اونٹ، پاکستان کی ابھرتی ہوئی برآمدی جنس
پاکستان میں اونٹوں کا شعبہ برآمدی لحاظ سے بہت زیادہ امکانات رکھتا ہے، خصوصاً ویلیو ایڈڈ مصنوعات جیسے کہ اونٹ کے دودھ کا پاؤڈر۔ پاکستان اکنامک سروے 2024–25 کے مطابق ملک میں اونٹوں کی تعداد تقریباً 12 لاکھ ہے، جس کی بدولت پاکستان دنیا کے اونٹ رکھنے والے بے ممالک میں شامل ہے۔ اونٹ چولستان، تھر اور بلوچستان جیسے خشک اور نیم خشک علاقوں میں کم لاگت پر پرورش پاتے ہیں، جہاں دیگر مویشیوں کی پیداوار محدود ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ اونٹ کے گوشت اور دودھ سے بنی مصنوعات برآمدی نقطۂ نظر سے معاشی طور پر موزوں ہیں۔
سن 2025 میں اس حوالے سےایک اہم پیش رفت کرتے ہوئ جب پاکستان نے پہلی مرتبہ اونٹ کے دودھ کا پاؤڈر چین برآمد کیا، جو عالمی کیمل ڈیری مارکیٹ میں پاکستان کے داخلے کی واضح علامت ہے۔ اونٹ کے دودھ کے پاؤڈر کی بین الاقوامی سطح پر مانگ تیزی سے بڑھ رہی ہے کیونکہ اس میں موجود انسولین نما پروٹین، وٹامنز اور معدنیات اسے ذیابیطس اور لیکٹوز سے حساس افراد کے لیے موزوں بناتے ہیں۔ چین، خلیجی ممالک اور یورپ کی صحت بخش غذاؤں کی مخصوص مارکیٹیں اس کی اہم خریدار ہیں، جہاں یہ مصنوعات اعلیٰ قیمت پر فروست ہوتی ہیں۔
دودھ کے علاوہ پاکستان سے اونٹ کے گوشت کی برآمدات بھی ہو رہی ہیں، جن کی حالیہ دستیاب معلومات کے مطابق تقریباً 568 ٹن گوشت برآمد کیا گیا جس کی مالیت لگ بھگ 2.7 ملین امریکی ڈالر رہی۔ اگرچہ موجودہ برآمدی حجم محدود ہے، تاہم اصل موقع پروسیسنگ، معیار کی تصدیق اور برانڈنگ میں موجود ہے۔ اگر اونٹ کے دودھ کے پاؤڈر اور دیگر مصنوعات کے لیے جدید پروسیسنگ یونٹس اور صحت کے عالمی معیارات اپنائے جائیں تو اونٹ پاکستان کے لیے ایک اعلیٰ قدر کی برآمدی جنس بن سکتا ہے، نہ کہ صرف ایک روایتی مویشی۔
پاکستان میں اونٹوں کی افزائش اور برآمدی صلاحیت
پاکستان کی زرعی معیشت میں اونٹ کا کردار ایک خاص اہمیت کا حامل ہے۔ دور دراز صحرائی علاقوں میں رہنے والے اور خانہ بدوش لوگ اُونٹ کا دودھ اور اس سے بنی اشیاء ( دہی وغیرہ ) بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اُونٹ سے کنوؤں سے پانی کھینچنے ، بیجوں سے تیل نکالنے، گندم، مکئی ، اناج کو پیسنے اور گنے سے رس نکالنے کا کام لیا جاتا ہے۔ مزید براں اُونٹ کو سامان کی نقل و حمل اور کھیتوں میں بطور ہل چلانے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ ساز و سامان کی نقل و حمل کرنے والے اونٹ آسانی سے 300 کلو تک وزن دور دراز علاقوں تک 30 کلومیٹر فی دن کی شرح سے لے کر جاتے ہیں۔ اس طرح وہ مختلف زرعی کاموں کے لئے اور چھوٹے کاشتکاروں اور خانہ بدوشوں کی وابستہ نقل و حمل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے تقابلی طور پر سستا ذریعہ ہیں۔ وہ اُونٹ جن کو سواری ، رینگ ، رقص، گشتی یا کرتب انجام دینے کی تربیت دی جاتی ہے ، ان کی قیمت عام اُونٹ کی قیمت سے نسبتاً دو سے چار گنا زیادہ ہوتی ہے۔ اونٹ اس کی پرورش میں ملوث افراد کی معیشت کو بہتر بنانے میں بے حد مددگار ثابت ہو سکتا ہے، بشرطیکہ وہ اپنے روایتی نظم و نسق کے نظام کو جدید طریقوں اور اپنے جانوروں کی صحت کی دیکھ بھال کو بہتر کریں۔ مقامی اونٹ زیادہ تر مشکل اور خشک سالی سے متاثرہ سوکھے علاقوں اور پہاڑی علاقوں میں حیرت انگیز طور پر کم آمدنی کے ساتھ خانہ بدوشوں کے ساتھ زندہ رہ کر معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں جہاں دوسرے مویشیوں کی طویل مدتی بقا ممکن نظر نہیں آتی ہے۔
اُونٹ کی خصوصیات
اونٹ میں گرمی اور پانی کے بغیر رہنے کی غیر معمولی طاقت موجود ہوتی ہے۔ اُونٹ اپنے جسمانی درجہ حرارت کو کافی حد تک تبدیل کر سکتا ہے۔ اونٹ کے سینگ نہیں ہوتے اور اس میں پتہ بھی نہیں ہوتا۔ اس میں صحرا کے طویل راستے طے کرنے کی انوکھی صلاحیت ہے اور اسی وجہ سے اسے "صحرا کا جہاز" کہا جاتا ہے۔ اونٹ ایک سخت جانور ہے، نسبتا کم کھاتا ہے، مختصر وقفوں کے لئے نیند کرتا ہے اور دیر پا یاداشت رکھتا۔ کہا جاتا ہے کہ اسے کسی بھی قسم کا غیر معمولی سخت سلوک یا درہتا ہے جیسا کہ اس کے نگراں یا سوار کی طرف سے بھاری مار پیٹ پڑتی ہے تو یہ مناسب وقت پر انتقام بھی لیتا ہے۔ جب اُونٹ غصے میں ہوتا ہے تو یہ اپنے منہ سے سبز رنگ کی تھوک پھینکتا ہے۔ اونٹ کے پاؤں صحرا کی نرم سے مٹی پر پھیل جاتے ہیں اسی لیئے مٹی کے اندر دھنستے نہیں ہیں۔ اُونٹ کی آنکھوں کی پلکوں کی دو دو قطاریں ہوتی ہیں جو کہ صحرا میں آنکھوں کو مٹی سے بچاتی ہیں۔ کوہان کے اندر چربی ہوتی ہے جو کہ خوراک کی قلت کی صورت میں اونٹ میں قدرتی طور پر غذائی ضرورتیں پوری کرتی ہے۔
اُونٹ کی نسلیں
بنیادی طور پر پوری دنیا میں اونٹ کی دو اقسام ہیں۔
- کوہان والے اُونٹ اور
- بغیر کوہان والے اُونٹ ۔
بغیر کوہان والے اونٹوں میں الاما، الپاکا ، دیکو نا اور گوانیکو شامل ہیں ۔ کوہان والے اونٹ کی بھی دو اقسام ہیں۔ ایک کوہان والے اُونٹ جنہیں ڈرومیڈری(Dromedary) بھی کہا جاتا ہے اور دو کوہان والے اونٹ جنھیں (Bactrian) بھی کہا جاتا ہے۔
خوراک
اونٹ اپنی غذائیت کی ضروریات کیلئے دوسرے مویشیوں سے مقابلہ نہیں کرتے کیونکہ یہ زیادہ تر درختوں اور جھاڑیوں کے سب سے اوپر والے حصے کو نوش کرتے ہیں۔ اونٹ اپنی لچکدار لمبی گردن لمبی ٹانگوں اور اوپری ہونٹوں میں شگاف کی وجہ سے چرنے کے بجائے جھاڑیوں اور درختوں کی اوپر والے حصوں کو کھاتے ہیں۔ دوسرے جگالی کرنے والے جانوروں کے برعکس اُونٹ کے جبڑوں میں نوکیلے دانتوں کے جوڑے موجود ہوتے ہیں۔ یہ نوکیلے دانت درختوں کی ٹہنیوں کو پکڑنے اور کھینچ کر الگ کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ گالوں کے اندر پیچھے کی سمت طویل مخروطی اُبھار موجود ہیں ، اس وجہ سے اونٹ بغیر کسی نقصان کے کانٹے دار پودوں کو کھا سکتا ہے۔
