فصلوں اور پودوں کی بہتر پیداوار کے لئے کیمیائی کھادوں کے ساتھ ساتھ نامیاتی کھادیں بھی اہم ہیں۔ نامیاتی کھادوں میں کمپوسٹ ایک اہم حیثیت رکھتی ہے۔ کمپوسٹ ایسے اجزاء کا مرکب ہے جنکو مٹی کوبہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ عام طور پر پودوں اور کھانے کی باقیات کو گلا کر اور نامیاتی مواد کو استعمال سے تیار کیا جاتا ہے۔ کمپوسٹ کوکھاد کے طور پر فصلوں کواہم غذائی اجزاء فراہم کرنے کے لئے، مٹی میں نامیاتی مواد کو بڑھانے اور برقرار رکھنے کے لئےاور فصلوں کے لئے اہم حیاتات کو مٹی میں متعارف کروانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اسکے علاوہ ایسی زمینیں جو قدرتی وجوہات یا بہت زیادہ کھیتی باڑی کی وجہ سے  خراب ہو جاتی ہیں انکی بحالی کے لئے بھی کمپوسٹ کا استعمال فائدہ مند ہے۔

کمپوسٹ بنانے کے لئے پھلوں کا فضلہ، گھاس، انڈے کے چھلکے، اخبارات، گتے، گرے ہوئے پتے، سبزیوں کے چھلکے اور لکڑی کا برادہ استعمال کیا جاتاہے۔ کمپوسٹ بنانے کے لئے ایسی اشیاء جن میں نائٹروجن اور کاربن دونوں موجود ہوں استعمال کی جاتی ہیں۔ سبز مادہ جیسا کہ گھاس، تازہ پودے اور پتے نائٹروجن شامل کرتے ہیں جبکہ بھورہ مادہ جیسے خشک پتے، اخبار، گتے اور لکڑی کا برادہ کاربن کا ذریعہ ہیں۔ کمپوسٹ بنانے کے لئے تین حصے بھورے مادہ کے ساتھ ایک حصہ سبز مادہ ملا کرایک جگہ ڈھیرلگایا جاتا ہے۔ اس کے اوپر ساتھ ساتھ پانی کا چھڑکاؤ کیا جاتا ہے۔ کمپوسٹ کا درجہ حرارت کمپوسٹ تھرمامیٹرکے ساتھ مسلسل دیکھا جاتا ہے۔ کمپوسٹ کے ڈھیر کو آکسیجن کی فراہمی کے لئے ہفتہ میں ایک دفعہ مکس کیا جاتا ہے۔ خاص طور پر جب کمپوسٹ کے ڈھیر کے درمیان کا درجہ حرارت ایک سو تیس فارن ہائیٹ سے ایک سو پچاس فارن ہائیٹ ہو تب کمپوسٹ کو مکس کرنے کا بہترین وقت ہوتا ہے۔ جب کمپوسٹ کا درجہ حرارت مزید زیادہ نہ ہو یا کم ہو جائے اور کمپوسٹ خشک، بھوری اور ریزہ ریزہ ہوجائے، تو یہ پوری طرح تیار ہو جاتی ہے اور کھیت میں استعمال کی جا سکتی ہے۔

کیمیائی اور نامیاتی کھادوں کو ایک دوسرے کی جگہ استعمال نہیں کیا جا سکتا بلکہ دونوں ہی اپنی اپنی جگہ پودوں کے لئے اہم ہیں۔ کیمیائی کھادیں پودوں کی ضرورت کے مطابق اجزاء فراہم کرتی ہیں تو کمپوسٹ کو مٹی میں نامیاتی مادہ اور غذائی اجزاء کو برقرار رکھنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔  اسلئے کیمیائی کھادوں اور کمپوسٹ دونوں کو ہی ضرورت کے مطابق استعمال کریں۔