گرومنگ سے جسم میں خون کی گردش بڑھ جاتی ہے۔ جانور چست و چالاک اور چاک و چوبند ہوجاتاہے۔ ہاتھ پھیرنے سے جسم پر موجود چچڑیوں کا پتہ چل جاتا ہے اور جانور چچڑیوں کے حملہ سے محفوظ ہوجاتا ہے۔ اس سے تند مزاج جانور نرم مزاج اور تابعدار بن جاتا ہے۔ جانور ایک دوسرے سے لڑنا جھگڑنا چھوڑ دیتے ہیں۔
گرومنگ کرنے سے جانور کو بھوک زیادہ لگتی ہے اور چارہ شوق سے کھاتا ہے۔ اس سے جانور کی بے چینی ختم ہوتی ہے۔ گرومنگ کرنے سے مالک اور جانور میں ایک رشتہ اور نیٹ ورک پیدا ہوجاتا ہے۔ جس سے جانور انسان کا دوست بن جاتا ہے۔ نر جانور جو ملائی کیلئے رکھے جاتے ہیں ان کی گرومنگ کرنے سے ان میں ملائی کا جذبہ بڑھ جاتاہے اور زیادہ چست و چالاک ہوجاتے ہیں۔ گرومنگ کرنے سے جانور جگالی زیادہ کرتاہے اور جلدی ویگ میں آجاتے ہیں۔ گرومنگ کرنے سے مادہ جانوروں میں بار آوری آجاتی ہے۔
ہر سال مارچ۔اپریل میں جانوروں کے بال اتروا دینے چاہئیں۔ بال اتروانے سے جانور کی جلد کی بیماریوں کا پتہ لگایا جاسکتا ہے۔ بالوں میں چھپے ہوئے چچڑ، جوئیں، لیکھیں وغیرہ کا پتہ چلایا جاسکتا ہے اور بروقت علاج کیا جاسکتا ہے۔ بال اتروانے سے گردش خون میں اضافہ ہوتا ہے اور جانور گرمیوں میں پسینہ کی بدبو سے بچ جاتاہے۔ بال اتروانے سے نئے بال نکل آتے ہیں جو ملائم دیدہ زیب اور چمکدار ہوتے ہیں۔ بالاتروانے کے بعد مالک اپنے جانور پر آسانی سے ہاتھ پھیر سکتا ہے اور گرومنگ کر سکتا ہے اور ایسا کرنے سے جانور کے جسم سے گردوغبار اور مختلف جڑی بوٹیوں کے کانٹوں سے نجات مل جاتی ہے۔
سینگ کا زخم بہت دیر بعد مندمل ہوتا ہے اور انفکشن دماغ تک چلا جاتا ہے جس سے موت واقع ہوسکتی ہے۔ سینگ کے زخم میں کیڑے پیدا ہوجاتے ہیں۔ جانور سینگوں سے آپس میں لڑتے ہیں۔ جانور دوسرے جانور کے پیٹ میں سینگ ماردے تو ہر نیا ہوجاتاہے۔ جانور دوسرے جانور کی آنکھ میں سینگ مار دے تو آنکھ ضائع ہوجاتی ہے۔ جانوروں کے سینگ بعض مرتبہ ٹیڑھے ترچھے ہوتے ہیں جو بدصورتی پیدا کرتے ہیں۔ شریر جانور انسانوں کو سینگوں سے ماردیں تو زندگی موت کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ سینگ والے جانور کی قیمت میں کمی آ جاتی ہے لہذا جانوروں کی Dehorning ضروری ہے۔
اس سے کسان کو درج ذیل فوائد حاصل ہوتے ہیں۔
- بغیر سینگ والا جانور پرکشش اور خوبصورت ہو جاتا ہے۔ بغیر سینگ والا جانور کسی دوسرے جانور یا انسان کو زخمی نہیں کرسکتا۔
- بغیرسینگ والے جانور چراگاہوں میں آسانی سے گھوم پھر کر چرائی کر سکتے ہیں۔
- بغیر سینگ والے جانور کی قیمت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
- بغیر سینگ والے جانور کو بچے اور عورتیں آسانی سے باندھ اور کھول سکتے ہیں۔
