ورٹیکل فارمنگ /عمودی کاشتکاری

ورٹیکل فارمنگ یا عمودی کاشتکاری عمودی  تہوں میں  خوراک پیدا کرنے کا عمل ہے۔ یہ طریقہ مستقبل  کی بڑھتی ہوئی خوراک کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے یہ ایک بہتر طریقہ ہے۔ عمودی کاشتکاری میں سبزیوں اور دیگر کھانے کی اشیاء کو ایک ہی سطح پر کاشت کرنے کے بجائے  عمودی  تہوں میں  اگایا  جاتا ہے۔ ورٹیکل فارمنگ  میں  درجہ حرارت، روشنی، نمی اور گیسوں  کو ایک مخصوص سطح پر رکھا جاتا ہے۔

ورٹیکل فارمنگ کا بنیادی مقصدزیادہ خوراک پیدا کرنا ہے۔ اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے، ٹاور نما ساخت میں موجود تہوں میں فصلوں کی کاشت کی جاتی ہے۔ روشنی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے سورج کی روشنی یا مصنوعی روشنی کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ایسی جگہ جہاں سورج کی روشنی نہ پہنچ سکتی ہو وہاں گرولائٹس استعمال کی جاتی ہیں ۔ گرو لائٹ روشنی کا ایک مصنوعی ذریعہ ہے، جو فوٹو سنتھیسز کے لیے اہم برقی مقناطیسی سپیکٹرم کو خارج کر کے پودوں کی نشوونما کو بڑھانے کے لیے بنائی گئی ہے۔ ایسی لائٹس عام طور پر ایسی جگہ استعمال ہوتی ہیں جہاں قدرتی روشنی کی کمی ہو یا اضافی روشنی کی ضرورت ہو۔ گرو لائٹس  تین بنیادی قسم کی ہوتی ہیں:  فلورسنٹ گرو لائٹس، ایچ پی ایس یا ایچ آئی ڈی گرو لائٹس، اور ایل ای ڈی گرو لائٹس۔

عمودی کاشتکاری مٹی کے بجائے، ایروپونک یا ہائیڈروپونک کے طریقے  استعمال کیے جاتے ہیں۔ ایروپونکس مٹی کے استعمال کے بغیر ہوا یا دھند  میں پودوں کو اگانے کا عمل ہے۔ ہائیڈروپونکس  میں مٹی کے بجائے مائع محلول جس میں پودوں کی نشو نما کے لئے اہم غذائی اجزاء موجود ہوں استعمال کیا جاتا ہے۔  پیٹ  موس  یا ناریل کی بھوسی اور اسی طرح کے سوائل لیس   ذرائع  ورٹیکل فارمنگ یا عمودی کھیتی میں بہت عام ہیں۔ ورٹیکل فارمنگ میں پچانوے فیصد کم پانی استعمال ہوتا ہے۔

عمودی کاشتکاری کے فوائد

  • عمودی کاشتکاری سے پورا سال فصلیں  کاشت کی جا سکتی ہیں۔
  • فصلوں کی زیادہ پیداوار حاصل ہوتی ہے۔
  • پانی کا استعمال عام فصل کے مقابلے میں کم ہے۔
  • فصلوں اور پودوں پر  بیماریوں کا حملہ کم ہوتا ہے اور کم ادویات استعمال ہوتی ہیں۔
  • نا موافق موسمی حالات فصلون پر اثر انداز نہیں ہوتے۔
  • زیادہ نامیاتی فصلیں حاصل کی جا سکتی ہیں۔
  • عمودی کاشتکاری  کے ذریعے روایتی کاشتکاری سے ہونے والے  نقصانات  سے بچا جا سکتا ہے۔