اُونٹ کو ایک دم سے اناج نہیں کھلانا چاہیئے اگر وہ اس کا عادی نہیں ہے۔ اونٹ کو زیادہ عرصہ بھوکا نہ رکھیں کیونکہ اس سے پیٹ کی حرکت اور خوراک کو چبانے کی حرکت ختم ہو جاتی ہے۔ طویل تھکن والے سفر کے بعد اناج یا بھوسہ نہیں کھلانا چاہیئے ، خاص کر اگر بغیر کھانا اور پانی کے سفر کیا گیا ہو۔ اس سے پیٹ میں شدید درد اور بند پڑنے کی وجہ سے اُونٹ مرسکتا ہے۔ تھکاوٹ کے بعد اُونٹ کو تھوڑی مقدار میں آٹا شیرے میں ملا کر دیں اور 1 سے 2 لیٹر پانی دیں اور پھر آدھے گھنٹے بعد معمول کی خوراک دیں ایک وقت میں پانی 10 لیٹر سے زیادہ نہیں دینا چاہیئے ۔
اگر اونٹ کو ان کی پسند کے مطابق خوراک دی جائے خاص طور پر سبز چارہ جیسا کہ لوسرن یا جوار تو وہ ضرورت سے زیادہ کھا لیتا ہے جس کی وجہ سے اپھاڑہ اور پیٹ میں شدید درد شروع ہو جاتا ہے۔ اسی لیے ایسا چارہ تھوڑی مقدار میں دینا چاہیئے ۔ اُونٹ کو بھاری خوراک دینے کے فوراً بعد تیز رفتار سواری کے لیے نہیں لیجانا چاہیئے کیونکہ اسے اپھاڑہ اور پیٹ میں درد ہو سکتا ہے۔ اونٹ اس جگہ پر بہترین پنپتا ہے جہاں اسے اپنی ابتدائی زندگی میں پالا گیا ہو، کیونکہ وہ مقامی جھاڑیاں اور بیتیاں کھانے کا عادی ہو جاتا ہے۔ اگر اسے اپنے آبائی علاقے سے دور لے جایا جاتا ہے تو اسے پہلے تو احتیاط سے کھانا کھلایا جانا چاہئے جب تک کہ وہ نئے پودوں کو کھانے کا عادی نہ ہو جائے۔ ورنہ اسے ہاضمے کے مسائل ہو سکتے ہیں۔ اگر کرلی میں خوراک نہیں دی جا رہی تو اونٹوں کو روزانہ کم از کم 8 سے 10 گھنٹے چرانے براؤز کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اونٹ کو اناج اور بیج ، خاص طور پر جو ، چنے ، کپاس وغیرہ کچل کہ پانی میں 6 گھنٹے تک بھگونے کے بعد ہی کھلانا چاہیئے ۔ اس سے اونٹ اناج اور بیج سے بھر پور فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ اگر اسے چرایا نہیں جارہا تو اونٹ کو روزانہ شام میں نمک اور خوراک دینی چاہیئے۔
پانی کی ضروریات
اونٹ کو روزانہ 20 لیٹر تک پانی نباتاتی خوراک سے حاصل ہوتا ہے۔ ہر موسم میں کچھ نمکین جھاڑیوں میں 80 فیصد تک پانی ہوتا ہے۔ اونٹ نمکین جھاڑیاں شوق سے کھاتا ہے۔ ایسے پودے عام طور پر خشک سالی میں بھی زندہ رہ سکتے ہیں۔ موسم گرما میں اونٹ ہفتے میں ایک بار ، موسم بہار اور خزاں میں ہر سات سے دس دن اور سردیوں میں ہر تین سے چار ہفتوں میں پانی پیتا ہے۔ اونٹ بغیر پانی پیے بیس سے تیس دن میں ایک ہزار کلومیٹر سفر کر سکتا ہے۔ اُونٹ کھارا پانی پی کر اپنی پیاس بجھا سکتا ہے۔ اونٹوں کو روزانہ کے حساب سے 30 سے 40 لیٹر پانی دینا چاہیئے ۔ اُونٹ گائے کے مقابلے میں صرف 10 فیصد پانی کم پیتا ہے۔ دو دھیال اونٹنی کو دودھ نہ دینے والوں سے زیادہ پانی درکار ہوتا ہے۔