کھر میں ایڑی، پنجہ اور کھر کی بیرونی دیوار شامل ہوتی ہے۔ سال میں2سے3مرتبہ جانوروں کے کھروں کو تراشنا ضروری ہے۔ کھر نہ تراشے جائیں تو جانوروں کو چلنے، پھرنے، اٹھنے، بیٹھنے میں دشواری ہوتی ہے۔ جانوروں کے کھروں کو نہ تراشا جائے تو فٹ راٹ(پائوں کا نچلا حصہ گل سڑ جانا)اور فٹ سکیلڈ ہو جاتا ہے۔ اس سے لنگڑا پن بھی ہو جاتا ہے اور جانوروں کے جوڑوں پر سوزش اور ٹنڈن کے کھچائو کے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ کیچڑ اور گیلی جگہ پر رہنے والے جانور کے کھر بہت جلد بیماری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایڑی اور پنجے والے حصے کو تراشا جاتا ہےجبکہ بیرونی دیوار کو نہیں تراشا جاتا۔ آہستہ آہستہ تھوڑا سا تراشیں بہت زیادہ حصہ تراشنے سے خون جاری ہو جائے گا۔ دو انگلیوں کے درمیانی حصہ کو برابر کریں اور درمیان میں پھنسی ہوئی کوئی چیز یا خرابی نکال دیں۔ اگر جانوروں کے کھروں کو نہ تراشا جائے تو حیوانہ اور تھنوں کو زخمی کر دیتے ہیں۔
براڑے میں نمک ڈالنے کے مندجہ زیل فوائد ہیں
- جانور اپنی ضرورت کے مطابق نمک چاٹ لیتے ہیں
- ہاضمہ بہتر ہوتا ہے اور خوراک مؤثر طریقے سے استعمال ہوتی ہے
- جسم میں نمکیات اور معدنیات کی کمی پوری ہوتی ہے
- کمزوری اور مٹی یا دیواریں چاٹنے جیسی عادات سے بچاؤ ہوتا ہے
- دودھ کی پیداوار متاثر نہیں ہوتی بلکہ برقرار رہتی ہے
- جانور مجموعی طور پر صحت مند اور متحرک رہتے ہیں
گائے، بھینسیں اس علاقے کی آب وہوا اور نسل کے مطابق پالیں، نیلی راوی بھینس، ساہیوال گائیں قابلِ ذکر ہیں۔
نئے آنے والے جانوروں کو کم از کم 10 دن کے لیے علیحدہ جگہ پر رکھیں، تاکہ ان کی صحت کا بغور مشاہدہ کیا جا سکے۔ اس دوران یہ دیکھا جائے کہ جانور میں کسی بیماری کی علامات، جیسے بخار، اسہال، کھانسی، ناک یا آنکھوں سے رطوبت، یا کمزوری تو ظاہر نہیں ہو رہی۔ علیحدگی کا مقصد ممکنہ بیماریوں کو دوسرے جانوروں تک پھیلنے سے روکنا ہے۔ اگر اس مدت میں جانور مکمل طور پر صحت مند ثابت ہو جائے، تو اسے آہستہ آہستہ باقی جانوروں کے ساتھ شامل کیا جا سکتا ہے۔
خاص احتیاط کی ضرورت ہے، زیادہ خوراک نہ دیں، نرم خوراک دیں، نرم اور ہوا دار جگہ پر باندھیں، پانی دن میں کئی بار پلائیں۔
جانور کو غور سے دیکھیں، ناک سے رطوبت والا جانور نہ خریدیں، آنکھوں سے پانی جسم پر چیچڑ، پتلا گوبر، کھانسی، منہ سے رال، پاوں سے لنگڑا، خارش زدہ اور سُست جانور کے قریب نہ جائیں، وہ بیمار ہوگا۔
جانوروں کو بجلی کی تاروں کے قریب نہ باندھیں، خشک جگہ پر باندھیں، حفاظتی ٹیکہ جات لگوائیں، بار بار پانی پلائیں، مکھیوں، مچھروں سے بچانے کیلئے سنوبر کے پتوں کا دھواں دیں، سبز چارہ کھلائیں، سایہ دار درختوں کے نیچے باندھیں، پانی بار بار پلائیں خشک جگہ پر رکھیں۔
