دھان ایک اہم زرعی فصل ہے۔ دھان کی اچھی پیداوار بہت سے عوامل جیسے زمینی ساخت، کاشت کی جانے والی قسم، موسم اور منتقلی کے وقت پنیری کی عمر پر منحصر ہے۔ محکمہ زراعت پنجاب پاکستان نے پنیری کی منتقلی کیلئے درج ذیل سفارشات مرتب ک ہیں۔ تاکہ کاشتکار اچھی پیداوار حاصل کر سکیں۔

  • کدو کے طریقہ سے تیار کی ہوئی دھان کی پنیری کی منتقلی کی عمر پچیس سے تیس دن جبکہ خشک طریقہ سے کاشت کی ہوئی پنیری کی منتقلی کی عمر پینتیس سے چالیس دن ہے۔ سب اقسام کے لیے موزوں عمر پچیس سے چالیس دن ہے۔ اگر منتقلی کے وقت پنیری کی عمر پچیس دن سے کم ہوتو پودے نازک ہونے کی وجہ سے گرمی برداشت نہیں کر پاتے اور کافی تعداد میں مر جاتے ہیں۔ اس طرح کھیت میں پودوں کی تعداد کم ہو جاتی ہے۔ اگر پنیری چالیس دن سے زیادہ عمر کی ہوتو کھیت میں منتقلی کے بعد اس کی شاخیں کم بنتی ہیں اور پیداوار کم حاصل ہوتی ہے۔
  • دھان کی پنیری اکھاڑنے سے ایک دو دن پہلے پنیری میں پانی موجود لازمی دیکھنی چاہیئے۔ اگر پانی موجود ہوگا تو مٹی نرم ہونے کی وجہ سے پنیری اکھاڑتے وقت جڑیں نہیں ٹوٹیں گی۔ اگر پانی موجود نہ ہوتو پانی دینا چاہیئے تا کہ پنیری آسانی سے اکھاڑی جاسکے۔
  • دھان کی پنیری کی منتقلی کے وقت کھیت بالکل ہموار ہونا چاہیئے اوراس میں پانی کی گہرائی ایک سے ڈیڑھ انچ ہونی چاہیئے۔
  • دھان کی پنیری کی مناسب عمر پچیس سے چالیس دن کی صورت میں ایک سوراخ میں دو پودے لگانے چاہیئے۔ اس سے ایک جیسی پیداوار حاصل ہوتی ہے بشرطیکہ پنیری منتقلی کے بعد ناغے پُر کر دیئے جائیں۔ لیکن عملی طور پر کاشت کار ناغے پُر نہیں کرتے اس لیے دو پودے لگائیں۔ دھان کی زیادہ عمر کی پنیری کم شاخیں بناتی ہے۔ اس لیے اگر پچاس دن سے زیادہ عمر کی پنیری منتقل کی جائے تو پیداوار میں تیس سے چالیس فیصد کمی ہو جاتی ہے۔ زیادہ عمر کی پنیری سے پودوں کی تعداد فی سوراخ بڑھا کر بھی اچھی پیداوار حاصل نہیں کی جاسکتی۔