بھیڑ اور بکریوں کی چیچک (Sheep and Goat Pox) ایک انتہائی متعدی وائرل بیماری ہے جو تیزی سے پورے ریوڑ میں پھیل کر وزن، دودھ و گوشت کی پیداوار میں کمی، کھال کے معیار میں خرابی اور اموات کا باعث بنتی ہے، جس سے شدید معاشی نقصان ہو سکتا ہے۔ بیماری بنیادی طور پر جلد اور سانس کی نالی کو متاثر کرتی ہے۔
وائرس مضبوط ساخت کے باعث سخت موسمی حالات میں بھی کافی عرصہ زندہ رہ سکتا ہے۔ خشک پپڑیوں، آلودہ بچھالی، چارہ، پانی کے برتنوں اور باڑے کی دیواروں پر کئی دن تک فعال رہ سکتا ہے، جس سے بیماری کے پھیلاؤ کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
- کم عمر، کمزور، غذائی کمی کا شکار اور زیادہ دودھ دینے والے جانور
- کمزور مدافعتی نظام والے، شدید موسم یا پہلے سے بیمار جانور
- متاثرہ جانور سے براہِ راست رابطہ (جلد کے زخم، ناک/منہ/آنکھ کی رطوبت)
- خون چوسنے والے کیڑے (مکھیاں، مچھر)
- آلودہ چارہ، پانی اور برتن
- زیادہ ہجوم، تنگ جگہ، ناقص وینٹیلیشن اور صفائی
- ویکسینیشن کا فقدان اور غذائی/معدنی کمی
- نئے جانور بغیر قرنطینہ ریوڑ میں شامل کرنا
- ریوڑوں کا آپس میں ملنا — چراگاہوں، منڈیوں، مشترکہ پانی کے تالابوں پر
- بارش کے بعد نمی اور گندگی
- بیماری کی علامات عام طور پر انفیکشن کے چار سے آٹھ دن کے بعد ظاہر ہوتی ہیں۔
- 40-41 ڈگری سینٹی گریڈ تک تیز بخار
- جسم پر سخت دانے، خصوصاً ہونٹوں، ناک، آنکھوں کے ارد گرد، کانوں، تھنوں، دم اور رانوں کے درمیان
- شدید سستی، کاہلی اور کمزوری
- بھوک میں نمایاں کمی
- ناک اور آنکھوں سے پانی یا پیپ کا اخراج
- دودھ کی پیداوار میں واضح کمی
- سانس لینے میں دشواری
- بعض کیسز میں شدید اسہال
- کم عمر بچوں میں یہ بیماری زیادہ شدت اختیار کر لیتی ہے اور شرح اموات 20 سے 50 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔
عملی طور پر اس بیماری کی ابتدائی تشخیص زیادہ تر علامات کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ جسم پر مخصوص دانے، بخار اور سانس کی تکلیف اس بیماری کی واضح پہچان ہیں۔ حتمی تشخیص کے لیے لیبارٹری ٹیسٹ جیسے PCR اور وائرس آئسولیشن کیے جا سکتے ہیں، تاہم دیہی علاقوں میں اکثر علامات کی بنیاد پر ہی علاج شروع کر دیا جاتا ہے۔
چونکہ یہ ایک وائرل بیماری ہے، اس لیے اس کی کوئی مخصوص دوائی نہیں ہے۔ تاہم بروقت اور مناسب معاون علاج جانور کی جان بچانے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے:
- متاثرہ جانور کو فوری طور پر علیحدہ کریں۔
- بخار کم کرنے کے لیے ویٹرنری ڈاکٹر کے مشورے سے بخارکش اور درد کی ادویات کا استعمال کریں۔
- ثانوی بیکٹیریل انفیکشن کی صورت میں ویٹرنری ڈاکٹر کے مشورے سے مناسب اینٹی بائیوٹکس کا استعمال کریں۔
- متاثرہ زخموں کی صفائی اور مناسب علاج کریں۔
- وٹامن بی کمپلیکس، وٹامن E، D، A اور منرل سپلیمنٹس دیں۔
- صاف، خشک اور ہوادار جگہ فراہم کریں۔
- نرم، غذائیت سے بھرپور خوراک دیں۔
- پانی کی وافر مقدار مہیا کریں۔
اس بیماری سے بچاؤ کا سب سے مؤثر طریقہ بروقت حفاظتی ٹیکے لگوانا ہے۔ صحت مند بھیڑوں اور بکریوں کو مقامی محکمہ لائیوسٹاک یا ویٹرنری ڈاکٹر کی تجویز کردہ ویکسینیشن شیڈول کے مطابق چیچک کی ویکسین لگوائیں، خصوصاً بیماری کے متوقع موسم سے پہلے۔
دیگر حفاظتی اقدامات میں شامل ہیں:
- نئے جانوروں کو کم از کم 14 دن قرنطینہ میں رکھنا۔
- فارم کی باقاعدہ صفائی اور جراثیم کش اسپرے۔
- بیمار جانوروں کو فوری علیحدہ کرنا۔
- مشترکہ چراگاہوں میں احتیاط۔
- مکھیاں اور مچھر کنٹرول کرنے کے مؤثر اقدامات۔