جانور کی زبان ہرگز نہ پکڑیں، ڈرنچنگ گن کا استعمال کریں، آہستہ آہستہ پلائیں، جانور کے وزن کے مطابق پلائیں۔
جانوروں کی کمزوری کے حوالے سے سوال جواب
جانوروں کی کمزوری پر توجہ نا دی جائے تو بیماریوں اور معاشی نقصان کا سبب بنتی ہے۔ جانوروں کے کمزور ہونے کی بنیادی وجوہات درج ذیل ہو سکتی ہیں:
- اندرونی اور بیرونی کرم (کیڑے، چیچڑ، جوئیں) خوراکی اجزاء کو جسم میں جذب نہیں ہونے دیتے جو کمزوری کا باعث بنتے ہیں۔
- متوازن خوراک اور صاف پانی کی کمی۔ آئیوڈین کی کمی۔
- کیلشیم، فاسفورس اور دیگر منرلز کی کمی۔ گائے اور بھینس میں، خاص طور پر بچے دینے کے بعد اور زیادہ دودھ دینے والے جانوروں میں کیلشیم کی کمی عام ہوتی ہے، جس سے کمزوری اور دودھ کی کمی ہو سکتی ہے۔
- شیڈ میں نمی اور گندگی کمزور اور کم عمر جانوروں کو بیمار کر دیتی ہے۔ مسلسل بیماری یا پرانی کمزوری جس پر بروقت توجہ نہ دی جائے۔ گائے اور بھینس میں نم شیڈ کی وجہ سے تھن کی سوزش (Mastitis) اور کھروں کی بیماری کا زیادہ احتمال ہوتا ہے۔
حل اور احتیاطی تدابیر
- جانوروں کو کرم کش ادویات باقاعدگی سے پلائیں
- جانوروں کو متوازن خوراک (ونڈا) دیں جس میں توانائی، پروٹین اور فائبر مناسب مقدار میں موجود ہوں۔
- نمک اور منرل مکسچر لازمی خوراک کا حصہ بنائیں تاکہ کیلشیم اور دیگر معدنیات کی کمی پوری ہو سکے
- شیڈ کا فرش خشک اور صاف رکھیں، نمی سے بچائیں
- جانور کو صاف اور وافر پانی ہمہ وقت دستیاب ہونا چاہیے
- کمزور جانوروں اور بچھڑوں پر خصوصی توجہ دیں
کمزوری اور لاغرپن کے ساتھ کھانسی، حل
فضلہ چیک کروائیں پھیپھڑوں کے کیڑوں کی دوا پلوائیں ڈی سی پی اور ٹانک دیں۔ متوازن خوراک دیں، آئیوڈین کی کمی کو دُور کرنے کیلئے آیوڈین ملا نمک یا خوراک میں دیں۔
اگر جانور سُست نظر آئے، کمزور ہو جائے، آنکھوں اور منہ کی جھلی پیلی دکھائی دے (یرقان) یا جوڑوں پر سوجن اور درد محسوس ہو تو یہ عموماً اس بات کی علامت ہے کہ جانور کے جسم میں اندرونی کرم (Internal Parasites) موجود ہیں۔ یہ کرم جانور کے خون اور خوراک کے اجزاء استعمال کر لیتے ہیں، جس کے نتیجے میں جانور میں خون کی کمی، قوتِ مدافعت میں کمی اور سستی پیدا ہو جاتی ہے۔
اندرونی کرم جگر کو بھی متاثر کر سکتے ہیں، جس سے یرقان (Jaundice) پیدا ہوتا ہے، جبکہ مسلسل کمزوری اور غذائی کمی کی وجہ سے جوڑوں پر ورم اور درد بھی ہو سکتا ہے۔
جانور کو فوراً مناسب کرم کش ادویات پلائیں ساتھ آئرن، وٹامنز اور منرل مکسچر اور متوازن خوراک، نمک اور صاف پانی دیں۔
جانور کو بالٹ کی کمی ہے وٹامنB-12کا ٹیکہ لگائیں۔
