پاکستان ایسے جغرافیائی خطے میں واقع ہے جہاں درجہ حرارت میں اضافہ عالمی اوسط درجہ حرارت میں اضافہ سے زیادہ ہے۔ پاکستان کے تقریباً ساٹھ فیصد علاقے میں سالانہ اڑھائی سوملی میٹر سے کم بارش ہوتی ہے اور چوبیس فیصدعلاقوں میں بارش اڑھائی سو سے پانچ سوملی میٹر کے درمیان ہوتی ہے۔ گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں گلیشیرز بھی تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ پاکستان کی معیشت کا انحصار زراعت پر ہے اورزراعت کا انحصار موسم پر ہوتا ہے۔ آجکل پاکستان میں موسمی درجہ حرارت میں تبدیلی آرہی ہے جسکی وجہ سے زراعت متاثرہو رہی ہے۔ کیونکہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سےفصلوں کی پیداوار، اناج کی غذائیت اور مویشیوں کی پیداواری صلاحیت کم ہو رہی ہے۔

 پاکستان میں ربیع اور خریف  دو طرح کی فصلیں اگائی جاتی ہیں۔ ربیع فصلیں عام طور پر نومبر سے اپریل تک اگائی جاتی ہے جبکہ خریف فصلیں مئی سے اکتوبر تک اگائی جاتی ہیں۔ پاکستان کی اہم فصلوں میں گندم، چاول، کپاس، گنا اور مکئی شامل ہیں ۔ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کاشت کے اوقات اور نشونما کے مراحل کے حساب سے مختلف فصلوں پر مختلف ہوتے ہیں۔ درجہ حرارت تھوڑے عرصے کے لئے بڑھتا ہے تو اس سے گندم کی پیداوار متاثر ہوتی ہے۔ مثلاً اگر زیادہ لمبے عرصے کے لئے درجہ حرارت بڑھ جائے تو اسکے اثرات گندم کی پیداوار پر مثبت ہوتے ہیں۔ لیکن بارشوں میں تھوڑے یا لمبے عرصے کے لئے اضافہ دونوں صورتوں میں ہی گندم کی فصل کے لئےنقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ اسی طرح چاول کی پیداوار بڑھانے کے لئے درجہ حرارت کا بڑھنا فائدہ مند ہوتا ہے لیکن درجہ حرارت کا ایک خاص حد سے زیادہ بڑھ جانا چاول کی فصل کے لئے نقصاندہ ثابت ہوتا ہے۔ جبکہ بارشوں میں اضافہ چاول کی پیداوار کے لئے نقصاندہ نہیں ہوتا۔ اسکے علاوہ درجہ حرارت اور بارشوں دونوں میں تبدیلی کپاس کی پیداوار پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ لمبے عرصے تک درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے گنے کی پیداوار میں بھی کمی آتی ہے۔

اس وقت بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے لئے پاکستان میں تقریباً تمام قابل کاشت زمین زیر کاشت ہے۔ اس سال درجہ حرارت کےغیر معمولی بڑھنے کی وجہ سے پاکستان میں گندم کی پیداوار بری طرح متاثر ہوئی ہے اور پیداوار میں کم از کم دس فیصد کمی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ پاکستان کی گندم کی ضرورت تقریباً 30 ملین ٹن ہے لیکن ماہرین زراعت کو خدشہ ہے کہ مارچ 2022 کے مہینے میں انتہائی خشک سالی اور بلند درجہ حرارت کی وجہ سے ملک کی گندم کی پیداوار 26 ملین ٹن ہونے کی امکانات ہیں جو کہ ملک میں گندم کی کل ضرورت سے کم ہیں۔ گندم کے علاوہ دوسری فصلیں اور پھل بھی گرمی سے متاثر ہو رہے ہیں۔ مارچ اور اپریل میں درجہ حرارت کے بڑھنے اور پانی کی کمی کی وجہ سے سندھ میں آم کی پیداوار میں بھی تیس فیصد کمی کی امکانات ہیں۔

پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں سے ایک ہے۔ پاکستان کو گندم، چاول اور پھلوں سمیت فصلوں کی خشک سالی اور گرمی کے خلاف مزاحمت کرنے والی اقسام پر تحقیق شروع کرنے کے ساتھ ساتھ پانی کے بڑے ذخائر قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ موسمی تبدیلی کی وجہ سے ملک میں زراعت اور مجموعی طور پرزندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