کچن گارڈننگ کے لئے ایسی سبزیوں کا انتخاب کیا جاتا ہے جوکم جگہ گھیریں ، آسانی سے اگائی جا سکیں اور انکی کھاد و زرعی ادویات کی ضروریات کم ہو۔ گھر کے جس حصے میں سبزیاں اگانے کا ارادہ ہو پہلے اسکو صاف کریں۔ تقریباً آٹھ انچ کی گہرائی تک زمین کو نرم کر کے کم سے کم دو سے تین انچ کی تہہ کمپوسٹ ( کچن کی بچی ہوئی سبزیوں سے بنی کھاد )یا گوبر کی گلی سڑی کھاد ڈالیں۔ پھر کھاد اور مٹی کو آپس میں اچھی طرح ملا کر دو سے تین ہفتہ تک زمین کو چھوڑنے کےبعد اس میں سبزیاں لگائیں۔

گھروں میں آسانی سے اگائی جانے والی سبزیوں میں کھیرا، مولی ، گاجر، چقندر، پھلیاں ، بینگن ، ٹماٹر،پیاز، بھنڈی ، کریلہ،ہری مرچ ، دھنیا اورپودینہ شامل ہیں۔ان سبزیوں میں کھیرا، بھنڈی ،ہری مرچ،کریلہ، پودینہ اور بینگن موسم گرما کی سبزیاں ہیں جبکہ ٹماٹر، گاجر ، مولی ، پیاز ،دھنیا، چقندر موسم سرما کی سبزیاں ہیں۔

موسم گرما کی سبزیاں

کھیرا کم جگہ گھیرنے والی سبزیوں ہے ۔اسکو باغ کے ایسے حصے میں لگایا جاتا ہے جہاں سورج کی روشنی آسانی سے میسر ہو۔ کیونکہ کھیرا کو زیادہ دھوپ کی ضرورت ہوتی ہے۔ بھنڈی کو پانچ سے چھ گھنٹے روزانہ روشنی چاہئے ہوتی ہے۔ بھنڈی کا بیج آدھا انچ کی گہرائی پر ڈالا جاتا ہے۔اور آپس میں بیج کا فاصلہ نو سے دس انچ تک رکھا جاتا ہے۔ مرچ کے بیجوں کو مٹی میں بونے سے پہلے گھر کے اندر اگایا جاتاہے۔ اس کے بعد پودوں کوایسی جگہ رکھا جاتا ہے جہاں اسے کافی مقدار میں سورج کی روشنی ملے۔پودوں کو باقاعدگی سے ہلکا پانی لگایا جاتا ہے تاکہ مٹی ہر وقت نم رہے لیکن زیادہ پانی نہیں دیاجاتا ورنہ پودے مرجھا جاتے ہیں۔ کریلہ بیلوں کی صورت میں لگتا ہے ، اسکی بیلیں تقریباً دس سے پندرہ فٹ لمبائی تک جاتی ہیں۔ پودینہ کو فروری سے مارچ کے درمیان اگایا جاتا ہے ۔ پودینہ دو مہینے میں تیار ہو جاتا ہے۔ بینگن کو پانچ سے چھ گھنٹے سورج کی روشنی کی ضرورت ہوتی ہے۔اچھی پیداوار کے لئے بینگن کے بیج کو صفر اشاریہ چار انچ کی گہرائی میں اگایا جاتا ہے۔

موسم سرما کی سبزیاں

ٹماٹر کے بیج سے پہلے پنیری تیار کی جاتی ہے۔ پھر پودوں کو باہر ایسی جگہ منتقل کر دیا جاتا ہے جہاں انکو سات سے آٹھ گھنٹے سورج کی روشنی میسر آتی رہے۔گھر میں اگائی جانے والی سبزیوں میں مولی اور گاجر بھی شامل ہیں ۔انکی کاشت کے لئے مٹی میں نمی کو زیادہ نہیں رکھا جاتا ہے۔ چقندر موسم سرما کی غذائیت سے بھرپور سبزی ہے۔ اس میں وٹامن اے اور سی موجود ہوتےہیں۔ پیاز کو اگست اور اکتوبر کے درمیان اگایا جاتا ہے۔ پیاز کے بیج کو ایک انچ کی گہرائی پر لگایا جاتا ہے۔اور بیج کے درمیان کا فاصلہ آدھا انچ رکھا جاتا ہے۔پیاز کو ایسی جگہ پر اگایا جاتا ہے جہاں سورج کی روشنی زیادہ پڑتی ہو۔دھنیا کا استعمال ہر گھر میں بہت زیادہ کیا جاتا ہے۔ اسکو گملوں اور کیاریوں میں لگایا جاتا ہے۔ دھنیا کے بیج کو کیاریوں میں آدھے سے ایک انچ کی گہرائی پر لگایا جاتا ہے۔اور بیج کے آپس کا فاصلہ چھ انچ تک رکھا جاتا ہے۔وقفے وقفے سے پانی دیا جاتا ہے۔