جوار کے کھیت میں اگر پانی کی کمی ہو جائے یا گھاس کو بروقت آبپاشی نہ دی جائے تو جوار کی گھاس اور کٹائی کے بعد نکلنے والی پُٹھار(کاٹنے کے بعد جو چارہ نکلتاہے) میں ایک خاص زہریلا مادہ پیدا ہو جاتا ہے۔ ایسی صورت میں اگر جانور اس کھیت میں چر لیں یا پُٹھار کھا لیں تو وہ کانپنے لگتے ہیں، بیمار ہو جاتے ہیں، پٹھہ لگ جاتا ہے اور بعض اوقات اچانک اموات بھی ہو سکتی ہیں۔ اس سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ جوار کے کھیت کو بروقت پانی دیا جائے، زمین کو خشک نہ ہونے دیا جائے اور ایسے کھیت میں ہرگز چرائی نہ کروائی جائے جہاں دیر سے پانی دیا گیا ہو یا پھوٹ کا پانی نہ لگا ہو۔ اگر جانور بیمار ہو جائیں تو فوراً انہیں کھیت سے نکال لیں، لسی یا گُڑ کا شربت پلائیں اور Atropine کا ٹیکہ ماہر امراضِ حیوانات سے لگوائیں۔ پٹھہ لگ جانے کی صورت میں بھی فوری طور پر ویٹرنری ڈاکٹر سے رجوع کر کے جانوروں کا بروقت علاج کروانا انتہائی ضروری ہے۔
گلہڑ عموماً آئیوڈین کی کمی کی وجہ سے ہوتا ہے، اس کمی کو پورا کرنے کے لیے جانوروں کو آیوڈین ملا نمک باقاعدگی سے دینا چاہیے۔ جبکہ جبڑے کے نیچے پانی جمع ہونا، جسے عام زبان میں "بوتل جبڑا" بھی کہا جاتا ہے، زیادہ تر جگر کے کیڑوں (liver flukes) کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس صورت میں قریبی جانوروں کے ہسپتال سے مناسب دوا دلوانا ضروری ہے، اور درست تشخیص کے لیے جانوروں کے فضلے کا لیبارٹری ٹیسٹ کروانا چاہیے تاکہ کیڑوں کی موجودگی کی تصدیق ہو سکے۔
موسمِ بہار میں کترائی کروائیں، کترائی کروانے سے ملائی کا رجحان بھی زیادہ ہو جاتا ہے۔
آکڑا (Ketosis) ایک میٹابولک بیماری ہے جو زیادہ تر دودھ دینے والی گایوں میں لاحق ہوتی ہے۔ یہ بیماری جسم میں گلیسرینGlycerol کی کمی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے اور جانور کی صحت اور دودھ کی پیداوار پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔
علامات
گائے اکڑ جاتی ہے، چارہ کم کھاتی ہے اور اٹھنے بیٹھنے میں دشواری پیش آتی ہے۔ اگر ابتدائی علامات نظر انداز کی جائیں تو جانور کی توانائی کی کمی مزید بڑھ جاتی ہے اور دودھ کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔
علاج اور احتیاطی تدابیر
آکڑا کے علاج کے لیے گلیسرین دودھ میں ملا کر پلائیں
25%ڈیکسٹروز گائے/بھینس1000mlنس میں لگائیں
جانور کو متوازن خوراک اور منرل مکسچر فراہم کریں۔ ابتدائی علامات ظاہر ہوتے ہی قریبی شفا خانۂ حیوانات سے رجوع کریں
مکھ (لوکل نام)یا ڈینگی مکھی برسات کے موسم میں آتی ہے جانور کا جینا دوبھر کر دیتی ہے۔ ایسی صورت میں جانوروں کے نزدیک دھواں لگائیں، نیم کے پتے، صنوبر کے پتے، گوبر کے آبلے کا دھواں لگائیں، ٹرآئی کلورو فان کا سپرے لائیو سٹاک کے عملے سے کروائیں۔
