پاکستان ایک زرخیز زرعی ملک ہے۔ یہاں بہت سی فصلیں، پودے اور درخت اگائے جاتے ہیں۔ پچھلے کچھ سالوں سے زیتون کی کاشت پر ملک میں بہت کام ہو رہا ہے۔ حکومت زیتون کی ترقی کے لیے کئی منصوبے چلا رہی ہے۔ ان کوششوں سے پاکستان کو زیتون کی پیداوار میں خود کفیل بننے اور مستقبل میں زیتون برآمد کرنے میں مدد ملے گی۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات جیسے کہ مٹی کے کٹاؤ اور زرعی زمین کے بنجر ہونے سے نمٹنے کے لیے حکومت کی طرف سے شروع کیا گیا ملک گیر دس بلین ٹری سونامی پروجیکٹ زیتون کے توسیعی منصوبوں کی تکمیل کرتا ہے اور کسانوں کے لیے نئے مواقع فراہم کرنے کے لئے بھی اہم ہے۔ دس بلین ٹری سونامی پروجیکٹ اور زیتون کی ترقی کے لئے حکومت کی طرف سے چلائے جانے والے مختلف پرجیکٹس کی بدولت ملک میں اس وقت 31,000 ایکڑ رقبے پر زیتون کے 3.6 ملین پودے لگائے جا چکے ہیں اور یہ رقبہ 75,000 ایکڑ تک بڑھایا جائے گا۔ پاکستان تقریباً 1500 ٹن زیتون کا تیل پیدا کررہا ہے۔ بلوچستان زیتون کی کاشت کے لیے انتہائی موزوں صوبہ ہے۔ 2020 تک پاکستان کوکنگ آئل درآمد کرنے والا تیسرا سب سے بڑا ملک تھا۔ 2020 تک تقریباً2.1 بلین ڈالر مالیت کا پام آئل پاکستان درآمد کر رہا تھا۔ امید ہے کہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی زیتون کے تیل کی پیداوار سے درآمد شدہ پام آئل پرانحصار کم ہو جائے گا اور مقامی زیتون کا استعمال صارفین کی صحت کے لیے فائدہ مند ہوگا۔

پاکستان زیتوں کی پیداوار بڑھانے  اور زیتون کی ترقی کے لئے کام کرنے کی وجہ سے  بین الاقوامی زیتون کونسل IOC کا مکمل رکن بن گیاہے۔ بین الاقوامی زیتون کونسل مختلف ریاستوں کے مابین ایک سرکاری تنظیم ہے جسکا کام زیتوں یا زیتوں سے حاصل کردہ مصنوعات تیار کرنا ہے۔ کونسل زیتون کی صنعت کی ترقی کو یقینی بنانے اور موجودہ اور مستقبل کے خدشات کو دور کرنے کے لیے ایک عالمی فورم کے طور پر کام کرتی ہے۔ کونسل کا قیام 1959میں ہوا اور اسکا ہیڈ آفس اسپین کے دارلحکومت میڈرڈ میں ہے۔ کونسل کے پہلے سے اٹھارہ رکن ہیں جن میں زیادہ تر یورپی ممالک شامل ہیں اور پاکستان اسکا انیسواں رکن ہے۔ اس سے پہلے پاکستان اس کونسل کا ایسوسی ایٹ ممبر تھا۔ اکتوبر 2021 میں بین الاقوامی زیتون کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عبداللطیف غدیرا نے آئل سیڈ ڈیویلپمنٹ بورڈ کی درخواست پر پاکستان کا  دورا کیا تھا۔ جسکے بعد انکے بیان کے مطابق پاکستان اب بین الاقوامی زیتون کونسل کا مکمل ممبر بننے کے لئے موزوں تھا۔ اسکے بعد فروری 2022 میں پاکستانی وفد نے بین الاقوامی زیتون کونسل کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا اور اب مئی 2022 میں پاکستان کو IOC کا مکمل رکن بنا دیا گیا ہے۔ دنیا بھر میں تیل کی پیداوار کا 98 فیصد سے زیادہ بین الاقوامی زیتون کونسل کے اراکین ممالک پیدا کر رہے ہیں۔ بین الاقوامی زیتون کونسل زیتون کی کاشت اور زیتون کا تیل بنانے پر کام کرنے والی دنیا کی واحد بین الاقوامی تنظیم ہے۔ اس تنظیم کا پاکستان میں مقصد  لاکھوں درخت لگانا اور خطے میں زیتون کا تیل پیدا کرنے والا ملک بنانا ہے۔ اس کونسل کا مکمل ممبر بننے کے بعد امید ہے کہ پاکستان کو زیتون کی کاشت اور پیداوار میں مزید بہتری لانے میں مدد ملے گی۔