روس کا عالمی زرعی منڈی میں بہت اہم  کردار ہے۔ عالمی سطح پر روس تیرواں بڑا زرعی مصنوعات درآمد کرنے والا ملک ہے۔ روس جن اہم مصنوعات کی درآمد کرتا ہے ان میں لیموں، پنیر، کیلے، سویابین، سیب، ناشپاتی، بیف اور پام آئل شامل ہیں۔ یہ بنیادی طور پر ترکی، برازیل، جرمنی، چین، ایکواڈور، اٹلی، انڈونیشیا، فرانس اور جرمنی جیسے ممالک سے حاصل کیے جاتے ہیں۔ اسکے علاوہ روس دنیا کا سب سے بڑا کھاد برآمد کرنے والا ملک ہے۔ روس امونیا، یوریا اور پوٹاش کا دوسرا سب سے بڑا پروڈیوسر ہے اور پروسیسڈ فاسفیٹس کا پانچواں سب سے بڑا پروڈیوسر ہے۔ یہ ملک امونیا کی عالمی برآمدی منڈی کا 23فیصد، یوریا کا 14فیصد، پوٹاش کا 21 فیصد اور پروسیس شدہ فاسفیٹس کا 10فیصد حصہ رکھتا ہے۔ 

آجکل روس اور یوکرین جنگی حالات کی وجہ سےزرعی عالمی مارکیٹ میں روس کی کارکردگی پربرا اثر پڑرہا ہے۔ فرٹیلائزر انسٹی ٹیوٹ ((TFI کے مطابق روس-یوکرین تنازعے کے سبب عالمی سطح پر کھاد کی مارکیٹ پر بہت گہرے اثرات مرتب ہونگے۔ اسکے علاوہ یہ تنازعہ توانائی کی منڈی کو بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار کرے گا کیونکہ روس یورپ کی قدرتی گیس کی سپلائی کا تقریباً ایک تہائی سپلائی کرتا ہے جو نائٹروجن کھاد بنانے کے لئے اہم ہے۔

روس یوکرین تنازعے کی وجہ سے کھادوں کی پیداوار اور قدرتی گیس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اس کی وجہ سے پوری دنیا میں کھادوں اور زراعت کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے خاص طور پر جو ممالک روس سے کھاد درآمد کرتے ہیں انکے لئے یہ ایک بہت اہم مسلہ ہے۔ جیسا کہ شمالی امریکہ یوریا کا بیس فیصد حصہ روس سے درآمد کرتا ہے، برازیل پوٹاش کا سنتالیس فیصد روس سے درآمد کرتا ہے اسکے علاوہ یوریا کا بیس فیصد اور ایم اے پی کا تیس فیصد روس سے آتا ہے۔ 

جنوبی افریقہ جیسے ممالک میں بھی کھاد بڑے پیمانے پر استعمال ہو رہی ہے ۔جنوبی افریکہ میں اوسطاً 72.8  کلوگرام غذائی اجزاء فی ہیکٹر زمین میں ڈالے جاتے ہیں۔ اسکے علاوہ زیمبیا میں فی ہیکٹر 52.5  کلوگرام غذائی اجزاء استعمال ہوتےہیں۔

جہاں روس یوریا کی عالمی برآمدات کا 14 فیصد حصہ رکھتا ہے وہاں چین یوریا کی عالمی برآمدات کا تقریباً 20فیصد حصہ رکھتا ہے۔ اسکے علاوہ کینیڈا پوٹاش کا ایک بڑاسپلائر ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود یہ جنگی حالات کھادوں کی قیمتوں پر بری طرح اثرانداز ہونگے۔ بہت سی وجوہات کی وجہ سے  2021میں کھادوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے ۔ اب روس۔یوکرین تنازعے کی وجہ سے ان قیمتوں میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔ خاص طور پر تب جب جنگی پابندیوں کی صورت میں روس کی برآمدات متاثر ہونگی۔ 

اکثر ممالک کی معیشت کا انحصار زراعت پر ہے۔اورپوری دنیا میں اچھی پیداوار کے حصول کے لئے کھادوں کا استعمال ہو رہا ہے۔ لیکن کھادوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے یہ دنیا بھر کے کسانوں کے لئے ایک چیلنج بنتا جا رہاہے۔ کھادوں کے استعمال میں کمی کی وجہ سے پیداوار میں کمی کے امکانات ہیں۔