ورمی کمپوسٹنگ کھاد  کی ایک قسم ہے. جس میں زمینی کیڑوں(ارتھ ورم ) کی مخصوص اقسام کا استعمال کر کے نامیاتی مادہ کے گلنے کے عمل کو بڑھایا جاتا ہے۔ زمینی کیڑےنامیاتی مواد کو کھاتے ہیں اور انہیں اپنے نظام انہضام سے گزارتے ہیں اور دانے دار شکل (کوکون) میں بدل  دیتے ہیں جسے ورمی کمپوسٹ کہا جاتا ہے۔نامیاتی باقیات، جیسے بھوسے، پتے، شاخوں، جڑی بوٹیوںوغیرہ کو ورمی کمپوسٹ میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ زمینی کیڑے نامیاتی مادہ کھاتے ہیں اور اسکی مقدارکو 40-60 فیصد تک کم کردیتے ہیں۔ ہر زمینی کیڑے کا وزن تقریباً 0.5 سے 0.6 گرام ہوتا ہے، وہ اپنے جسمانی وزن کے برابر مادہ کھاتا ہے اور ایک دن میں کھانےوالے تقریباً 50 فیصد مادے کے برابر  کموسٹ پیدا کرتا ہے۔ کمپوسٹ کی نمی کا تناسب 32 سے 66 فیصد کے درمیان  ہوتاہے اور پی ایچ تقریباً 7 ہے۔

کھاد میں غذائی اجزاء کی سطح خام مادہ کےذرائع اور  زمینی کیڑے کی قسم پر منحصر ہے۔ زمینی کیڑوں کی تقریباً 3600 اقسام ہیں جنہیں دو اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے۔ایک وہ قسم جو نامیاتی مادہ     کو  کمپوسٹ میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں  یہ 10 فیصد مٹی اور 90 فیصد نامیاتی مادہ کھاتے ہیں اور اس مادہ کو تیزی سے ورمی کمپوسٹ میں تبدیل کرتے ہیں۔ اور دوسری قسم ایسے زمینی کیڑوں کی ہے جو  صرف 10 فیصد نامیاتی مادہ اور 90 فیصد مٹی کھاتے ہیں اور زیادہ مقدار میں کمپوسٹ نہیں بناتے۔ ورمی کمپوسٹ بنانے  والی زمینی کیڑوں کی اقسام میں  سرخ وگلر (ایسینیا فیٹیڈا یا       ایسینیا   انڈریا ) اور سرخ ارتھ ورم ( لمبریکس ربیلس ) شامل ہیں۔ اس کمپوسٹ میں عام کھاد کے مقابلے میں  پودوں کی نشونما کے لئے  اہم غذائی اجزاء کی مقدارزیادہ ہوتی ہے۔ورمی ​​کمپوسٹ میں NPKآسانی سے دستیاب  ہونے والی  حالت میں  موجودہوتے ہیں اورکھیت میں ڈالنے کے ایک ماہ کے اندرفصل کو مل جاتے ہیں۔اسکے استعمال سے کیمیائی کھادوں کے استعمال میں بھی کمی آتی  ہے۔

آجکل ورمی کمپوسٹ چھوٹے اور بڑے پیمانے پر بنائی جا رہی ہے۔کسان ذاتی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے چھوٹے پیمانے پرپانچ سے دس ٹن ورمی کمپوسٹ بناتے ہیں۔دوسری طرف، بڑے پیمانے پر ورمی کمپوسٹنگ کے لئے بڑی مقدار میں نامیاتی مادہ کو ری سائیکل کرکے سینکڑوں ٹن سالانہ سے زیادہ ورمی کمپوسٹ کی پیداوار حاصل کی جاتی ہے۔ ورمی کمپوسٹ بنانے کے لئے زمینی کیڑوں کو پالا جاتا ہے۔ان کو پالنے کے لیے پلاسٹک اور لکڑی کے ڈبے استعمال کئے جاتے ہیں لیکن دیودار لکڑی سے بنے ڈبے استعمال نہیں کئے جاتے کیونکہ اس میں جراثیم کش خصوصیات موجود ہوتی ہیں۔  ڈبوں کے نچلے حصے میں بہت سے سوراخ کئے جاتے ہیں اور ڈبوں کو زمین سے اوپر رکھا جاتا ہے تاکہ ڈبے کے نیچے سے ہواکا گزرہو۔ ڈبے کے تقریباً آدھے حصے کو نم  اخبار  کے صفحوں سے بھردیا جاتا ہےاور پھرمٹی ڈالی جاتی ہے۔ اسکے بعد ڈبوں میں ورمز  ڈالےجاتے ہیں۔اور ڈبوں کو ایسی جگہوں پر رکھا جاتا ہے جہاں درجہ حرارت کم یا زیادہ نہ ہو۔حد سے زیادہ سرد اور گرم درجہ حرارت  انکے لئے غیر موزوں ہے۔