پی پی آر (PPR) بھیڑوں اور بکریوں کی ایک انتہائی خطرناک، تیزی سے پھیلنے والی اور معاشی طور پر نقصان دہ وائرل بیماری ہے، جسے "شیپ پلیگ" بھی کہا جاتا ہے۔ پاکستان میں یہ بیماری پہلی بار 1991 میں بھیڑوں اور بکریوں میں پائی گئی تھی۔ یہ بیماری بیمار جانوروں کی نقل و حرکت کے ذریعے ایک ریوڑ سے دوسرے ریوڑ اور دور دراز علاقوں تک آسانی سے پھیل جاتی ہے، جس سے بھیڑ بکریوں پر انحصار کرنے والے کسانوں کی معیشت کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ جن علاقوں میں PPR علاقائی بیماری کے طور پر موجود ہے، وہاں سے نقل مکانی کرنے والے جانور اپنے ساتھ جراثیم دوسرے علاقوں میں لے جاتے ہیں اور صحت مند ریوڑوں کو متاثر کر دیتے ہیں۔ اسی لیے یہ بیماری مسلسل نقل مکانی کرنے والے ریوڑوں میں زیادہ عام ہے۔ اگر پی پی آر کسی ایسے ریوڑ میں آ جائے جہاں پہلے کبھی یہ بیماری نہ آئی ہو یا جانوروں کو ویکسین نہ لگی ہو، تو بیماری کی شرح 90 سے 100 فیصد تک ہوتی ہے؛ یعنی تقریباً پورے ریوڑ ہی متاثر ہوتا ہے، جبکہ شدید صورتوں میں شرح اموات 50 سے 100 فیصد تک جا سکتی ہے۔ تاہم مقامی (endemic) علاقوں میں یہ شرح نمایاں طور پر کم ہوتی ہے۔ پی پی آر زیادہ تر بکریوں کو متاثر کرتا ہے، لیکن یہ بھیڑوں میں بھی اہم بیماری ہے۔ یہ ہرن، غزال اور دیگر جنگلی جانوروں میں بھی پائی جاتی ہے۔ بڑے جانور بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں لیکن ان میں نقصان نہ صرف کم ہوتا ہے بلکہ دوسرے جانوروں میں بھی یہ بیماری پھیلنے کا سبب نہیں بنتے۔

یہ بیماری موربیلی وائرس (Morbillivirus genus) کی وجہ سے ہوتی ہے، جس کا تعلق Paramyxoviridae خاندان سے ہے۔ یہ ایک متعدی بیماری ہے جو بھیڑ بکریوں کی زیادہ تعداد والے علاقوں میں زیادہ پائی جاتی ہے اور عام طور پر اکتوبر سے جنوری تک زیادہ جانوروں کو متاثر کرتی ہے۔

پی پی آر وائرس متاثرہ جانور کی جسمانی رطوبتوں — آنکھ اور ناک سے خارج ہونے والے مادے، گوبر اور پیشاب — کے ذریعے پھیلتا ہے، اور آلودہ ہوا، خوراک، پانی اور پانی کے برتنوں سے بھی ایک جانور سے دوسرے جانور میں منتقل ہو سکتا ہے۔ اگر منڈی سے خریدا گیا یا کسی بیمار جانور کو بغیر قرنطینہ کے صحت مند ریوڑ میں شامل کر دیا جائے، تو پورے ریوڑ میں بیماری پھیلنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ خانہ بدوش اور چرواہے جو گرمیوں میں پہاڑوں اور سردیوں میں میدانی علاقوں میں چلے جاتے ہیں وہ بھی ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں بیماری کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

  • منہ، مسوڑھوں، ہونٹوں اور زبان پر دردناک زخم، کھرنڈ یا کٹاؤ (erosions) پیدا ہو جاتے ہیں۔
  • آنکھوں اور ناک میں پانی آتا ہے۔
  • پانی کی طرح پتلے دست ہوتے ہیں اور وزن میں کمی ہوتی ہے۔ شدید دست کی وجہ سے جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی ہو سکتی ہے، جو شدید کمزوری اور بعض صورتوں میں موت کا باعث بن سکتی ہے۔
  • کھانسی ہو سکتی ہے۔
  • ناک سے خارج ہونے والا مادہ زیادہ گاڑھا اور پیلا ہو جاتا ہے۔ اکثر اوقات یہ نتھنوں میں پرت بنا دیتا ہے، جس کی وجہ سے سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔
  • جانور کو بخار اور بھوک کی کمی ہو سکتی ہے۔
  • آخری مراحل میں نمونیا عام ہے۔
  • حاملہ جانور میں اسقاط حمل بھی ہو سکتا ہے۔
  • کم عمر جانور (بچے) اس بیماری سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
  • شدید بیماری کی صورت میں جانور اچانک مردہ بھی پائے جا سکتے ہیں۔

