے گا۔ اس سے سہال لگنے کا بھی اندیشہ ہوتا ہے۔

 

پانی کی ملاوٹ چیک کرنے کا طریقہ:

دودھ میں انگلی ڈبو کر نکالیں، اگر دودھ کی ہلکی تہہ انگلی پر جم جائے تو دودھ خالص ہے، اور اگر فوراً بہہ جائے تو پانی کی ملاوٹ ہو سکتی ہے۔

گھی کی ملاوٹ چیک کرنے کا طریقہ:

دودھ کو اُبال کر سونگھیں، اگر گھی جیسی خوشبو آئے اور چکھنے پر گھی کا ذائقہ محسوس ہو تو ملاوٹ کا شبہ ہے۔
دودھ اُبال کر ٹھنڈا کریں، اگر ملائی کی مکمل اور ہموار تہہ بنے تو دودھ خالص ہے، اور اگر ملائی دانے دار ہو تو گھی کی ملاوٹ ہو سکتی ہے۔

صابن یا سرف کی ملاوٹ چیک کرنے کا طریقہ:

100 ملی لیٹر دودھ اور 100 ملی لیٹر پانی ملا کر 5 منٹ ہلائیں، اگر سرف جیسی جھاگ بن جائے تو دودھ میں صابن یا سرف کی ملاوٹ موجود ہے۔

دودھ پاوڈر کی ملاوٹ چیک کرنے کا طریقہ:

دودھ کو گرم کریں، اگر رنگ پیلا ہو جائے تو پاوڈر کی ملاوٹ ہو سکتی ہے۔
اُبلتے دودھ میں تھوڑی سی ٹاٹری ڈالیں، اگر پاوڈر ملا ہوا ہو تو دودھ میں پھٹکیاں (لوتھڑے) بن جائیں گے۔

 

دودھ میں چکنائی کی مقدار کے تعین کیلئے گھر پر طریقہ کار استعمال کیا جاتا ہے جو کہ درج ذیل ہے۔

  1. بٹیرو میٹر ٹیوب میں 11ml دودھ لیں۔
  2. اس میں ایسڈ آٹو میٹر سے 10ml گندھک کا تیزاب انتہائی احتیاط سے ڈالیں۔
  3. اس کے بعد 1ml ایمائل الکوحل شامل کریں۔
  4. بٹیرو میٹر کو کارک سے اچھی طرح بند کریں، ہلا کر محلول کو ملا لیں۔
  5. سینٹری فیوگل مشین میں بٹیرو میٹر رکھیں اور مخالف سمت میں خالی بٹیرو میٹر رکھ لیں تاکہ ہم وزن رہیں۔
  6. مشین کو 4 منٹ تک 1100 چکر فی منٹ پر چلائیں، مشین رکنے کے بعد انتہائی احتیاط سے نکالیں اور چکنائی کو بٹیرو میٹر پر دیئے گئے نشانات سے چکنائی معلوم کریں۔

 

حیوانے کو دھوئیں تولیہ سے صاف کریں، انگوٹھے کے ساتھ دودھ نہ نکالیں، تھنوں کو دوہنے کے بعد اینٹی سپٹک میں ڈپ کریں اور 15 منٹ سے زیادہ دیر نہ رکھیں۔

 

سوزشِ تھن مویشیوں، خصوصاً گائے اور بھینس میں پائی جانے والی ایک عام مگر نقصان دہ بیماری ہے، جو عموماً بچہ دینے کے بعد ظاہر ہوتی ہے۔ یہ بیماری نہ صرف جانور کی صحت کو متاثر کرتی ہے بلکہ دودھ کی مقدار اور معیار میں بھی نمایاں کمی کا سبب بنتی ہے۔ اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو تھن کو مستقل نقصان پہنچ سکتا ہے۔

سوزشِ تھن کی اقسام

1. مخفی سوزش (Subclinical Mastitis)

  • اس قسم کی سوزش میں ظاہری علامات نظر نہیں آتیں، اس لیے یہ بیماری اکثر نظر انداز ہو جاتی ہے۔
  • تھن میں سوجن یا درد واضح نہیں ہوتا
  • دودھ کی پیداوار آہستہ آہستہ کم ہونے لگتی ہے
  • دودھ کے معیار میں کمی آتی ہے
  • بچھڑے کی نشوونما متاثر ہو سکتی ہے

