دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ ضروریات زندگی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔انہی ضروریات میں خوراک بھی شامل ہے۔ان حالات میں پوری دنیا کا رجحان زراعت کی طرف منتقل ہو رہا ہے اور زراعت کے نئے لیکن قدرتی طریقوں کو عمل میں لایا جا رہا ہے۔انہی طریقوں میں ایک طریقہ شہد کی مکھیوں کی مدد سے پولینیشن میں اضافہ شامل ہے۔

زراعت میں پولینیشمن کا کردار بہت اہم ہےاور فصل کی پیداوار کے لئے بنیادی ستون کا کام کر تا ہے۔ ایک ہی قسم کے پھول کے نر حصے سے مادہ حصے میں پولن کی منتقلی کو پولینیشن کہا جاتاہے، جس کے نتیجے میں بیج بنتے ہیں۔ بہت سے عوامل پولینیشن میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اسکے علاوہ پولن پھول کے ایک حصہ سے دوسرے حصہ تک منتقلی مختلف ویکٹرز کی مدد سے ہوتی ہے۔ جن میں پانی، ہوا، اور جانور جیسے چمگادڑ، کیڑے، ہوور فلائیز، پرندے، شہد کی مکھیاں، تتلیاں، تھرپس اور بیٹل شامل ہیں۔ ان میں شہد کی مکھی کی بہت اہمیت ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں اگائی جانے والی سو زرعی فصلیں جو دنیا کی خوراک کا نوے فیصدحصہ فراہم کرتی ہیں، ان میں سے سترکو شہد کی مکھیاں پولینٹ کرتی ہیں۔ چار سو سے زیادہ فصلیں جیسے گری دار میوے،سبزیاں، پھل،سورج مکھی اوراسکے علاوہ بہت سی فصلوں کوشہد کی مکھیاں پولینٹ کرتی ہیں۔ 

شہد کی مکھیوں کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ پوری دنیا میں کسان اپنی فصلوں کی پولینیشن کے لیےاپنے کھیتوں کے قریب مکھیوں کے مصنوعی چھتے بناتے ہیں۔ مکھیوں یا ویکٹرز کے بغیر بہت کم فصلیں اچھی پیداوار دیتی ہیں ۔مکھیوں کی زندگی کا زیادہ تر حصہ زردانے(پولن )جمع کرنے میں گزرتا ہے، جو انکے لئے پروٹین کا ایک ذریعہ ہے جسے وہ چھوٹی مکھیوں کو کھلاتی ہیں۔ شہد کی مکھی کے پورے جسم پر چھوٹے چھوٹے بال ہوتے ہیں۔ مکھی جب پھول پر بیٹھتی ہے تو پھول پر موجود زردانے (پولن)مکھی کے بالوں کے ساتھ لگ جاتے ہیں۔ ان کی ٹانگوں پر موجود سخت بالوں کی مدد سے وہ زردانوں (پولن) کو اپنی ٹانگوں پر موجود مخصوص جیبوں میں ڈالتی ہیں، اور پھراپنےچھتے میں لے جاتی ہیں۔کچھ پولن پودے پر موجود دوسرے پھولوں پر گر جاتے ہیں اور فرٹیلائزیشن کا عمل شروع ہوتا ہے۔جسکے بعد بیج اور پھل بنتا ہے۔ مکھیوں کے ذریعے ہوئی پولینیشن سے پھلوں، گری دار میوے اور تیل کا معیار اور مقداراچھی ہوتی ہے۔

اسکے علاوہ مکھیوں کی اہمیت شہد کی منافع بخش صنعت کی وجہ سے بھی بہت زیادہ ہے۔شہد ایک مفید مائع ہے جو بہت سی بیماریوں کے لئے دوا کا کام کرتا ہے۔ اسکے علاوہ بھی اسکے بہت فوائد ہیں ۔مکھیاں مختلف پھولوں سے رس چوستی ہیں اور اس رس سے شہد بنتا ہے۔شہد کا رنگ اور ذائقہ شہد کی مکھیوں کے جمع کردہ رس کی بنیاد پر مختلف ہوتا ہے۔ شہد میں کولیسٹرول نہیں ہوتا، بلکہ یہ ایسے اجزا اور وٹامنز سے بھرپور ہوتا ہے جو صحت کے لیے نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح میں کمی لاتے ہیں۔ روزانہ شہد کھانے کے نتیجے میں اینٹی آکسائیڈنٹس اجزا جسم میں مثبت کولیسٹرول کی سطح برقرار رکھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ طبی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ شہد میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس اجزا شریانوں کو چربی جمنے کے سبب پتلی ہونے سے بچاتا ہے۔ان سب فوائد کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ شہد کی مکھیاں زراعت کے لئے مفید ثابت ہوتی ہیں اور انکے دوسرے بہت سے فوائد بھی موجود ہیں۔