ڈیری جانوروں میں سرخ رنگ کا پیشاب ایک اہم انتباہی علامت ہے جسے کبھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ یہ عموماً کسی سنگین بنیادی صحت کے مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ رت موترا ایک بیماری نہیں بلکہ مختلف بیماریوں کا مشترکہ نام ہے جن میں پیشاب سرخ یا گہرا بھورا ہو جاتا ہے اور جانور خون کی کمی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اگرچہ رت موترا کی مختلف اقسام کی وجوہات، علامات اور علاج ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتے ہیں، لیکن تقریباً ہر قسم میں پیشاب کا سرخ ہونا ایک نمایاں علامت ہوتی ہے۔
فاسفورس کی شدید کمی سے ہونے والا رت موترا زیادہ تر زیادہ دودھ دینے والی گائیوں اور بھینسوں میں پایا جاتا ہے۔ اس کیفیت میں جسم میں فاسفورس کی کمی کے باعث خون کے سرخ خلیات ٹوٹنے لگتے ہیں، جس سے پیشاب سرخ ہو جاتا ہے۔
علامات
- پیشاب کا سرخ یا گہرا بھورا ہو جانا۔
- جانور کا کمزور اور سست ہو جانا۔
- خوراک میں کمی اور جگالی بند ہو جانا۔
- دودھ کی پیداوار میں واضح کمی۔
- جسمانی درجہ حرارت عموماً 100°F سے کم ہونا۔
وجوہات
فاسفورس سرخ خون کے خلیات (RBCs) کی صحت برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جب جسم میں اس معدنیے کی شدید کمی ہو جائے تو خون کے سرخ خلیے ٹوٹنے لگتے ہیں، جس کے نتیجے میں ہیموگلوبن پیشاب کے ذریعے خارج ہوتا ہے اور پیشاب سرخ نظر آنے لگتا ہے۔
ہمارے خطے کی مٹی میں قدرتی طور پر فاسفورس کی مقدار کم ہوتی ہے جبکہ مٹی کا پی ایچ بھی نسبتاً زیادہ ہوتا ہے، جس کی وجہ سے فصلیں اور چارہ مناسب مقدار میں فاسفورس جذب نہیں کر پاتے۔ سردیوں میں جب درجہ حرارت 15 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم ہو جائے تو پودوں کی فاسفورس جذب کرنے کی صلاحیت مزید کم ہو جاتی ہے۔ اگر ایسی زمین میں فاسفورسی کھاد (DAP یا NP) استعمال نہ کی جائے تو چارے میں فاسفورس کی کمی مزید بڑھ جاتی ہے۔
کن جانوروں میں زیادہ ظاہر ہوتی ہے؟
زیادہ دودھ دینے والے جانور
دودھ دینے والے جانوروں کے جسم میں کیلشیم کے بعد فاسفورس دوسرا اہم معدنی جزو ہے۔ دودھ بننے کے دوران یہ دونوں معدنیات بڑی مقدار میں دودھ کے ساتھ خارج ہوتی ہیں، اس لیے اگر خوراک میں فاسفورس کی کمی ہو تو زیادہ دودھ دینے والے جانور سب سے پہلے متاثر ہوتے ہیں۔
بچے کی پیدائش کے بعد (Post-parturient Hemoglobinuria)
زیادہ دودھ دینے والی گائیں اور بھینسیں خصوصاً سردیوں میں بچے کی پیدائش کے بعد اس بیماری کا زیادہ شکار ہوتی ہیں۔ یہ بیماری عموماً بچے کی پیدائش کے دو سے چھ ہفتوں کے اندر ظاہر ہوتی ہے۔
بچے کی پیدائش کے بعد جسم کو دودھ بنانے کے لیے فاسفورس کی بڑی مقدار درکار ہوتی ہے۔ اگر جانور پہلے ہی چارے کی وجہ سے فاسفورس کی کمی کا شکار ہو تو دودھ کی پیداوار شروع ہوتے ہی جسم کے فاسفورس کے ذخائر تیزی سے ختم ہو جاتے ہیں، جس سے رت موترا پیدا ہو سکتا ہے۔
