جگر کے کیڑے (Liver Fluke) ایک ایسا مرض ہے جو گائے اور بھینس دونوں کو متاثر کرتا ہے۔ یہ بیماری ایک خاص قسم کے کیڑے سے ہوتی ہے جو جانور کے جگر میں رہ کر خون چوستا ہے اور جگر کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اس بیماری میں جانور کمزور ہو جاتا ہے اور اس کی صحت اور دودھ دینے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔
اس بیماری کے پھیلاؤ میں گھونگوں کا اہم کردار ہوتا ہے۔ یہ کیڑے پہلے پانی میں پائے جانے والے چھوٹے گھونگوں کے اندر اپنی نشوونما مکمل کرتے ہیں، اور پھر گھونگوں سے نکل کر گھاس یا پانی میں داخل ہو جاتے ہیں، اور یہاں سے جانور کے پیٹ میں داخل ہو کر جگر تک پہنچ جاتے ہیں۔ اسی لیے یہ بیماری زیادہ تر ان علاقوں میں دیکھی جاتی ہے جہاں پانی کھڑا رہتا ہو، سیم زدہ چراگاہیں ہوں، یا دریا کے کنارے مویشی چرائے جاتے ہوں۔
متاثرہ جانوروں میں درج ذیل علامات نظر آتی ہیں:
- جبڑے کے نیچے اور کولی پر سوجن
- شدید کمزوری
- بدہضمی اور قبض
- خون کی کمی (انیمیا)
جگر کے کیڑوں پر قابو پانے کے لیے صرف جانور کو دوا دینا کافی نہیں، بلکہ جانور، چراگاہ، پانی اور گھونگوں کی آبادی دیکھتے ہوئے مشترکہ حکمت عملی اپنانا زیادہ مؤثر ہے۔
- ہر تین ماہ بعد جانور کو ٹرائی کلے بینڈازول یا آکسیکلوزانایئڈ پلائیں۔
- مویشیوں کو سیم زدہ، دلدلی اور کھڑے پانی والی چراگاہوں میں چرانے نہ بھیجیں۔
- جہاں ممکن ہو، کھڑے پانی اور دلدلی جگہوں کی مناسب نکاسی کریں تاکہ بیماری پھیلانے والے گھونگوں کی افزائش کم ہو۔ گھونگے اس بیماری کو پھیلانے کا اہم ذریعہ ہیں، اس لیے ان کی آبادی کو محدود کریں۔
- جانوروں کو تالابوں اور آلودہ کھڑے پانی سے پانی پلانے کے بجائے صاف پانی فراہم کریں۔
- متاثرہ جانوروں کا ویٹرنری ڈاکٹر کے مشورے سے جگر کے کیڑوں کے خلاف مؤثر دوا (Flukicide) سے علاج کروائیں۔ دوا کا انتخاب اور علاج کا وقت اہم ہے کیونکہ تمام ادویات کیڑوں کی ہر عمر یا مرحلے کے خلاف یکساں طور پر مؤثر نہیں ہوتیں۔
- بعض مخصوص حالات، خصوصاً محدود یا پانی والی جگہوں میں، بطخیں گھونگے کھا کر ان کی تعداد کم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
- وقتاً فوقتاً مویشیوں کی دوائی (ڈی وارمنگ) کا شیڈول اپنائیں۔
- ایسے علاقوں میں جہاں جگر کے کیڑوں کا مسئلہ عام ہو، مقامی حالات اور موسم کے مطابق ویٹرنری ڈاکٹر کے مشورے سے علاج اور کنٹرول کا باقاعدہ شیڈول بنایا جائے۔