ڈڈ مکھی (لوکل نام) جسامت میں موٹی ہوتی ہے اور عموماً چیت کے مہینے میں زیادہ ظاہر ہوتی ہے۔ یہ مکھی جانوروں کا خون چوستی ہے جس کے باعث جانور کمزور ہو جاتا ہے۔ یہ مکھیاں سخت گرمی میں نسبتاً کم جبکہ ٹھنڈے اوقات، خصوصاً صبح اور شام کے وقت زیادہ حملہ آور ہوتی ہیں۔
بچاؤ اور علاج:
مکھیوں کے کنٹرول کے لیے Ivermectin کا ٹیکہ زیرِ جلد لگوائیں۔ جانور کو پنکھے کے سامنے باندھیں تاکہ مکھیاں قریب نہ آئیں۔ باڑے اور اردگرد کی جگہ صاف رکھیں، مکھیوں کو بھگانے کے لیے مناسب سپرے استعمال کریں اور ضرورت کے مطابق دھواں دیں تاکہ مکھیوں کی افزائش روکی جا سکے۔
جب جانور کے منہ اور ناک کی جلد خشک، کھردری یا متاثر ہو جائے تو بال جھڑنے لگتے ہیں، جانور بار بار منہ اور ناک زمین پر رگڑتا ہے، جس سے زخم بن جاتے ہیں۔ اگر بروقت توجہ نہ دی جائے تو ان زخموں میں کیڑے بھی پڑ سکتے ہیں۔
علاج اور دیکھ بھال:
- جلد کی خشکی دور کرنے کے لیے گلیسرین اور جیشن وائٹ باقاعدگی سے لگائیں
- زخموں پر سرسوں کا تیل اور بورک ایسڈ ملا کر لگائیں تاکہ جراثیم ختم ہوں
- شدید خشکی اور خراش کی صورت میں ویزلین اور زنک آکسائیڈ مرہم مفید ہے
- اگر زخم میں کیڑے پڑ گئے ہوں تو پہلے انہیں احتیاط سے نکالیں
- بعد ازاں کاربولک ایسڈ کو سرسوں کے تیل میں ملا کر متاثرہ جگہ پر لگائیں تاکہ دوبارہ انفیکشن نہ ہو
- جانور کو صاف اور خشک جگہ پر رکھیں اور مکھیاں دور رکھنے کا بندوبست کریں
اگر زخم بڑھ جائیں یا ٹھیک نہ ہوں تو فوراً قریبی شفاخانہ حیوانات سے رجوع کریں۔
جانوروں میں اہم تکالیف پیدا ہونے پر فوری ابتدائی طبی امداد کی ضرورت ہوتی ہے۔
- سانس لینے میں دقت:
اگر جانور سانس لینے میں مشکل محسوس کرے، مثلاً گل گھوٹو یا نوزائیدہ بچوں میں سانس کی دشواری، تو نوزائیدہ بھیڑ کے نتھنوں اور منہ کے ذریعے سانس دینے میں مدد کریں، پسلیاں ہلکے دباؤ سے حرکت دیں، آکسیجن فراہم کریں، دھواں، دھول اور گھٹن سے بچائیں، اور بھیڑ کے لیے کھلا اور کشادہ ماحول مہیا کریں۔ - خون کا بہنا:
خون آنے والی جگہ پر دباؤ ڈالیں، خون بہنے والے حصے کو اونچا رکھیں، زخم کے پیچھے کپڑا باندھیں، ضروری ہو تو ٹنکچر یا سوتی ٹانکے لگوائیں۔ بیماری کی نوعیت کے مطابق علاج کریں اور قریبی شفا خانہ حیوانات سے مدد لیں۔ - جل جانا (Burns):
اگر جانور جل جائے، فوراً ٹھنڈا پانی ڈالیں، چونے کے پانی یا تیل متاثرہ جگہ پر لگائیں، زیادہ سے زیادہ پانی پلائیں، پانی میں نمک، میٹھا سوڈا یا شہد ملا کر بھی پلایا جا سکتا ہے۔ - لُو لگنا (Heat Stroke):
سر پر ٹھنڈا پانی ڈالیں، جسم پر پانی چھڑکیں، O.R.S پلائیں، کھلی جگہ پر رکھیں، پنکھا لگائیں، اور پانی میں گلوکوز ملا کر دیں۔
