پاکستان ایک زرعی ملک ہے۔ یہاں کی آب وہوازراعت کے لئے نہایت موزوں ہے۔ پاکستان کے بہت سے علاقوں میں فصلوں کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر پھلوں کے باغات بھی لگائے جاتے ہیں جو سالوں پھل دیتے ہیں اور منافع بخش ثابت ہوتے ہیں۔ بہت سے پھل خاص طور پر آم ملک کی برآمدات کا بھی اہم حصہ ہے۔ 

پاکستان میں آم کے سینکڑوں چھوٹے بڑے باغات ہزاروں ایکڑ پر پھیلے ہوئے ہیں اور آم کی کئی اقسام پیدا کرتے ہیں۔ پاکستان کی مشرق وسطیٰ، یورپ، امریکہ، جاپان، آسٹریلیا اور دیگر ممالک میں  سالانہ آم کی برآمدات 150,000 میٹرک ٹن ہے۔ 2018 تک، پاکستان میں سالانہ 1.9 ملین میٹرک ٹن آم پیدا ہو رہا تھا۔ لیکن گزشتہ چار سالوں کے دوران گلوبل وارمنگ کی وجہ سے ملک میں آم کی پیداوار میں کمی آئی ہے۔ اس وقت پاکستان میں آم کی سالانہ پیداوار 1.7 ملین سے 1.8 ملین میٹرک ٹن کے درمیان ہے۔ جس میں ستر فیصد پیداوار پنجاب سے، انتیس فیصد سندھ اور ایک فیصد خیبر پختونخواہ سے آ رہی ہے۔ پنجاب میں گزشتہ سیزن کے دوران آم کی سالانہ پیداوار 1.45 میٹرک ٹن ریکارڈ کی گئی جو کہ پچھلے سال کے 1.32 میٹرک ٹن سے 9.8 فیصد زیادہ ہے۔ 

لیکن مارچ اوراپریل میں جنوبی ایشیا کو شدید گرمی کی لہر کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ پاکستان کے محکمہ موسمیات کے مطابق درجہ حرارت معمول سے تین سے چھ ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ رہا ہے۔ اسکے علاوہ پنجاب اور سندھ میں اکثر علاقوں میں شدید طوفان کی وجہ سے فصلوں اور پھلوں کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ پنجاب اور سندھ کے صوبوں میں آم کی کاشت کرنے والے علاقوں میں درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے کے ساتھ ساتھ پانی کی قلت اور غیر متوقع آندھی نے فصلوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ سندھ کے 60 سے 70 فیصد علاقے پانی کی قلت کا شکار ہیں۔  گزشتہ سال درجہ حرارت جو 33 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب تھا اب بڑھ کر 43 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا ہے جس سے فصل پھول اور پھل آنے کے ابتدائی مراحل میں ہی تباہ ہو گئی ہے۔ درجہ حرارت کے غیر معمولی اتار چڑھاؤ نے مختلف علاقوں میں آم کی تیس سے ساٹھ فیصد فصل کو نقصان پہنچایا ہے۔ 

پاکستان میں آبپاشی کا ایک بڑانظام موجود ہونےکے باوجود صوبوں کے درمیان پانی کا تنازعہ سالوں سے قائم ہے۔ سندھ اور پنجاب میں پانی کی تقسیم پر جھگڑا چل رہا ہے۔اسی طرح بلوچستان جو کہ زمین کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے لیکن آبادی کے لحاظ سے سب سے کم ہے،اسکا سندھ کے ساتھ پانی کے مسئلہ پر جھگڑا ہمیشہ سے چلتا آ رہا ہے۔ ان سب مسائل اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات نے پاکستان کی زراعت کو بہت متاثر کیا ہے۔ یہاں تک کہ صحرا بندی سے نمٹنے کےلئے اقوام متحدہ کے بنائے گئے کنونشن نے پاکستان کو ان تئیس 23ممالک کی فہرست میں شامل کردیا ہے جو خشک سالی کی ہنگامی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ اسکے ساتھ ساتھ بین الاقوامی ماحولیاتی ایجنسیوں نے بھی خبردار کیا ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے بری طرح متاثر ہونے والے دس ممالک میں شامل ہے اور 2025 تک  پاکستان میں پانی کا بحران مزید سنگین ہوسکتا ہے۔

 ان حالات پر قابو پانے کے لئے گورنمنٹ کو مستقل سطح پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ فصلوں اور پھلوں کی ایسی اقسام متعارف کروانے کی ضرورت ہے جن میں گرمی اور خشک سالی برداشت کرنے کی صلاحیت موجود ہو۔ اسکے علاوہ پانی کے مسائل کے حل کے لئے گورنمنٹ کو صوبوں کے درمیان پانی کی منصفانہ تقسیم کے لئے بہتر اقدامات کرنے چاہیے۔