ایک زرعی ملک کی معاشی ترقی کا انحصار زرعی ترقی اور استحکام پر ہوتا  ہے۔ یہ ترقی اور استحکام اُسی وقت آتا ہے جب کاشتکاراپنی زرعی زمین کی بناوٹ کی مناسبت سے فصل کاشت کریں۔ تاکہ فصل اچھی ہو اور زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کی ہو۔ بناوٹ کے لحاظ سے زرعی زمین کی تین اقسام ہیں: 1) رتیلی، 2) چیکنی، 3)  زرخیز/ بھربھری۔  ان تینوں اقسام کا تناسب زمین کی زرخیزی ظاہر کرتا ہے- مثال کے طور پر اگر کوئی زمین  ٪60 ریتلی، ٪30 میرا اور ٪10 چیکنی ہے تو وہ ریتلی میرا زمین ہوگی۔

زمین کی اقسام

ریتلی زمین

رتیلی زمین میں ریت کا تناسب زیادہ ہوتا ہے۔ اسی لیے بارش یا آبپاشی کے بعد جلدی خشک ہوجاتی ہے- یہ زمینیں جلدی گرم ہوجاتی ہیں۔ رتیلی زمینوں میں نامیاتی مادوں کی مقدار اور pH سکیل کم ہوتا ہے۔ رتیلی زمین تربوز، مونگ پھلی اور جڑ والی سبزیوں جیسے گاجر، آلو کیلئے مفید ہے۔

چیکنی زمین

چیکنی زمین کو عام طور پر بھاری زمین کہا جاتا ہے۔  چیکنی زمین بارش یا آبپاشی کے بعد دیر سے خشک ہوتی ہے اور خشک ہونے پر سخت ہوجاتی ہے۔ چیکنی زمین دیر سے گرم ہوتی ہیں۔  چیکنی زمین پتوں والی سبزیوں، مٹر، مرچوں اور ٹماٹر کیلئے مفید ہے۔

بھربھری زمین

بھربھری زمین نامیاتی مادوں کے لحاظ سے ذرخیز اور کاشتکاری کے لحاظ سے آسان ہوتی ہے۔ بھربھری زمین ہونے کی وجہ سے ہوا، پانی اور آکسیجن کا گزر آسان ہوتا ہے۔ بھربھری زمین میں ہر قسم  کی فصل کاشت کی جاسکتی ہے۔

پہچان کا طریقہ

زمین کی قسم عام طور پر لیباٹری تجزیہ سےمعلوم کی جاتی ہے۔ مگر زمین کی پہچان مندرجہ ذیل طریقہ سے بھی کی جاسکتی ہے۔

  • سب سے پہلے تھوڑی سی خشک مٹی لیں اور اسمیں تھوڑا سا پانی ڈال کر آٹے جیسا گوندہ کر پیڑا بنا لیں۔
  • پیڑے کو ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں اُچھالیں۔ اگر مٹی رتیلی ہے تو پیڑا ٹوٹ جائے گا۔
  • پیڑے کو دبائیں۔ اگر مٹی چیکنی تو پیڑااپنی شکل بدل لے گا اور ٹوٹے گا نہی ۔
  • پیڑے کو دبائیں۔ اگر مٹٰی بھربھری ہے تو ہلکا سا دبانے سے پیڑا ٹوٹے جائے گا۔