ایس او پی کو سلفیٹ آف پوٹاش یا پوٹاشیم سلفیٹ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک غیر نامیاتی کھاد ہے۔ ایس او پی کھاد مٹی میں پودوں کے لئے پوٹاشیم کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے ڈالی جاتی ہے۔ ایس او پی پوٹاشیم کے ساتھ ساتھ سلفر بھی زمین میں شامل کرتی ہے۔ پوٹاشیم پودوں کے لئے اہم غذائی اجزاء کی حیثیت رکھتا ہے ۔ یہ تنوں کی نشو نما کو بڑھاتا ہے اور خلیوں کی دیواروں کی موٹائی میں اضافہ کرتا ہے۔ اس طرح پودے بہت سی بیماریوں سے بچ جاتے ہیں۔ پودوں میں پوٹاشیم کی مناسب مقدار کی وجہ سے پودوں میں پانی کی کمی نہیں ہوتی۔ پوٹآشیم کی موجودگی پھلوں اور سبزیوں کی رنگت اور ذائقہ کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ایس او پی کھاد میں پوٹاشیم کی مقدار اکتالیس اشاریہ پانچ فیصد جبکہ سلفر کی مقدارسترہ فیصد ہوتی ہے۔

پوٹاشیم سلفیٹ کودوطریقوں سے تیار کیا جاتا ہے۔ پہلے طریقے میں ایس او پی کو کان کنی کے ذریعے کان سے نکالا جاتا ہے اور فالتو نمکیات کو الگ کر لیا جاتا ہے۔ دوسرے طریقے میں میوریٹ آف پوٹاش یا ایم او پی کو سلفیورک ایسڈ کے ساتھ ملایا جاتا ہے جس سے ایس او پی بنتا ہے۔ اس طریقے کو مینہیم عمل بھی کہاجاتا ہے۔ ایس او پی کا استعمال بڑے پیمانے پر پھلوں، سبزیوں، چائے، کافی، میوے اور تمباکو جیسی اعلیٰ قیمت والی فصلوں کے لئے کیا جاتا ہے۔ ایسی فصلیں جن پر کلورائیڈ کا استعمال نقصان دہ ہوتا ہےان کے لئے بھی ایس او پی کا استعمال کیا جاتا ہے۔

ایس او پی کھاد کے بہت سے فوائید ہیں:

  • ایس او پی کھاد میں کلورائیڈ موجود نہیں ہوتا ہے اور اس وجہ جہاں مٹی کھاری یا سوڈک ہو اور جہاں آبپاشی کے پانی میں کلورائیڈ کی سطح زیادہ ہووہاں ایس او پی کھاد کے استعمال کو ترجیح دی جاتی ہے۔

  • ایس او پی سے پودوں کی جڑوں کے جلنے کا امکان بہت کم ہوتا ہے اس لئے ایس او پی کھاد کو بیج یا نرسری کے ساتھ ڈالا جاسکتا ہے۔

  • ایس او پی کھاد پوٹاشیم اور سلفر دونوں حل پذیر شکلوں میں فراہم کرتی ہے۔

  • ایس او پی کا استعمال ایسی زمین میں کیا جاتا ہے جہاں پی ایچ زیادہ ہو۔ یہ کھاد مٹی کی پی ایچ کو کم کرتی ہے۔

ایس او پی کھاد کے نقصانات مندرجہ ذیل ہیں:

  • ایس او پی کھاد میوریٹ آف پوٹاش کی نسبت چالیس سے پچاس فیصد زیادہ مہنگی ہوتی ہے۔

  • پوٹاشیم کی تمام کھادیں دھات کے ساتھ رہ جائیں تو اس دھات کو خراب کر دیتی ہیں۔ اس لئے ایس او پی کے استعمال کے بعد تمام مشینری کو پانی سے اچھی طرح دھو لینا چاہئے۔