2. شدید سوزش (Clinical Mastitis)

  • اس قسم میں علامات واضح ہوتی ہیں اور فوری توجہ ضروری ہوتی ہے۔
  • تھن سخت، گرم، سوجا ہوا اور دردمحسوس ہونا
  • جانور دودھ نکالنے پر مزاحمت کرتا ہے
  • دودھ پانی دار، بدبودار، خون آلود، جھاگ دار یا لوتھڑوں والا ہو سکتا ہے
  • جانور کو بخار، کمزوری اور بھوک میں کمی ہو سکتی ہے

تشخیص کے لیے دودھ کو فوراً کسی نزدیکی لیبارٹری میں چیک کروائیں

گھریلو سطح پر سرف سے تشخیص

سوزشِ تھن کی ابتدائی پہچان کے لیے سادہ سرف ٹیسٹ گھر پر بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے ایک چمچ سرف کو سو ملی لیٹر پانی میں اچھی طرح حل کریں۔ اب اس محلول میں سے پانچ ملی لیٹر لیں اور اس میں پانچ ملی لیٹر دودھ شامل کریں۔ دونوں کو آہستہ آہستہ ہلائیں۔ اگر دودھ گاڑھا ہو جائے یا پیسٹ جیسی شکل بنا لے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ تھن میں خرابی یا سوزش موجود ہے۔

علاج اور انتظام

  • متاثرہ جانور کو فوراً دوسرے جانوروں سے الگ کریں
  • مستند ویٹرنری ڈاکٹر کے مشورے سے اینٹی بائیوٹک یا دیگر ادویات استعمال کریں
  • متاثرہ تھن کا دودھ استعمال نہ کریں اور محفوظ طریقے سے ضائع کریں
  • تھن کی صفائی اور صاف و خشک ماحول فراہم کریں
  • دودھ نکالنے سے پہلے اور بعد میں ہاتھوں اور تھنوں کی صفائی لازمی کریں
  • غلط دودھ نکالنے کے طریقوں اور سخت رویے سے تھن کو زخمی ہونے سے بچائیں

بچاؤ اور احتیاطی تدابیر

  • باڑے اور رہائشی جگہ کو صاف، خشک اور ہوادار رکھیں
  • دودھ دوہتے وقت احتیاط کریں اور زیادہ دیر تک دودھ نہ نکالیں
  • دودھ دوہنے سے پہلے اور بعد میں تھن کو جراثیم کش محلول سے صاف کریں
  • ویٹرنری ہدایات کے مطابق ویکسینیشن اور حفاظتی اقدامات پر عمل کریں
  • متوازن خوراک دیں تاکہ جانور کی قوتِ مدافعت مضبوط رہے
  • سوزشِ تھن کی ابتدائی علامات پر فوری توجہ اور درست علاج سے دودھ کی پیداوار برقرار رکھی جا سکتی ہے اور مویشی کو مستقل نقصان سے بچایا جا سکتا ہے۔

 

حیوانے کو چوٹ لگ گئی ہے، ٹھنڈا پانی یا برف لگائیں یا ٹکور کریں، بچوں کو حیوانے سے دودھ نہ پینے دیں، تاکہ بار چوسنے سے خون جاری ہو سکتا ہے، علاج شفا خانہ حیوانات سے کرائیں۔

 

منہ کھر بیماری جراثیمی بیماری ہے جس کی وجہ سے جانور کے منہ کھر اور تھنوں پر چھالے بن جاتے ہیں، جس کیلئے لال دوائی (پوٹاش) پانی میں ملا کر زخم دھوئیں اور بورو گلیسرین منہ میں لگائیں فوراً ویکسین کروائیں نزدیکی شفا خانہ سے رابطہ کریں۔

 

صفائی کا خاص خیال رکھیں، تھنوں کو دودھ دوہنے سے پہلے خوب صاف کر لیں، انگوٹھا سے دودھ نہ نکالیں، پولی فیکس کریم زخموں پر لگائیں، تھنوں کو دوھ دوہنے سے پہلے اور بعد میں انٹی سیپٹک دوائی میں ڈبوئیں۔