دُنیا کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے گندم کی پیداوار میں اضافہ بہت ضروری ہے۔ گندم کی اچھی پیداوار کیلئے زمین کی تیاری، اچھے بیج وقسم کا انتخاب، متوازن کھا دوں کا استعمال، بروقت کاشت و آبپاشی اور جڑی بوٹیوں کی تلفی اہم ہے ۔ جڑی بوٹیاں فصل کے ساتھ خوراک پانی اور ہوا میں حصدار بن جاتی ہیں۔ جس سے گندم کی پیداوار میں نمایاں کمی ہوتی ہے۔ اس لیئے جڑی بوٹیوں کی بروقت تلفی کے بغیر گندم کی اچھی پیداوار کا حصول ناممکن ہے ۔ ایک اندازہ کے مطابق جڑی بوٹیوں کی وجہ سے گندم کی پیداوار میں پچاس فیصد تک کمی واقع ہو سکتی ہے۔

گندم کی فصل میں عام طور پر دوقسم کی جڑی بوٹیاں پائی جاتی ہیں۔ پہلی قسم چوڑے پتوں والی جڑی بوٹیوں کی ہے۔ جس میں کرنڈ ، باتھو، لیہہ، مینا، گاجر بوٹی ،شاہترہ، بلی بوٹی اور جنگلی پالک قابل ذکر ہیں۔ جبکہ دوسری قسم میں گھاس نما نُوکیلے پتوں والی جڑی بوٹیاں شامل ہیں جن میں جنگلی جئی ، دمبی سٹی اور پومڑی گھاس قابل ذکر ہیں۔

جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لیے بہترین وقت وہ ہے جب جڑی بوٹیوں نے دو سے تین پتے نکالے ہوں۔ گندم کی فصل میں جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لیے پہلے پانی کے بعد وتر آنے پر دوہری بار ہیرو چلانا چاہیئے۔ لیکن افرادی قوت موجود نہ ہو تو جڑی بوٹیوں کی تلفی بذریعہ جڑی بوٹی مار زہروں سے بھی کی جاسکتی ہے۔ چوڑے پتوں والی جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لیے عام طور پر گندم کی پہلی آبپاشی کے بعد وتر حالت میں سپرے کیا جا تا ہے اورنو کیلے پتوں والی جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لیے دوسری آبپاشی کے بعد سپرے کیا جا تا ہے۔  سپرے کے لیے خصوصی نوزل فلیٹ فین یا ٹی جیٹ استعمال کی جاتی ہے اور پانی کی فی ایکڑ مقدار سو سے ایک سو بیس لیٹر رکھی جاتی ہے۔

وزیر اعظم پاکستان کے زرعی ایمر جنسی پروگرام کے تحت گندم کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کے منصوبہ کے تحت محکمہ زراعت کی جانب سے کاشتکاروں کو جڑی بوٹی مارز ہروں پر دو سو پچاس روپے فی ایکڑ سبسڈی دی جارہی ہے ۔

سبسڈی حاصل کرنے کیلئے رجسٹرڈ کاشتکار اپنے موبائل سے کوڈ سپیس اپنا شناختی کارڈ نمبر لکھ کر 8070 پر ایس ایم ایس کریں۔ غیر رجسڑڈ کاشتکار تحصیل میں موجود محمکہ زراعت ( توسیع) کے دفتر میں رجسٹریشن کروا کر سبسڈی حاصل کرسکتے ہیں۔