بلیک کوارٹر مویشیوں کی ایک مہلک بیماری ہے جو دنیا بھر میں پائی جاتی ہے اور چند ہی دنوں میں بہت سے جانوروں کو متاثر کر سکتی ہے، خاص طور پر سیلاب زدہ علاقوں میں۔ اس بیماری کا سبب ایک جراثیم ہے جو جانوروں کی آنتوں میں پایا جاتا ہے اور سخت جان اسپورز بناتا ہے جو مٹی میں طویل عرصے تک زندہ رہ سکتے ہیں۔ یہ جراثیم خوراک کے ذریعے جسم میں داخل ہو کر خون کے ذریعے پٹھوں اور دیگر اعضاء جیسے جگر اور تلی تک پہنچ جاتا ہے، جہاں یہ طویل عرصے تک چھپا رہ سکتا ہے اور سازگار حالات میں بیماری کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔
اس کے اسپورز انتہائی طاقتور ہوتے ہیں اور موسم کی تبدیلیوں اور جراثیم کش ادویات کا مقابلہ کر سکتے ہیں، جبکہ خشک پٹھوں میں یہ آٹھ سال سے زیادہ اور مٹی میں کئی سال تک زندہ رہ سکتے ہیں۔ یہ بیماری زیادہ تر گائے اور بھینسوں میں پائی جاتی ہے، خاص طور پر چھ ماہ سے دو سال کی عمر کے تیزی سے بڑھنے والے صحت مند جانوروں میں، تاہم یہ ہر عمر کے مویشیوں اور بھیڑوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ بھیڑ بکریوں میں یہ بیماری عموماً زخموں، بال کٹنے یا دم کاٹنے کے ذریعے پھیلتی ہے، جبکہ گائے اور بھینسوں میں زخم ضروری نہیں ہوتا، البتہ زخم یا زیادہ تھکاوٹ بیماری کو بڑھا سکتی ہے۔ یہ بیماری گرم موسم اور بارشوں میں زیادہ پھیلتی ہے اور زمین کھودنے سے بھی اس کے اسپورز پھیل سکتے ہیں۔
اس بیماری میں عام طور پر جانور کے ران اور شانے متاثر ہوتے ہیں۔ اس بیماری کا جراثیم جسم میں ایک خاص قسم کا ٹاکسن پیدا کرتا ہے جو خون میں جذب ہو کر بہت تیزی سے پورے جسم میں پھیل جاتا ہے جس سے درج ذیل علامات پیدا ہوتی ہیں۔
- متاثرہ ٹانگوں یا دوسرے حصوں کے پٹھوں میں نمایاں سوجن محسوس کی جا سکتی ہے۔
- ابتدائی طور پر متاثر پٹھے گرم محسوس ہوتے ہیں اور جانور کو چھونے پر شدید درد محسوس ہوتا ہے۔
- اکثر جانور متاثرہ ٹانگ پر لنگڑا کر چلتا ہے جو کہ بیماری کی پہلی اور عام علامت سمجھی جاتی ہے۔ اس کے فوراً بعد جسم کے صحت مند عضلات میں سوجن شروع ہو جاتی ہے۔
- بعد میں خون کی ترسیل بند ہونے کی وجہ سے یہ پٹھے ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں اور درد کی شدت بھی کم ہو جاتی ہے۔
- ان پٹھوں کا رنگ سیاہ ہو جاتا ہے اور پٹھے خشک ہو جاتے ہیں، جس سے ان کی شکل بگڑ جاتی ہے۔
- گیس جمع ہونے کی وجہ سے یہ پٹھے اسپنج کی طرح محسوس ہوتے ہیں اور دبانے سے کڑکڑاہٹ/چرچراہٹ کی آواز آتی ہے۔
- سوجن کے اوپر والے چمڑے کا رنگ بدل جاتا ہے، اور یہ خشک ہو کر پھٹ جاتا ہے۔
- جانور کو بخار ہو سکتا ہے جو 104 سے 106 ڈگری فارن ہائیٹ تک پہنچ سکتا ہے، تاہم بیماری کی واضح علامات ظاہر ہونے تک جسم کا درجہ حرارت معمول کے مطابق یا معمول سے کم بھی ہو سکتا ہے۔
- جانور بے جان نظر آتا ہے اور کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے۔
- اس کے علاوہ، جانور سانس کی تکلیف اور پیٹ میں درد جیسی علامات کا بھی تجربہ کر سکتا ہے۔
بیماری کی ترجیحی جگہ ٹانگ کا اوپری حصہ ہے، لیکن جسم کے دیگر حصے جیسے زبان، دل اور پھیپھڑے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ دل کے پٹھے متاثر ہونے کی صورت میں جانور کی اچانک موت بھی ہو سکتی ہے۔
اگر اس بیماری کا بروقت علاج کر لیا جائے تو جانور کو بچایا جا سکتا ہے۔ اس بیماری کا بہترین علاج پینسلین کا انجیکشن ہے۔ پینسلین کا انجکشن UI 1000 فی کلوگرام جسمانی وزن کے حساب سے لگایا جاتا ہے۔ پاؤں کے متاثرہ حصے کے زخموں کو جراحی سے صاف کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ بخار اور درد کم کرنے والی ادویات کا استعمال کیا جائے تاکہ جانوروں کی تکلیف کو ہر ممکن حد تک کم کیا جا سکے۔
دیگر متعدی بیماریوں کی طرح اس کے پھیلاؤ کو درج ذیل طریقوں سے کم یا مکمل طور پر روکا جا سکتا ہے۔
- متاثرہ جانوروں کو الگ کرکے ان کا علاج کیا جانا چاہیے اور ان کے کھانے پینے کے برتنوں کو الگ کرنا چاہیے۔
- مٹی اور چراگاہوں کو اس بیماری کے جرثومے سے آلودہ ہونے سے روکنے کے لیے مردہ جانوروں کو گہرے گڑھے میں دفن کرنا چاہیے۔
- بچھڑوں اور بھیڑوں کو بیمار علاقے میں چراگاہوں میں چرنے نہ بھیجیں۔
- علاقوں میں جہاں یہ بیماری عام ہے، وہاں تمام جانوروں کو مارچ اور اپریل کے مہینوں میں ویکسین لگوانی چاہئیں۔ اس ویکسین کے ذریعے بلیک کوارٹر یا چوڑے مار کی بیماری سے بچا جا سکتا ہے۔
- گائے اور بھینسوں کو 5 سی سی ویکسین زیر جلد لگائی جاتی ہے۔ ویکسینیشن سے بہترین نتائج حاصل کرنے کے لیے، ویکسین کی بوتل کو ہمیشہ ٹھنڈی اور خشک جگہ پر رکھیں۔ ٹیکہ لگاتے وقت بوتل کو اچھی طرح ہلائیں۔
- ہر جانور کے لیے ایک نئی سوئی استعمال کریں۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ استعمال شدہ سرنج اور سوئیاں مکمل طور پر جراثیم سے پاک ہیں۔ تھکے ہوئے، کمزور اور لاغر جانوروں کو ویکسین نہ لگائیں۔
