چھتوں پر زراعت گھر اورعمارتوں کی چھتوں کو سبزیوں، پھلوں اور پھولوں کو اُگانے کیلئے استعمال کو کہتے ہیں۔ یہ پیداواری سبز چھتیں نہ صرف روزمرہ زندگی کے کھانے کی قیمت کو کم کرتی ہیں بلکہ اچھے اور صاف ماحول کو حاصل کرنے میں بھی مدد کرتی ہیں۔ جیسا کہ بارش کے پانی کے بہاؤ میں کمی، ہوا کے معیار میں بہتری اور گھروں کے اندر سورج کی تپش میں کمی۔ خوراک یا سجاوٹ کے لیے چھتوں کو استعمال کرنے کا تصور نیا نہیں ہے مثال کے طور پر قدیم میسوپوٹیمیا کے چھت والے باغات۔ یہ باغات ٹھنڈی اور سایہ دار جگہیں فراہم کرنے کے لیےبڑے بٖڑے پتھروں سے بنائے گئے اہرام تھے۔ چھتوں کی زراعت بنیادی طور پر تین طرح سے ہوتی ہے۔ چھت پرکیاریوں میں، چھت پر کملوں میں اور چھت پر ہائیڈروپونک طریقہ سے۔

چھت پرکیاریوں میں زراعت

چھت پرکیاریوں میں زراعت میں پودے براہ راست کیاریوں میں اُگائی جاتے ہیں۔ پودے اُگانے کیلئے نامیاتی مادوں سے بھرپورمٹی کا استعمال کیا جاتا ہے۔ آبپاشی یا پانی کے اخراج کے مسائل سے بچنے کیلئے چھت اور مٹی کے درمیان پلاسٹک یا کوئی اور محفوظ تہہ بچائی جاتی ہے۔

چھت پر گملوں میں زراعت

چھت پر گملوں میں زراعت میں پودے گملوں، بالٹیوں یا ڈبوں میں اگائے جاتے ہیں۔ پودے اُگانے کیلئے مٹی، کمپوسٹ اور لکڑی کے برادے سے مرکب سے بنایا جاتا ہے۔

چھت پرہائیڈروپونک زراعت

چھت پرہائیڈروپونک زراعت میں، مٹی کی بجائے نامیاتی مادوں سے بھرپور پانی میں پودے اُگائے جاتے ہیں۔ بہتے ہوئے نامیاتی مادوں والے پانی کیلئے قدرے ترچھے پائپ لگائے جاتے ہیں۔

چھت پر ہونے والی زراعت کئی لحاظ سے فائدہ مند ہے مثلاً

چھتوں کو براہ راست دھوپ سے بچاتی ہے عمارتوں کے اندر درجہ حرارت کو کم کتی ہے۔

جنگلی حیات کے لیے رہائش فراہم کرتی ہے۔

نامیاتی سبزیاں پیدا کرکے صحت کو بہتر بناتی ہے۔

بارش کے پانی کا بہترین استعمال کرتی ہے۔

شہر کی آلودگی کو کم کرتی ہے۔