اُونٹ اپنے جسم میں پانی جمع نہیں کرتا بلکہ پانی کو جسم سے ضائع ہونے سے بچاتا ہے۔ جسمانی خصوصیات اونٹ کو پانی کے تحفظ میں مددفراہم کرتی ہیں۔ جب اُونٹ کو پینے کا پانی نہیں ملتا تب یہ اپنے پیشاب کو گاڑھا کر دیتا ہے اور پیشاب میں موجود نائیٹروجن کو دوبارہ استعمال کرتا ہے۔ بڑے پیشاب کے اندر پانی کی مقدار بھی کم ہو جاتی ہے۔
تولید
نر 5 سال کہ عمر میں اور مادہ 3 سال کی عمر میں بالغ ہوتے ہیں۔ اونٹوں میں ویگ کا ایک مخصوص موسم ہوتا ہے۔ عمومی طور پر پاکستان میں دسمبر سے مارچ تک کے مہینوں میں یہ موسم آتا ہے۔ ویگ کے موسم میں نراونٹ کے منہ کے اندر نرم تلوے کی لمبائی بڑھ جاتی ہے اور یہ منہ سے باہر لٹکنے لگتا ہے اور اسے "ڈولا" کہتے ہیں۔ ڈولا ڈرامائی انداز میں منہ کے ایک طرف سے باہر لٹکتا ہوا سرخ رنگ کے غبارے کی طرح نظر آتا ہے اور اس سے جھاگ والی تھوک گرتی رہتی ہے۔ دوکوھان والے اونٹوں میں ڈولا نہیں ہوتا ۔ اُونٹنی و یگ کے عالم میں بے چین ہوتی ہے، مسلسل غرانے کی آواز نکالتی ہے اور نر اونٹ کے پاس جانے کے لیئے آمادہ ہوتی ہے۔ اونٹنی اپنی دُم اُٹھا کر لہراتی رہتی ہے اور پیشاب تھوڑی مقدار میں وقفے وقفے سے کرتی ہے اور اس کی فرج سوجی ہوئی ہوتی ہے اور وہاں سے بدبودار رطوبت جاری رہتی ہے۔ نر اونٹ سر اُٹھا کر منہ کھول کر سونگھتا رہتا ہے۔ اونٹنی چھاتی کے بل زمین پر بیٹھ جاتی ہے اور نر اونٹ ملاپ کرتا ہے۔ حاملہ اونٹنی نر کے لیے زمین پر نہیں بیٹھتی اور اپنی ڈم کو موڑ کر رکھتی ہے۔ نراونٹ کے سر میں کانوں کے درمیان غدود موجود ہوتے رتے ہیں جنہیں " پول گے پول گلینڈ " کہتے ہیں۔ ان غدود سے کالے رنگ کا مواد خارج ہوتا ہے وہ اونٹنی کو جنسی طور پر اپنی طرف آمادہ کرتا ہے۔ یہی مواد باقی نر اونٹوں کو دور رکھنے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اونٹنی میں بیض ریزی کے لیئے نراونٹ سے ملاپ ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مصنوعی نسل کشی اس میں کامیاب نہیں ۔ جدید تحقیق کے تحت مصنوعی نسل کشی سے پہلے گونیڈ وٹراپن ریلیزنگ ہارمون (GnRH) کے ٹیکے لگانے سے حاملہ کیا جا سکتا ہے۔ مختلف قسم کے اونٹوں کے حمل کا دورانیہ مختلف ہے جیسا کہ دو کوہان والوں کا 13 مہینے اور ایک کو ہان والوں کا 15 مہینے۔
نوزائیدہ بچھڑوں کو بوہلی ضرور پلانی چاہیئے ۔
دودھ
