پاکستان کی نیم گرم اور گرم آب و ہوا چیچڑوں کے لیے نہایت سازگار ہے، اس لیے یہاں چیچڑ جانوروں میں بیماریاں پھیلانے کی بڑی وجہ ہیں۔ یہ بیماریاں ٹک یا چیچڑ کے کاٹنے سے زیادہ پھیلتی ہیں، خاص طور پر گرمیوں میں۔

چیچڑ جانوروں کی صحت کو مندرجہ ذیل طریقوں سے متاثر کرتے ہیں۔

```
  • چیچڑوں کا جسم سے خون چوسنا۔
  • ٹاکسن (جراثیمی مواد) کا جسم میں داخل ہونا۔
  • جانوروں کی کھال، اون اور بالوں کے معیار کو متاثر کرنا۔
  • جانوروں کی قوتِ مدافعت کو کم کرنا۔
  • خون کی بیماریوں کا سبب بننا۔
  • جانوروں کی پیداوار میں کمی۔
  • جانوروں کی اموات۔
```

پاکستان میں ٹک کے ذریعے مختلف بیماریاں پھیلتی ہیں جن میں درج ذیل شامل ہیں:

```

1۔ گلٹیوں یا غدودوں کا بخار (تھائیلیریا)

تھائیلیریا عام طور پر دیسی جانوروں کے مقابلے میں غیر ملکی اور دوغلی نسل کے جانوروں میں زیادہ مہلک ہوتا ہے۔ اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو غیر ملکی نسل کے جانوروں میں 80 فیصد اور دیسی جانوروں میں 20 فیصد تک اموات کی شرح پہنچ سکتی ہے۔

علامات و علاج

  • تیز بخار کا ہونا۔
  • غدودوں یا گلٹیوں (Lymph-nodes) کا پھولنا۔
  • بھوک کی کمی اور وزن میں کمی۔
  • آنکھ پر سفید جھلی۔
  • سنگین حالات میں موت۔

2۔ رت موترا (Babesiosis)

رت موترا کی ایک قسم بابیسیا بھی چیچڑوں کے ذریعے پھیلنے والی بیماری ہے، جس میں پیراسائٹ خون کے سرخ خلیات کو براہِ راست تباہ کر دیتا ہے۔ اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو خون کے خلیات کی بڑے پیمانے پر تباہی کی وجہ سے جانور کی حالت تیزی سے بگڑ سکتی ہے اور جان کا خطرہ بھی ہو سکتا ہے۔ یہ بیماری کم عمر جانوروں کے مقابلے میں بڑے اور بالغ جانوروں کو زیادہ متاثر کرتی ہے۔

علامات و علاج

  • تیز بخار کا ہونا۔
  • پیشاب کا سرخ یا گہرے رنگ کا ہو جانا (خونی پیشاب)۔
  • شدید کمزوری اور خون کی کمی۔
  • بھوک کی کمی۔
  • سستی اور جانور کا لیٹے رہنا، ڈپریشن۔
  • سنگین حالات میں موت۔

Diminazene اور Imidocarb رت موترا کے خلاف موثر علاج ہیں۔

3۔ اینا پلازموسس (Anaplasmosis)

یہ بیماری گائے بھینسوں میں چیچڑیوں اور کئی مرتبہ مچھروں کی وجہ سے پھیلتی ہے۔ اینا پلازما نامی جراثیم خون کے سرخ جرثوموں میں پروان چڑھ کر ایک طرف ان کو تباہ کر کے خون کی کمی اور بخار پیدا کرتا ہے تو دوسری طرف خون بنانے کی صلاحیت کو کم کرتا ہے۔ یہ بیماری دوسری بیماریوں کی نسبت پاکستان میں کم پائی جاتی ہے۔ اس بیماری کے پیدا ہونے کی صورت میں بالآخر جانور کی موت واقع ہو جاتی ہے۔

علامات و علاج

اس بیماری کی طبی علامات میں درج ذیل شامل ہیں:

  • جانور کا کمزور ہونا۔
  • دودھ کی پیداوار میں کمی۔
  • بھوک میں کمی۔
  • بہت تیز بخار۔
  • سانس لینے میں دشواری۔
  • حاملہ جانور کا اسقاطِ حمل۔

Diminazene اور Imidocarb اینا پلازموسس کے خلاف موثر علاج ہیں۔

```

  • طاقت بحال کرنے کے لیے پکے ہوئے گندم کا دلیہ اور سرسوں کا تیل دیں۔
  • ہر ماہ رات کے وقت باڑے میں چیچڑ مار سپرے اور چوہوں کے لیے چھڑکاؤ کریں۔
  • پرانی لکڑی، گوبر کے ڈھیر، کھلی ہوئی اینٹوں اور کھلے شگاف چوہوں کے چھپنے کی جگہیں ہیں، اس لیے سوراخوں کو سیل کر دیں اور غیر ضروری لکڑی، پرانے گوبر اور ملبے کو جانوروں کے باڑے سے دور رکھیں۔
  • لکڑی کے کریٹس کو گرم، ابلتے پانی سے دھوئیں۔
  • جانوروں کو ہر تین ماہ بعد Ivermectin کے ساتھ علاج کیا جانا چاہئے۔