اس بیماری میں عام طور پر بخار نہیں ہوتا، لیکن اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو جانور کی جان بھی جا سکتی ہے۔
بچاؤ اور تدارک
- چارہ کاشت کرتے وقت زرعی ماہر کے مشورے سے DAP یا NP کھاد ضرور استعمال کریں، خصوصاً سردیوں کی فصلوں میں۔
- اگر کاشت کے وقت فاسفورسی کھاد کم استعمال ہوئی ہو تو بعد میں NP کھاد کے ذریعے جزوی کمی پوری کی جا سکتی ہے۔
- تازہ سوئے جانوروں کو فوری توانائی کے لیے تقریباً ایک ہفتے تک روزانہ 200 گرام گڑ صبح و شام دیا جا سکتا ہے، تاہم گڑ فاسفورس کا متبادل نہیں بلکہ صرف توانائی فراہم کرتا ہے۔
- بچے کی پیدائش کے بعد کم از کم 100 گرام DCP روزانہ خوراک میں شامل کریں تاکہ فاسفورس کی کمی پوری ہو سکے۔
- متوازن منرل مکسچر اور فاسفورس سپلیمنٹ ویٹرنری ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کریں۔
- گندم کا چوکر، کپاس بنولہ، السی اور سورج مکھی کی کھل جیسے فاسفورس سے بھرپور فیڈ اجزاء خوراک کا حصہ بنائیں۔
- سردیوں میں خصوصاً تازہ سوئے جانوروں کے پیشاب کا روزانہ مشاہدہ کریں۔ اگر پیشاب سرخ یا گہرا بھورا ہو اور جانور سست نظر آئے تو فوراً جسمانی درجہ حرارت چیک کریں۔
- اگر جسمانی درجہ حرارت 100°F سے کم ہو تو تاخیر کیے بغیر مستند ویٹرنری ڈاکٹر سے رجوع کریں، کیونکہ خصوصاً بھینسوں میں یہ بیماری جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔
رت موترا کی سب سے عام اور اہم قسم چیچڑوں کے ذریعے پھیلنے والی بیماری Babesiosis ہے، جسے چیچڑوں کا بخار (Tick Fever) بھی کہا جاتا ہے۔ اس بیماری میں Babesia نامی پیراسائٹ خون کے سرخ خلیات کو تباہ کر دیتا ہے، جس کے نتیجے میں خون کی شدید کمی اور سرخ رنگ کا پیشاب ظاہر ہوتا ہے۔ یہ بیماری گرمیوں کے موسم میں زیادہ پائی جاتی ہے، جب چیچڑوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔
علامات
- تیز بخار۔
- پیشاب کا سرخ یا گہرا بھورا ہو جانا۔
- شدید کمزوری اور خون کی کمی۔
- خوراک میں واضح کمی۔
- دودھ کی پیداوار میں کمی۔
بچاؤ اور علاج
چیچڑوں والا رت موترا روکنے کا بہترین طریقہ فارم پر چیچڑوں کا مکمل کنٹرول ہے۔ جانوروں اور باڑوں پر باقاعدگی سے چیچڑ مار ادویات استعمال کریں اور اردگرد کے ماحول کو صاف رکھیں۔
اس بیماری کے علاج کے لیے مخصوص اینٹی پیراسائٹ ادویات استعمال کی جاتی ہیں، جنہیں صرف مستند ویٹرنری ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کرنا چاہیے۔ اگر جانور میں تیز بخار اور سرخ پیشاب کی علامات ظاہر ہوں تو فوراً قریبی شفاخانۂ حیوانات سے رجوع کریں۔
رت موترا کی ایک نسبتاً کم پائی جانے والی لیکن نہایت خطرناک قسم Bacillary Hemoglobinuria ہے، جو Clostridium haemolyticum نامی بیکٹیریا کی وجہ سے ہوتی ہے۔