بیماری کی علامات اور تاریخ سے مرض کی ابتدائی تشخیص کی جا سکتی ہے۔ ناک، آنکھوں اور منہ سے لیے گئے نمونے اور خون کے نمونوں کے ذریعے ELISA اور PCR جیسے لیبارٹری ٹیسٹوں سے حتمی تشخیص کی جاتی ہے۔

پی پی آر کا کوئی مخصوص علاج موجود نہیں، اس لیے بیمار جانور کی مناسب نگہداشت اور علامات کے مطابق معاون علاج بہت اہم ہے۔ اگر بیماری کے دوران ثانوی بیکٹیریائی انفیکشن، مثلاً بیکٹیریائی نمونیا، پیدا ہو جائے تو ویٹرنری ماہر کے مشورے سے مناسب اینٹی بائیوٹک استعمال کی جا سکتی ہے۔ یاد رہے کہ اینٹی بائیوٹک پی پی آر کے وائرس کو ختم نہیں کرتی بلکہ صرف بیکٹیریائی انفیکشن کے علاج کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

بنیادی ویکسینیشن شیڈول

عمر کے لحاظ سے شیڈول

  • جانور میں طاقت کی بحالی کے لیے نرم، آسانی سے ہضم ہونے والی خوراک کھلائیں۔
  • منہ کے زخموں کو نیم کے پانی سے دھو کر گلیسیرین لگائیں۔
  • بیمار جانور کو صاف پانی اور پانی میں نمکیات کی کمی پوری کرنے کے لیے مناسب الیکٹرولائٹ محلول (نمکول) دیں۔
  • نئے خریدے گئے یا دوسرے ریوڑ سے لائے گئے جانوروں کو صحت مند ریوڑ میں شامل کرنے سے پہلے مناسب مدت کم سے کم ۲۱ دن تک الگ رکھیں اور ان کی صحت کی نگرانی کریں۔
  • بیمار جانوروں کے لیے استعمال ہونے والے پانی کے برتن، خوراک کے برتن اور دیگر سامان کو صحت مند جانوروں کے لیے استعمال نہ کریں، اور صفائی و جراثیم کشی کا مناسب انتظام کریں۔
    • زندگی میں ایک بار ویکسینیشن: معیاری Nigeria 75/1 ویکسین اسٹرین کم از کم 3 سال تک مضبوط مدافعت فراہم کرتی ہے۔ چونکہ زیادہ تر بھیڑ بکریوں کی کاروباری عمر 3 سال سے کم ہوتی ہے، اس لیے ایک بار درست طریقے سے ویکسین لگوانا عام طور پر کافی ہوتا ہے۔
    • سالانہ اجتماعی ویکسینیشن: پاکستان میں لائیو اسٹاک ڈیپارٹمنٹس اکثر سالانہ ویکسینیشن مہمات چلاتے ہیں۔ اگر کسی جانور کی ویکسینیشن کی تاریخ معلوم نہ ہو، تو ان سالانہ مہمات کے دوران اسے ویکسین لگوانا محفوظ رہتا ہے۔
    • پہلی خوراک: میمنوں اور بکری کے بچوں کو 3 سے 4 ماہ کی عمر میں ویکسین لگوائیں۔
    • اگر کسی جانور کو کسی فعال وباء کی وجہ سے کم عمری میں (2 ماہ میں) ویکسین لگا دی جائے، تو اسے بعد میں بوسٹر خوراک ضرور لگوانی چاہیے۔
    • 3 ماہ سے کم عمر کے جانوروں کو ویکسین نہ لگائیں۔ ماں کے دودھ سے ملنے والی قوتِ مدافعت (اینٹی باڈیز) ویکسین کا اثر ختم کر دیتی ہے، جس سے ویکسین بے کار ہو جاتی ہے۔