دنیا کی آبادی بڑھ رہی ہے اوربڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ خوراکی ضرورت میں بھی اضافہ ہورہاہے ۔بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے فصلوں کی پیداوار بڑھانے کے لئے مختلف طریقے استعمال کئے جا رہے ہیں جن میں کیمیائی کھادوں اور کیمیائی ادویات کا استعمال بھی شامل ہے۔ کیمیائی کھادوں کے استعمال سے پیداوار میں تو اضافہ ہوتا ہے لیکن معیار متاثر ہو رہا ہے۔اسکے ساتھ ساتھ یہ بہت سی بیماریوں کا بھی سببب بنتا ہے۔ایسے حالات میں لوگوں کا رجحان کچن گارڈننگ کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔دیہات میں لوگوں کے پاس زمین کی موجودگی کے باعث گھر میں سبزیاں اور دیگر اشیاء اگانا مشکل نہیں ہے لیکں اب شہروں میں بھی بہت سے لوگ گھر میں پھول ، پودوں اور درختوں کے ساتھ ساتھ سبزیاں اگانے کے خواہشمند ہیں، کیونکہ وہ نامیاتی اور صحت بخش خوراک کھانا چاہتے ہیں۔ گھروں میں اگائی گئی سبزیاں تازہ اور کیمیکلز سے محفوظ ہوتی ہیں ۔اسکے علاوہ انکا ذائقہ بھی اچھا ہوتا ہے۔ کچن گارڈن شروع کرنے کے لئے کچھ اہم نکات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ وہ نکات مندرذیل ہیں:

کچن گارڈن شروع کرنے کے لئے سب سے پہلے مناسب موسم کا انتظار کیا جاتا ہے۔ گھر میں سبزیاں اگانے کی شروعات کے لئے موسم بہار مناسب موسم سمجھا جاتا ہے۔

کچن گارڈن شروع کرنے کے لئے مناسب جگہ کا انتخاب کرنا ضروری ہے۔ گھر میں سبزیاں اگانے کے لئے گھر کے باہر یا لان میں ایسی جگہ کا انتخاب کیا جاتا ہے جہاں مناسب دھوپ آتی ہو۔ ایک حصہ سایہ دار رکھا جاتا ہے جہاں ایسی سبزیاں لگائی جاتی ہیں جنکو دھوپ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اسکے علاوہ ایسی جگہ کا انتخاب کیا جاتا ہے جہاں مٹی زرخیز ہو اور پانی کی نکاسی اچھی ہو۔ اگر مناسب جگہ موجود نہ ہو تو گھر کے آنگن، بالکونی، چھت یا کھڑکیاں جہاں دھوپ آتی ہو اور گملوں میں بھی سبزیاں اگائی جاتی ہیں۔

سبزیاں اگانے سے پہلے زمین کو اچھی طرح تیار کیا جاتا ہے۔ زمین سے جڑی بوٹیاں نکال دی جاتی ہیں۔ اور کچھ دن کے لئے زمین کو پلاسٹک شیٹ سے ڈھانپ دیا جاتا ہے۔ تاکہ زمین کا درجہ حرارت نارمل ہو سکے۔

سبزیوں کی کاشت کے لئے زمین سے تھوڑی اونچی کیاریاں بھی بنائی جاتی ہیں۔

شروع میں آسانی سے اگنے والی سبزیوں کا انتخاب کیا جاتا ہے جیسا کہ پودینہ، پالک، ٹماٹر، کالی مرچ، بینگن ، پھلیاں، کھیرے اور مولی وغیرہ۔ بیلوں والے پودے جیسے ٹماٹر، مٹر،خربوزہ، لوکی وغیرہ کو باڑ، ٹریلیسز یا پنجروں کی مدد سے سیدھا اوپر کی طرف اگایا جاتا ہے۔

ہر کیاری سے اچھی پیداوار حاصل کرنے کے لیے پودوں کے درمیان فاصلہ رکھا جاتا ہے۔

بیج کو پہلے ٹرے اور گملے میں بویا جاتا ہے پھر پودے نکلنے پر انکو باغ میں منتقل کیا جاتا ہے۔ اس طرح بیج کا نقصان نہیں ہوتا اور پھل بننے میں وقت بھی کم لگتا ہے۔

ایسے لوگ جو ٹھندے علاقوں میں رہتے ہیں وہ سبزیوں کی ایسی اقسام کا انتخاب کرتے ہیں جنکا دورانیہ کم ہوتا ہے۔

ایک سے زیادہ سبزیاں اگائی جاتی ہیں اور ایسی سبزیوں کا انتخاب کیا جاتا ہے جنکے کاشتی امور بوائی سے لیکر کٹائی تک ایک جیسے ہوں۔

شروع میں ایسی سبزیوں کا انتخاب کیا جاتا ہے جنکو زیادہ دیکھ بھال کی ضرورت نہ ہو اور ان پر کیڑوں کا حملہ بھی کم ہو۔

کچن گارڈن میں نامیاتی کھاد کا استعمال کیا جاتا ہے۔ کچن کی بچی ہوئی سبزیوں اور دوسری چیزوں سے بنی کھاد بھی استعمال کی جاتی ہے۔

زمین پر کاشت کی گئی سبزیوں کو ہفتہ میں ایک دفعہ پانی دیا جاتا ہے جبکہ گملوں میں لگی ہوئی سبزیوں کو روزانہ پانی دیا جاتا ہے۔

زمین میں پا نی برقرار رکھنے کے لئے ملچنگ کی جاتی ہے۔ ملچنگ کے ذریعے جڑی بوٹیوں کو بھی اگنے سے روکا جاتا ہے۔

کیڑوں کے خاتمے کے لئے کیڑے مار ادویات کے استعمال سے اجتناب کیا جاتا ۔