اونٹنی کے حیوانے کے چار خانے ہوتے ہیں۔ سامنے والے خانے پچھلے خانوں سے نسبتاً چھوٹے ہوتے ہیں۔ ہر خانے سے ایک دودھ کی نالی نکلتی ہے اور ہر نالی سے دودھ کے لیئے دو سوراخ کھلتے ہیں۔ اونٹ کے دودھ میں غذائی اجزاء گائے کے دودھ کے جتنے اچھے یا اس سے بھی اچھے ہوتے ہیں۔ اُونی کے دودھ میں حیاتین سی (Vitamin c) کی وافر مقدار (انتیس سے چھتیس ملی گرام فی لیٹر دودھ ) موجود ہے جو کہ صحرا کے بنجر علاقوں میں انسانی غذا کے لحاظ سے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اونٹنی کے دودھ میں حیاتین سی (Vitamin c) کی مقدار گائے کے دودھ سے تین گنا زیادہ ہوتی ہے۔ پاکستان میں تقریباً تمام بڑے شہروں میں اونٹنی کا دودھ بیچنے والے قافلے پائے جاتے ہیں۔ اونٹوں کے پالنے والے خانہ بدوش افراد ایک شہر سے دوسرے شہر میں منتقل ہوتے رہتے ہیں اور وہاں اُونٹ کا دودھ بیچتے ہیں۔ اونٹنی کے 250 سے 500 دن تک پیداواری مدت میں دودھ کی پیداوار 900 سے 4000 لیٹر کے درمیان ہوتی ہے۔ مختلف نظاموں میں پالے جانے والی ہر اونٹنی ہر دن اوسط 3 سے 8 لیٹر دودھ دیتی ہے۔ پاکستان میں اونٹنی کو روزانہ 2 سے 4 دفعہ دودھ نکالا جاتا ہے۔ اونٹ سخت ترین ماحول میں بھی دودھ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دوسرے جانوروں کے برعکس اونٹنی کا دودھ سخت ماحول میں پتلا ہو جاتا ہے اور اس میں پانی کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ اسی لیے صحرا کی سخت گرمی میں سفر کرنے کے لیے لوگ دودھ دینے والی اونٹنی ساتھ لے کر جاتے ہیں تا کہ پانی کی قلت کی صورت میں اُونٹنی کے دودھ پی سکیں ۔ گائے کے دودھ کے برعکس اُونٹنی کے دودھ میں چکنائی دودھ کے اوپری سطح میں جمع نہیں ہوتی بلکہ دودھ میں مہلول رہتی رہتی ہے۔ اس وجہ سے یہ چکنائی انسانی جسم میں بہت جلد ہضم ہو جاتی ہے۔ اگر ٹھنڈا رکھا جائے تو اونٹنی کا دودھ ہفتوں تک خراب نہیں ہوتا۔
اونٹنی کے حیوانہ کے تین خانوں سے دودھ لینا چاہیئے اور ایک خانے کو متواتر طور پر بچے کے پینے کے لئے چھوڑ دینا چاہیئے ۔ عموماً دو ہفتوں کی عمر کے بعد بچہ آہستہ آہستہ جھاڑیوں کو کھانا شروع کرتا ہے۔
گوشت
بالغ اُونٹ سے تقریباً 180 سے 300 کلو تک گوشت بمعہ ہڈیوں کا ڈھانچہ حاصل ہوتا ہے ۔ 3 سے 4 سال کی عمر میں ذبح کیئے گئے اُونٹ کے گوشت کا ذائقہ تقریباً گائے کے گوشت کی طرح ہوتا ہے لیکن ہمارے ہاں لوگوں کو یہ ذائقہ پسند نہیں۔ تاہم بہت سی دکانوں پر اس کو قیمے کی شکل میں گائے اور بھینس کے گوشت کے ساتھ ملا کر بیچا جاتا ہے۔ عیدالاضحیٰ کے موقع پر قربانی کے لئے اونٹ کو پسند کرنے والوں کی تعداد ہر سال بتدریج بڑھتی جارہی ہے۔ عید کے موقع پر بنیادی طور پر جوان اونٹ ذبح کرنے پر ترجیح دی جاتی ہے۔
