آجکل کی مصروف زندگی میں قدرت کے درمیان رہنا ہر انسان کی خواہش ہے۔ کیونکہ یہ نہ صرف دلکش اور پُرسکون ہوتا ہے بلکہ صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔ قدرت کے درمیان رہنے کا ایک آسان اورعام طریقہ گھریلو باغیچہ ہے۔ گھریلو باغیچہ میں گھاس ایک اہم اور بنیادی جزو ہے۔ باغیچہ میں لگائی گئی گھاس نہ صرف آکسیجن پیدا کرتی ہے بلکہ ہوائی آلودگی کوکم کرنے اوربارش کے پانی کو زمین میں جذب ہونے میں بھی مدد دیتی ہے۔ باغیچہ میں ہاتھوں سے کام کرنے سے نہ صرف ذہنی سکون حاصل ہوتا ہے بلکہ ورزش کی وجہ جسم چاک و چوبند اور بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔ صبح سویرے ننگے پاؤں گھاس پر چلنے سے جسم میں تازگ محسوس ہوتی ہے۔ یہ تمام فوائد اُسی وقت حاصل ہوسکتے ہیں جب ہمارا دل کرے اپنے باغیچہ میں بیٹھنے کا یا گھاس پر چلنے کا۔ اس تناظر میں باغیچہ میں گھاس تراشنے کا عمل بہت اہمیت کا حامل ہے۔

گھاس میں تراشنے کے بعد دوبارہ اُگنے کی صلاحیت ہوتی ہے کیونکہ پتے پودے کی نچلے حصے سے پروان چڑھتے ہیں۔ چونکہ گھاس کی بڑھوتری مختلف موسموں میں مختلف ہوتی ہے۔ اس لیئے گھاس کو درست وقفہ اور طریقہ سے نہ تراشا جائے تو گھاس تناؤ کا شکار ہوجاتی ہے اور اس کی ظاہری حالت خراب ہو جاتی ہے۔ تراشنے کے وقت اس بات کا خیال رکھنا چاہیئے کہ گھاس کے پتے چالیس فیصد سے زیادہ نہ کاٹے جائیں۔ مثال کے طور پر اگر گھاس کا قد دو انچ رکھنا ہے تو جب گھاس تین انچ کی ہو تو اس کو تراش لینا چاہیئے۔ تراشنے کے بعد جب پتے اکھٹے کیے جائیں تو کچھ پتے گھاس کی سطح پر ہی چھوڑ دینے چاہیئے تاکہ نئی اُگنے والی گھاس ان پتوں کو کھاد کے طور پر استعمال کرسکے۔