دیرپا اثر والی آہستہ حل پذیرکھادیں زیادہ عرصے تک پودوں کوغذائی اجزاء فراہم کرتی ہیں۔ ان کھادوں میں غذائی اجزاء ایسی حالت میں ہوتے ہیں جو فوراً پودوں کو دستیاب نہیں ہوتے بلکہ آہستہ آہستہ چار ماہ تک ملتے رہتے ہیں۔ اس طرح فصل کے پکنے تک زمین میں غذائی اجزاء کی کمی نہیں ہوتی۔ جس سے فصل کی پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے۔ان تمام فوائد کے باوجود آہستہ حل پذیر کھادوں کا استعمال بہت کم کیا جاتا ہے۔ اسکی بنیادی وجہ ان کھادوں کی زیادہ قیمت ہے۔ آہستہ حل پذیر کھادیں غذائی اجزاء فراہم کرنے کے لئے مکمل طور پر مٹی اور موسمی حالات پر انحصار کرتی ہیں۔

 

آہستہ حل پذیر کھادیں  نامیاتی اور غیر نامیاتی دو طرح کی ہوتی ہیں۔ نامیاتی کھادوں میں گوبر کی کھاد، پولٹری کھاد اور کمپوسٹ شامل ہیں۔ نامیاتی کھادوں کے غذائی اجزاء مصنوعی کھادوں کی نسبتاً کم ہوتے ہیں۔ نامیاتی کھادوں میں غذائی  اجزاء بہت ہی چھوٹے حیاتیات کے ذریعے پودوں کو ملتے ہیں۔ لیکن اس میں بہت وقت لگتا ہے اور پودوں کو انکی ضرورت کے وقت غذائی اجزاء میسر نہیں آتے۔ نامیاتی کھاد زمین کی زرخیزی بڑھانے کے لئے اہم ہے۔ لیکن فصل کو بروقت غذائی اجزاء کی فراہمی کے لئے آہستہ حل پذیر کھادوں کی دوسری قسم جو کہ غیر نامیاتی ہے اہمیت کی حامل ہے۔ اس قسم میں کھادوں کے اوپر پلاسٹک یا سلفر کے پولیمر کی تہہ چڑھائی جاتی ہے۔ جو آہستہ آہستہ پانی، گرمی، سورج کی روشنی یا مٹی میں موجود چھوٹے حیاتیات کی وجہ سے ٹوٹ جاتی ہیں اور غذائی اجزاء پودوں کو مل جاتے ہیں۔ آہستہ حل پذیر کھادیں کھادیں ہر قسم کے پودوں،سبزیوں، گھاس اور درختوں کے لئے استعمال ہوتی ہیں۔

سلفرکوٹڈ یوریا، میتھایلین یوریا، یوریا فارمیلڈی ہائڈ اورپولیمرکوٹڈ یوریا سلو ریلیز کھادوں میں شامل ہیں۔ یوریا فارمیلڈی ہائیڈ کھاد یوریا اور فارمیلڈی ہائیڈ سے ملکر بنتی ہے۔ یہ کھاد آہستہ آہستہ حل ہو کر ایک سال تک نائٹروجن مہیا کرتی ہے۔ میتھایلین یوریا کھاد یوریا اور فارمیلڈی ہائیڈ سے ملکر بنتی ہے۔ اس میں پچیس سے ساٹھ فیصد نائٹروجن ایسی حالت میں موجود ہوتی ہے جو ٹھنڈے پانی میں غیر حل پزیر ہوتی ہے۔ سلفر کوٹد یوریا کھاد میں یوریا کھاد کے اوپر سلفر کی تہہ لگائی جاتی ہے۔ یہ آہستہ آہستہ پانی میں حل ہو کر پودوں کو ملتی ہے۔ پولیمر کوٹڈ یوریا کھاد میں یوریا کے اوپرپولیمر کی تہ لگائی جاتی ہے۔ پولیمرکی یہ تہ زمین کے درجہ حرارت کی وجہ سے حل ہوتی ہے اورپودوں کو غذائی اجزاء مل جا تے ہیں۔ ان کھادوں کی مقررہ مقدار کو ایک دو انچ گہرائی میں اچھی طرح مٹی میں ملایا جاتا ہے۔ پھر وقت کے ساتھ ساتھ غذائی اجزاء پودوں کو ملتے ہیں۔

ان کھادوں کے بہت سے فوائد ہیں جن میں سے کچھ مندرجہ ذیل ہیں:

1۔ آہستہ حل پذیر کھادوں کے استعمال سےکیمیائی کھادوں کے استعمال میں بیس سے تیس فیصد کمی آتی ہے جب کہ پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے۔

2۔ کھادوں سے ہونے والے نقصانات میں کمی آتی ہے جیسا کہ اضافی کھادوں سے پتوں اور  پودوں کا جل جانا۔

3۔ ان کھادوں کے استعممال سے غذائی اجزاء کی لیچنگ میں بھی کمی آتی  ہے۔

4۔ کھاد کی صحیح مقدار اورصحیح وقت پر استعمال کرنے سے پیسوں کی بھی بچت ہوتی ہے۔

5۔ سلفر کوٹڈ یوریا سے مٹی کی پی ایچ کو کم کرنے میں مدد ملتی۔ اور مٹی کی تیزابیت میں اضافہ ہوتا ہے۔

6۔ ان کھادوں کی مدد سے ایسے علاقے جہاں پانی کی کمی ہوتی ہے وہاں بھی فصلوں کی اچھی پیداوار لی جاتی ہے۔

ان سب فوائد کے ساتھ ساتھ سلو ریلیز کھادوں کے کچھ مسائل بھی ہیں جنکی وجہ سے انکا استعمال بہت زیادہ نہیں کیا جاتا۔

1۔ آہستہ حل پذیر کھادوں کو بنانے کے لئے عام کھادوں کے مقابلے میں زیادہ وسائل درکار ہوتے ہیں جسکی وجہ سے انکی قیمت بھی زیادہ ہوتی ہے اور کسان انکو خرید نہیں سکتے۔ آہستہ حل پذیر نائٹروجن عام کھاد سے پینتیس فیصد مہنگی ہوتی ہے۔

2۔ سلفر کوٹڈ یوریا کی وجہ سے مٹی کی پی ایچ کم ہو جاتی ہے۔ جسکی وجہ سے غذائی اجزاء جیسے کیلشیم اور میگنیشیم کی کمی ہو جاتی ہے۔

3۔اگر درجہ حرارت کم ہو تو غذائی اجزاء پودوں کو وقت پر نہیں ملتے۔