اس بیماری کے جراثیم عموماً جانور کے جگر میں غیر فعال حالت میں موجود رہتے ہیں، لیکن اگر جگر کسی وجہ سے متاثر ہو جائے، خصوصاً جگر کے کیڑوں (Liver Fluke) کے انفیکشن کی صورت میں، تو یہ جراثیم فعال ہو کر زہریلے مادے پیدا کرتے ہیں جو خون کے سرخ خلیات کو تیزی سے تباہ کرتے ہیں۔
علامات
- اچانک شدید بیماری۔
- پیشاب کا گہرا سرخ یا سیاہی مائل ہو جانا۔
- شدید کمزوری۔
- خون کی کمی۔
- جگر کا متاثر ہونا۔
بچاؤ
اس بیماری سے بچاؤ کے لیے جگر کے کیڑوں کا بروقت علاج اور کنٹرول نہایت ضروری ہے۔ اگر جانور میں اچانک سرخ پیشاب اور شدید کمزوری ظاہر ہو تو فوری طور پر ویٹرنری ڈاکٹر سے رجوع کریں، کیونکہ یہ بیماری تیزی سے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔
رت موترا Leptospira نامی بیکٹیریا کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔ یہ جراثیم عموماً گندے پانی، کیچڑ یا متاثرہ جانوروں، خصوصاً چوہوں، کے پیشاب سے پھیلتے ہیں۔ آلودہ پانی پینے یا جلد پر موجود زخم کے ذریعے یہ جراثیم جسم میں داخل ہو جاتے ہیں۔ یہ بیماری برسات کے موسم اور کھڑے پانی والے علاقوں میں زیادہ پائی جاتی ہے۔
علامات
- بخار۔
- سرخ یا گہرے رنگ کا پیشاب۔
- دودھ کی پیداوار میں کمی۔
- آنکھوں یا مسوڑھوں کا زرد پڑ جانا۔
- حاملہ جانوروں میں اسقاط حمل۔
احتیاط اور بچاؤ
- جانوروں کو صاف اور تازہ پانی فراہم کریں۔
- کھڑے یا آلودہ پانی سے جانوروں کو دور رکھیں۔
- باڑے اور اردگرد چوہوں کی افزائش پر مکمل کنٹرول رکھیں۔
- برسات کے موسم میں باڑے کو خشک اور صاف رکھنے کی کوشش کریں۔
- متاثرہ جانور کو فوراً باقی ریوڑ سے الگ کریں۔
- فوری طور پر ویٹرنری ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
چونکہ یہ بیماری انسانوں میں بھی منتقل ہو سکتی ہے، اس لیے متاثرہ جانور کے پیشاب یا رطوبت کو صاف کرتے وقت دستانے استعمال کریں اور بعد میں ہاتھ اچھی طرح دھوئیں۔
ہر سرخ پیشاب رت موترا نہیں ہوتا۔ بعض اوقات دوسری وجوہات کی بنا پر بھی پیشاب میں خون یا ہیموگلوبن آ سکتا ہے۔
- شدید سردی میں بہت ٹھنڈا پانی پینے سے، خصوصاً کم عمر جانوروں میں، پیشاب کی نالی میں سوزش پیدا ہو سکتی ہے جس سے وقتی طور پر پیشاب میں خون آ سکتا ہے۔
- بعض زہریلی جڑی بوٹیاں یا کیمیکل کھانے سے خون کے سرخ خلیات ٹوٹ سکتے ہیں، جس سے پیشاب سرخ ہو جاتا ہے۔ یہ کیفیت زہر خوری کی وجہ سے ہوتی ہے، نہ کہ رت موترا کی بیماری کی وجہ سے۔
- سرسوں، شلجم، مولی اور اس خاندان کے دیگر پودوں کا مسلسل اور زیادہ استعمال بھی بعض اوقات خون کے سرخ خلیات کو نقصان پہنچا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں پیشاب سرخ ہو سکتا ہے۔ یہ بھی عموماً ایک وقتی زہریلا اثر ہوتا ہے، نہ کہ اصل رت موترا۔
اگر کسی بھی جانور میں پیشاب سرخ، گہرا بھورا یا سیاہی مائل نظر آئے تو خود علاج کرنے کے بجائے فوری طور پر مستند ویٹرنری ڈاکٹر سے رجوع کریں، کیونکہ مختلف اقسام کے رت موترا کا علاج ان کی بنیادی وجہ کے مطابق مختلف ہوتا ہے۔
