کپاس پاکستان کی اہم فصلوں میں سے ایک ہے ۔پنجاب کے بہت  سے علاقوں میں  کپاس کی کاشت کی جاتی ہے لیکن موسمی تبدیلی کی وجہ سے کپاس  پر  کیڑوں اور بیماریوں کا حملہ  زیادہ ہو گیا ہے اور پیداوار میں کمی آئی ہے۔ جس سے کاشکار بھائیوں کو  منافع حاصل نہیں ہو رہا۔ایوب ایگریکلچر ریسرچ انسٹیٹیوٹ نے  ان مسائل کے حل کے لئے تحقیق اور تجربات کے بعد کپاس کی نئی اقسام متعارف کروائی ہیں جنکی پیداواری صلاحیت     باقی اقسام کی نسبت زیادہ ہے۔ یہ اقسام کیڑوں اور بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت رکھتی ہیں۔ ان اقسام میں ایف ایچ سپر کاٹن ،  ایف ایچ چار سو نوے اور ایف ایچ چار سو بانوے شامل ہیں۔

ایف ایچ سپر کاٹن    کی اوسط  پیداوار   پچاس من ہے جبکہ گندم کے بعد کاشت کی صورت میں تیس من پیداوار حاصل ہو تی ہے۔گندم کے بعد کاشت کی صورت میں  کپاس کی اکثر اقسام  کی پیداوار اچھی نہیں آتی  اس لحاظ سے یہ قسم بہتریں ہے۔ایف ایچ سپر کاٹن  یکم اپریل سے بیس  مئی کے دوران کاشت کی جاتی ہے۔ یہ درمیانی قد والی قسم ہے۔  اسکے پتوں اور ٹینڈوں کا سائز  بھی درمیانہ ہے۔ایک ایکڑ میں   بیس  ہزار پودے  لگائے جا تے ہیں ۔اس میں تیلہ اور سفید مکھی کے خلاف مزاحمت موجود ہے۔ اس کی کاشت پورے پنجاب میں کی جاتی ہے۔

کپاس کی نئی اقسام میں دوسری اہم قسم ایف ایچ چار سو نوے شامل ہے۔ یہ  بڑے قد والی قسم ہے ۔  اسکی پیداواری صلاحیت سپر کاٹن سے زیادہ ہے۔ سولہ سو سے  ستارہ سو پودے ایک ایکڑ میں لگائے جاتے ہیں۔اور پودوں کا فاصلہ دو فٹ رکھا جاتا ہے۔  ایف ایچ چار سو نوے بھی  پنجاب کے تمام علاقوں کے لئے موزوں ہے۔

  تیسری قسم ایف ایچ چار سو بانوے  بھی کاٹن کی ایک  اہم قسم ہے۔ اسکے پتے چھوٹے ہوتے ہیں جسکی وجہ سے تھرپس اور سست تیلہ کا حملہ نہیں ہوتا۔ گندم کے بعد کاشت کی صورت میں  اسکی پیداوار اچھی ہوتی ہے۔

پنجاب کے  ان علاقوں میں جہاں کپاس کی کاشت کی جاتی ہے کاشتکار حضرات ایف ایچ چار سو نوے، ایف ایچ سپر اور ایف ایچ  بانوے  کا استعمال کر کے    کپاس کی اچھی پیداوار حاصل کر سکتے ہیں اور منافع کما سکتے ہیں۔