اگرچہ اندرونی کیڑے مویشیوں کی براہ راست موت کا سبب کم ہی بنتے ہیں، لیکن یہ دودھ، گوشت، اون اور چمڑے کی پیداوار کم کر کے، جانور کو کمزور اور بیمار بنا کر، افزائش نسل میں رکاوٹ ڈال کر (گرمی میں نہ آنا، حمل نہ ٹھہرنا یا اسقاط حمل) بھاری معاشی نقصان پہنچاتے ہیں۔ چونکہ ان کیڑوں کے اثرات دیگر بیماریوں کے برعکس آہستہ آہستہ اور پوشیدہ طور پر ظاہر ہوتے ہیں، اس لیے اکثر زمیندار بروقت توجہ نہیں دیتے یہاں تک کہ جانور شدید کمزور ہو جاتا ہے۔
ڈی ورمنگ کا وقت اور وقفہ جانور کی عمر، علاقے، چراگاہ اور کیڑوں کی شدت کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے، اس لیے مناسب شیڈول ماہر ویٹرنیرین کے مشورے سے طے کریں۔ عمومی اصول کے طور پر، علامات ظاہر ہونے کا انتظار کیے بغیر ہر 4 سے 6 ماہ بعد کیڑے مار دوا دینا معمول بنائیں۔
مویشیوں میں اندرونی کیڑوں کی تین اہم اقسام پائی جاتی ہیں: گول کیڑے (Nematodes)، ٹیپ ورم (Cestodes) اور فلیٹ کیڑے (Trematodes)۔
ملپ، پیٹ کے کیڑے (Stomach Worms)
- پیٹ پھولا ہوا یا غیر معمولی طور پر بڑا دکھائی دے سکتا ہے، خصوصاً کم عمر جانوروں میں
- آنکھیں مرجھائی ہوئی، اندر کی طرف دھنسی ہوئی، آنکھوں میں گڈ
- منہ سے پانی کی رال بہتی ہے، جانور دانت پیستا ہے
- زیادہ تر بیٹھا رہتا ہے اور چرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا
- بچوں میں مٹی کھانے کی عادت (Pica)
- معدے اور آنتوں کے زیادہ تر کیڑے متاثرہ جانور کے گوبر سے آلودہ گھاس، چارہ یا پانی کے ذریعے صحت مند جانوروں میں منتقل ہوتے ہیں۔
عمومی علامات
کسی بھی قسم کے اندرونی کیڑے سے متاثرہ جانور میں یہ علامات نظر آ سکتی ہیں:
- جانور کا جسم کمزور ہو جاتا ہے، بھوک کم لگتی ہے اور نشوونما رک جاتی ہے
- وزن میں کمی اور پیداواری صلاحیت میں کمی
- جلد خشک اور کھردری ہو جاتی ہے، بال جھڑتے ہیں
- خون کی کمی
- بعض اوقات دودھ دینے والے جانور کے دودھ میں کڑواہٹ اور ذائقے میں تبدیلی
نوٹ: بعض اقسام کے کیڑے جسم کے دیگر حصوں کو بھی متاثر کر سکتے ہیں اور مختلف علامات ظاہر کرتے ہیں، مثلاً:
- دماغ میں مخصوص کیڑے کی وجہ سے جانور کا کھرلی، دیوار یا درخت سے سر مارنا
- ناک کے اندر کیڑے کی وجہ سے سر جھٹکنا اور چھینکنا
- بعض اقسام کے کیڑے پھیپھڑوں اور سانس کی نالی کو متاثر کر کے خشک کھانسی کا سبب بن سکتے ہیں۔
⚠️ ضروری نہیں کہ مندرجہ بالا تمام علامات ہر متاثرہ جانور میں پائی جائیں۔ اگر دو یا تین علامات ایک ساتھ نظر آئیں تو فوری طور پر ماہر ویٹرنیرین سے رجوع کریں۔
جگر کے کیڑے عام معدے کے کیڑوں سے مختلف ہوتے ہیں اور جگر کو متاثر کر کے کمزوری، خون کی کمی اور دودھ کی پیداوار میں کمی جیسی علامات پیدا کرتے ہیں۔ ان کی مکمل علامات اور علاج کے بارے میں پڑھیں: یہاں پڑھیں
ڈی ورمنگ اندرونی کیڑوں کو مار دیتی ہے۔ چھوٹے جانوروں میں تین ماہ کی عمر کے بعد سال میں چار بار، اور بڑے جانوروں میں ہر چھ ماہ بعد سال میں دو بار معیاری اور وسیع اسپیکٹرم کیڑے مار دوا استعمال کریں تاکہ نقصان کو روکا جا سکے۔
