جانوروں کی نگرانی اورصحت کی معلومات کیلئے روائتی لائیو سٹاک فارمنگ میں زیادہ تر دستی معائنہ اور بصری مشاہدات استعمال ہوتے ہیں۔ روائتی لائیو سٹاک فارمنگ کے کچھ بنیادی نقصانات ہیں مثلاً مویشیوں کی بیماری کا پتہ نہ لگنا، مویشیوں کی نگرانی کرنا۔ روائتی طریقہ میں وقت بھی زیادہ لگتا ہے اور یہ ناقابل اعتبار ہوتا ہے۔ زراعت کے شعبے میں جن شعبوں کو ڈیجیٹل کیا جا رہا ہے ان میں سے ایک مویشیوں کی صحت کی نگرانی ہے۔ ٹیکنالوجیز میں حالیہ ترقی نے مویشیوں کی نگرانی اور انتظام کے لیے مختلف نئی تکنیک ایجاد کی ہیں۔جن میں متعدد خصوصیات شامل ہیں جیسے مویشیوں کی صحت کی نگرانی، مویشیوں کے مقام کا پتہ لگانا اور جانوروں کی خوراک کی مقدار اور معیار کی نگرانی کے لیے سمارٹ فیڈنگ کا طریقہ کار۔

جانوروں کی نگرانی کے نظام میں مختلف اقسام کے آلات استعمال ہوتے ہیں مثلاً ماحول میں درجہ حرارت اور نمی کی سطح کو محسوس کرنے کے لیے سینسر، مویشیوں کے جسم کے درجہ حرارت کا پتہ لگانے کے لیے درجہ حرارت کا سینسر، مویشیوں کے دل کی دھڑکن کو فی منٹ مانیٹر کرنے والا سینسر اور تلاش کرنے کے لیے ایکسلرومیٹر ۔ جانوروں کے جسمانی اشارے سینسرز سے جمع کیے گئے ڈیٹا کو مصنوعی ذہانت کے الگورتھم کا استعمال کرتے ہوئے ذخیرہ اور درجہ بندی کیا جاتا ہے تاکہ صحت کی درجہ بندی کے نتائج جیسے نارمل، کم نارمل اور غیر معمولی حالات پیدا ہوں۔ جانوروں کی نگرانی اورصحت کی معلومات کیلئے بنا سسٹم عام طور پر درج ذیل مراحل سے گزر کر بنتا ہے:

1) آلات اور فزیکل کنٹرولر۔

2) 3-جی اور 4-جی مواصلاتی نظام۔

3) ڈیٹا وصول کا نظام۔

4) ڈیٹا کو ذخیرہ کرنے کا نظام۔

5) ایپلی کیشن جو مصنوعی ذہانت سے سیکھنے اور پیشن گوئی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