پودوں میں بیماریاں پھیلانے کا ایک اہم سبب فنگس یا پھپھوندی ہے۔فنگس مرطوب موسم میں پھلتی پھولتی ہے۔ پھپھوندی اپنی خوراک خود نہیں بنا سکتی لہذا پودوں سے اپنی خوارک حاصل کرتی ہے اور پودوں میں بیماریاں پھیلانے کا سبب بنتی ہے۔پودوں میں تقریباً دو تہائی بیماریاں فنگس کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ فنگس سے ہونے والی بیماریوں میں سفوفی پھپھوندی،روئیں دار پھپھوندی،کنگھی اور مرجھاؤ شامل ہیں۔

سفوفی پھپھوندی

پودوں میں سفوفی پھپھوندی کی بیماری پھپھوند کی اقسام اریسیفی ،انسینولا،مائکروسفیرہ ،اوڈیم ،پوڈوسفیرہ ، فا ئلیکٹینیا اور کلاس اسکومائسیٹس کی وجہ سے ہوتی ہے۔سفوفی پھپھوندی دس ہزار سے زیادہ پودوں کو متاثر کرتی ہے۔پاکستان میں سفوفی پھپھوندی تقریباً ستر مختلف پودوں اور درختوں کو متاثر کرتی ہے۔ان میں اناج کی فصلیں، دالیں، سبزیاں، پھل،چارہ اور لکڑی شامل ہے۔ سفوفی پھپھوندی کا حملہ گرم اور خشک آب و ہوا میں زیادہ ہوتا ہے جسکی وجہ سے فصلوں کی نشو نما اور پیداوار میں کمی آتی ہے۔ سفوفی پھپھوندی کی وجہ سے پتوں کی نچلی سطح پرگول دھبے بن جاتے ہیں۔ ان دھبوں میں سفید پاؤڈر ہوتا ہے۔آہستہ آہستہ یہ دھبے پودےکے تنے اور پھل پر بھی طاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ پودوں میں سفوفی پھپھوندی کا حملہ نشو نما کےکسی بھی وقت ہو سکتا ہے۔ اس سے متاثرہ حصوں میں پتے، تنے اور پھل شامل ہیں۔

روئیں دار پھپھوندی

روئیں دار پھپھوندی کا تعلق پیرانوسپوراسی خاندان سے ہے۔روئیں دار پھپھوندی کو زندہ رہنے اور پھیلنے کے لئے پانی کی ضرورت ہوتی ہے روئیں دار پھپھوندی کا حملہ کم درجہ حرارت اور زیادہ بارش میں شدت اختیار کرتا ہے۔ پاکستان میں روئیں دار پھپھوند سے متاثرہ سبزیوں میں کھیرا، گھیا کدو، چپن کدو، گوبھی، کریلہ، تربوز، خربوز اور مٹر شامل ہیں۔ روئیں دار پھپھوندی کے حملے کی صورت میں پتوں پر نچلی سطح پر نمدار دھبے ظاہر ہوتے ہیں۔ یہ دھبے پیلے ہوتے ہیں اور بعد میں گہرے بھورے رنگ کے ہو جاتے ہیں۔ یہ دھبے تیزی سے پھیلتے ہیں اور پورے پودے کو متاثر کرتے ہیں۔پودا مرجھا جاتا ہے۔

کنگھی

پودوں میں کنگھی کی بیماری گرم مرطوب حالات میں زیادہ پھیلتی ہے۔ کنگھی پھپھوند کی چار ہزار سے زیادہ اقسام کی وجہ سے ہوتی ہے ۔ اس سے متاثرہ پودوں میں سویا بین، گندم ،پھلیاں ، ٹماٹر، گلاب اور دوسرے بہت سے پودے شامل ہیں۔پاکستان میں کنگھی سے گندم شدید متاثر ہوتی ہے۔ کنگھی سے متاثرہ پودوں میں پتوں کے اندرونی اور بیرونی طرف بھورے دھبے ظاہر ہوتے ہیں۔ ان دھبوں میں بھورے رنگ کا سفوف موجود ہوتا ہے جو بعد میں پودے پر گرتا ہے۔ بیماری کی شدت میں پتے مڑ جاتے ہیں۔

مرجھاؤ

مرجھاؤ کی بیماری پھپھوند کی اقسام فیوزیریم اور ورٹیسیلیم کی وجہ سے ہوتی ہے۔پاکستان میں مرجھاؤ سےمتاثرہ فصلوں میں کھیرا، گھیا کدو،چپن کدو،حلوہ کدو، گھیا توری، کریلا، تربوز، خربوز،ٹماٹر،سبز مرچ، شملہ مرچ اور مٹر شامل ہیں۔ پودوں میں مرجھاؤ کی بیماری کے حملے کی صورت میں جڑیں خراب ہو جاتی ہیں اور بھوری لکیریں ویسکیولر ٹشوز پر بن جاتی ہیں۔پتے سوکھ جاتے ہیں اور پودا ایک سے دو دن میں مر جاتا ہے۔