کسی بھی ملک کی صنعتی اور زرعی ترقی اسکی معیشت کے لئے اہم ہوتی ہیں۔ جبکہ صنعتی اور زرعی ترقی کا دارومدار اس ملک کے پاس موجود خام مال اور پیٹرولیم کے ذخائر پر ہوتا ہے۔ آجکل روس یوکرین تنازعے کے سبب دنیا میں بہت سے مسائل کے ساتھ ڈیزل کی کمی کا بھی سامنا ہے۔ ان سب مسائل کا اثر پوری دنیا خاص طور پر ترقی پذیر ممالک پر بہت زیادہ ہے۔ پاکستان جو کہ ترقی پذیر ملک ہے اورپہلے سے ہی بیشمار مسائل کا شکار ہے۔  ان تمام مسائل کے ساتھ آجکل ملک ڈیزل کی کمی کا شکار ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ ساتھ ملک میں صنعت نے بھی ترقی کی ہے اور زراعت میں بھی جدت آئی ہے۔ اس بڑھتی ہوئی ہوئی صنعت اور زراعت کے لئے پٹرولیم خاص طور پر ڈیزل نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ مختلف صنعتی اور معاشی ماہرین کے مطابق ملک میں موجود ڈیزل کے ذخائر کسی بھی طرح ملک کی صنعتی اور زرعی ضرورت کو پورا کرنے کے قابل نہیں ہے۔ ماہرین کے مطابق ملک میں موجود ذخائر کا اگلے ماہ تک فصل کی کٹائی کے موسم میں بلکل ختم ہونے کا خدشہ ہے۔  پاکستان سٹیٹ آئل نے ڈیزل کی عدم دستیابی کی وجہ سے ایک ڈیزل کارگوکا امریکی تیرہ ڈالر پریمیم ریٹ پر بندوبست کیا ہے۔  لیکن پھر بھی یہ ملک کی صنعتی اور زرعی ضروریات کو مستقل طور پر پورا کرنے کے قابل نہیں ہے۔

 حکومت پاکستان نے اس بحران سے نمٹننے کے لئے آئل اور گیس ریگولیٹری اتھارٹی اور ریفائنریز کو ڈیزل کی مقامی پیداوار کو بڑھانے کی ہدایت کی ہے۔ لیکن ملک میں موجود آئل ریفائنریز بھی بحران کا شکار ہیں۔ کچھ ریفائنریز ان مسائل کی وجہ سے اپنا کام بند کر چکی ہیں اور کچھ کو کافی نقصان میں فرنس آئل برآمد کرنا پڑ رہا ہے۔ ان حالات کے باوجود بھی  آئل ریفائنریز نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ فرنس آئل کی پیداوار کو بڑھانے کی کوشش کریں گی۔ ریفائنریز نے 23 فروری 2022 کوایک خط میں وزارت توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) کوتقریباً پندرہ سو میگا واٹ کے مساوی فرنس آئل پر مبنی پاور پلانٹس کو مستقل بنیادوں پر چلانے کی تجویز پیش کی تھی تاکہ ریفائنریزاپنے متعلقہ یونٹس کو بڑھاسکیں اورایندھن کی پیداوار میں اضافہ ہو سکے کیونکہ ملک میں ڈیزل اور فرنس تیل کی ضرورت دن بدن بڑھتی جا رہی ہے اور اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے اس امر کی اشد ضرورت ہے۔

 اسکے علاوہ ملک میں درپیش ڈیزل کی کمی کے سنگین مسئلے کے حل کے لئےڈیزل کی قیمت بڑھانے کا معاملہ بھی زیرغور ہے پر ابھی تک اس پر عمل نہیں کیا گیا۔ ان سب حالات کے ساتھ  ساتھ پاکستان کو بہت سی اندرونی طاقتوں کی وجہ سے ڈیزل کی ذخیرہ اندوزی جیسے سنگین مسائل کا بھی سامنا ہے۔

غور طلب بات یہ ہے ڈیزل اور فرنس تیل کا بحران ملک میں پہلی دفعہ نہیں ہو رہا اس سے پہلے بھی ملک کو ایسے حالات کا سامنا رہا ہے۔  لیکن اس طرح کے حالات سے ملک کو بچانے کے لئے کسی مستقل حل کی طرف توجہ نہیں دی گئی جس کی بدولت مسائل مزید بڑھتے جا رہے ہیں۔ اب کسی مستقل حل کی تلاش ملکی معیشت کے لئے نہایت اہم ہے۔ ان سب مسائل کے مستقل حل کے لئے ملک کو پیٹرولیم اور ڈیزل کی مقامی پیداوار کو بڑھانے کے لئے اہم اقدامات کی ضرورت ہے۔