معیشت کے تقریباً ہر شعبے میں جدید  ٹیکنالوجی کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ انہی  جدید طریقوں میں ایک ڈرون کا استعمال  بھی شامل ہے۔ڈرون کا استعمال مختلف شعبوں میں ہو رہا ہے لیکن زراعت میں اسکا استعمال عروج پر ہے۔ اس  نئی ٹیکنالوجی کے استعمال نےآجکل  کےکاشتکاری نظام کو بدل دیا ہے۔  یہ ٹیکنالوجی کاشتکاروں کوکم وسائل کے ساتھ زیادہ فصلیں حاصل کرنے میں مدد کرتی ہے۔ زراعت میں  ڈرون کا استعمال   مندرجہ ذیل مقاصد کےلئے ہو رہا ہے:

ڈرون فیلڈ مانیٹرنگ  کے ذریعے  مٹی کی صحت، زمین  میں موجود نمی کی سطح  اور کھیت کے حالات کا پتہ لگایا  جاتاہے۔ ان معلومات کا استعمال کر کے کاشتکار زمین کی حالت کے مطابق کھادوں کے درست استعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح  کھیت میں نمی کی سطح کو دیکھتے ہوئے پورے کھیت میں  پانی تقسیم کیا جاتا ہے۔

ڈرون کے ساتھ مختلف نیویگیشن سسٹم(navigation system) یا ریکارڈنگ  کے آلات  جیسے کہ آر جی بی کیمرے(RGB Cameras)، انفراریڈ کیمرے(IR Cameras)  اور دیگر سینسر (sensors) لگائے جاتے ہیں۔ ان نصب کیمروں اور سینسر کے ساتھ فضائی تصویر کشی کی جاتی ہے۔ ان میں سادہ تصویروں سے لے کر ملٹی اسپیکٹرل امیجری(multispectral imagery)  شامل ہوتی ہیں۔ یہ تصاویر براہ راست سافٹ ویئر کو بھیجی جاتی ہیں اور پودوں کی صحت، پانی کی ضرورت اور مٹی کی صحت کے مطابق مختلف الگورتھم(algorithms) لگا کرنقشے بنائے جاتے ہیں۔ اور ان  نقشوں کے   مطابق پانی، بیج، کھاداور کیڑے مار ادویات کی مقدار کو ایڈجسٹ کیا جاتا ہے ۔ ڈرون کے ذریعے سپرے صرف مخصوص جگہوں پر جہاں بیماری یا کیڑوں کا حملہ ہو   وہاں کیا جاتا ہے۔اس طرح نہ صرف   کیڑے مار ادویات کے استعمال میں کمی آتی ہے بلکہ فصل پر لگنے والی مجموعی لاگت میں بھی کمی آتی ہے۔

ڈرون   کے ذریعے حاصل ہونے والی تصاویر کو  استعمال کر کے فارم پر ہونے والے کاموں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔اسکے علاوہ انکا استعمال  جانوروں کی حفاظت کے لیے بھی کیا جاتا ہے۔

ڈرون کا استعمال بیج لگانے کے لئے بھی کیا جاتا ہے۔  خودکار ڈرون سیڈرز زیادہ تر جنگلات  لگانے کے لئے  استعمال ہو  تے ہیں۔ ڈرون کا استعمال کر کےان علاقوں میں بیج لگائے جاتے ہیں جہاں تک پہنچنامشکل ہوتاہے۔سب سے پہلے  جس علاقے میں پودے لگانے ہوں ڈرونز کے ذریعے اس علاقے کی تصاویر لی جاتی ہیں۔ جن سے اس علاقے کے D 3نقشے بنائے جاتے ہیں اس کے بعد علاقے کے لئے موزوں سیڈنگ پیٹرن (seeding pattren)تیارکیا جاتا ہے۔ ڈرونز کے ساتھ کنٹرول سافٹ ویئر  سسٹم اورسیڈڈسپنسر لگا ہوتا ہے جس میں کھاد لگے ہوئے بیج موجود ہوتے ہیں ۔ڈرون ایک یادو میٹر اونچائی پر اڑتے ہیں اور پیٹرن کے مطابق بیج زمین پر پھینکتے ہیں۔ایک ڈرون فی گھنٹہ 800 بیج لگاتا ہے اور1.5 گھنٹے میں ایک ایکڑ (0.4 ہیکٹر)مکمل کرتا ہے۔

مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ڈرون ٹیکنالوجی  کا استعمال زراعت کی ترقی کے لئے اہم ہے۔