پانی انسانوں، جانوروں اور پودوں سب کے لئے نہایت اہم ہے۔ پانی کے بغیر زندگی کا تصوربہت مشکل ہے۔ پاکستان ایک ترقی پزیر ملک ہے جس کوباقی بہت سے مسائل کے ساتھ ساتھ پانی کی کمی کا مسئلہ بھی درپیش ہے۔ پاکستان میں سندھ اور پنجاب کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے جس کی وجہ سے تمام جاندار متاثر ہو رہے ہیں۔

پاکستان بنیادی طور پو ایک زرعی ملک ہے۔ ملک کا نوے فیصد پانی زراعت میں استعمال ہوتا ہے۔ آجکل ملک باون فیصد پانی کی کمی کا شکارہے۔ پاکستان میں زیادہ ترزراعت پنجاب میں ہو رہی ہے۔ ڈیموں، دریاؤں اور دیگر ذرائع سے قابل ذکر پانی کی  سپلائی ملنے کے باوجود، پنجاب کو پانی کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ پاکستان کی انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (IRSA)  کے مطابق پنجاب میں پانی کی ضرورت ساٹھ ہزار کیوسک ہے جبکہ پنجاب کو صرف انتیس ہزار کیوسک پانی مل رہا ہے۔ اسکے علاوہ صوبہ سندہ میں پانی کی ضرورت 45,400 کیوسک ہے جبکہ اسکے مقابلے میں صرف 22,000 کیوسک پانی مل رہا ہے۔ پانی کی کمی کی وجہ سے ملک میں سنگین مسائل کا سامنا ہے جن میں صحت سے لے کرزراعت شامل ہیں۔

پانی کا بحران پاکستان کی معیشت کے لئے خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔ سندھ اور بلوچستان کے کاشتکار پانی کی کمی کی وجہ ملک میں پانی کی غیر منصفانہ تقسیم کو سمجھتے ہیں۔ اور بہت سے کاشتکار اس وجہ سے احتجاج بھی کررہے ہیں۔ لیکن سندھ اور بلو چستان کے ساتھ ساتھ اب پنجاب بھی پانی کے مسائل کا شکار ہے۔

پنجاب میں آبپاشی کے نظام کا زیادہ تر انحصار نہری پانی پر ہے۔ لیکن آجکل نہری پانی کی قلت ہوتی جا رہی ہے۔ جس کے باعث بہت سے علاقے بنجر ہوتے جا رہے ہیں اور وہاں کاشتکاری ممکن نہیں۔ ایسے علاقوں میں جہاں نہری پانی کی کمی ہو رہی ہے وہاں ٹیوب ویل کے ذریعے آبپاشی کے لیے زیر زمین پانی بھی استعمال ہو رہا ہے۔ تاہم دستیاب پانی کا بیشتر حصہ کھیتوں تک پہنچنے سے پہلے ہی ضائع ہو جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف زیر زمین پانی کے ذخائر تیزی سے ختم ہو رہے ہیں بلکہ پانی کا معیار بھی خراب ہو رہا ہے۔ آزادی کے وقت ملک میں دس ہزار ٹیوب ویل موجود تھے جو کہ اب بڑھ کر ایک اشاریہ دو ملین سے بھی زیادہ ہو گئے ہیں۔ پنجاب میں بہت سا پانی خراب پانی کے راستوں اور ناہموار زمین کی وجہ سے  ضائع ہو جاتا ہے۔ گیارہ ملین ایکڑ فٹ پانی خراب پانی کے راستوں( واٹر کورسز)  کی وجہ سے اور اکیس ملین فٹ پانی ناہموار زمین کی وجہ سے ضائع ہو رہا ہے۔ پا نی کو ضائع ہونے سے بچانے کے لئے پنجاب میں پچاس ہزار پانی کے راستوں( واٹر کورسز) کی حالت کو بہتر کیا گیا ہے۔ جس سے پانی کا ضیاع کم ہوا ہے لیکن مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔  پنجاب کے بہت سے علاقوں میں لیزر لینڈ لیولر کی مدد سے زمین ہموار کرنے کا کام بھی جاری ہے لیکن یہ کام بہت کم علاقوں میں ہو رہا ہے۔

آجکل بہت سے علاقوں میں کپاس کی کاشت جاری ہے۔ اور کاشتکارحضرات کونہری پانی کے ساتھ ساتھ زیرزمین پانی کی کمی کا بھی سامنا ہے۔ اس سلسلے میں گورنمنٹ کو ایک مکمل لائحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت ہے جس سے ملک میں پانی کی منصفانہ تقسیم کے ساتھ ساتھ پانی کے ضیاع کو بھی روکا جا سکے۔ اور پانی کی کمی کے باعث ملک میں زراعت بھی متاثر نہ ہو۔