وقت کے ساتھ ساتھ دنیا کی آبادی بڑھتی جا رہی ہے ۔اس بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات کو پورا کرنے اور لوگوں کو روزگار مہیا کرنے کی غرض سے کے لئے جنگلات کو کاٹا جا رہا ہے اور زرعی زمین کو بھی شہروں اور صنعتی علاقوں میں تبدیل کیاجا رہا ہے۔ ایسے میں بڑھتی ہوئی آبادی کے لئے خوراک کو پورا کرنا مشکل ہو گیا ہے ۔ اسکے علاوہ آجکل دنیا کی آب و ہوا میں بھی تبدیلی آرہی ہے۔اس موسمی تبدیلی کی وجہ سے بھی زرعی پیداوار میں کمی آرہی ہے ۔ ان وجوہات کی بناء پر خوراک کا حصول اور بھی مشکل ہو گیا ہے۔ ان حالات میں خوراک کے حصول کے مختلف طریقوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ ان طریقوں میں ایک فوڈ سکیپنگ کا طریقہ بھی شامل ہے۔ اس طریقے میں گھروں کے لان میں سجاوٹ اور خوبصورتی کے لئے لگائے جانے والےپودوں کی جگہ پھلوں ، سبزیوں اور ایسے پودوں کو لگایا جاتا ہے جن سے خوراک حاصل کی جا سکے۔ یہ طریقہ گنجان آباد علاقوں کے لئے بہتر سمجھا جاتا ہے جہاں اس طریقےکا استعمال کر کے آرائش اور خوراک کے حصول کے ساتھ پیسے کی بھی بچت کی جاسکتی ہے۔

تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ طریقہ قدیم روم کے باغات کے لئے بھی اپنایا جاتا تھا۔ان باغات کا بنیادی مقصد زرعی پیداوارکا حصول تھا۔ آجکل بھی فوڈ سکیپنگ کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے اوربہت سے ممالک میں فوڈ سکیپنگ کی جا رہی ہے۔ اسکے ذریعے گھروں میں پھل، سبزیاں اور دوسرے پودے لگا کر باہر کے پھل اور سبزیوں پر انحصار کو کم کیا جا سکتا ہے اور توانائی کے استعمال میں بھی کمی لائی جا سکتی ہے۔ جیساکہ ہم دیکھتے ہیں کہ بڑے رقبے پر کاشکاری کی صورت میں ڈیزل اور بجلی کا استعمال بھی زیادہ ہوتا ہے لیکن چھوٹے پیمانے پر پھل اور سبزیاں لگانے سے ڈیزل اور بجلی دونوں ہی کم استعمال ہوتی ہیں۔ اس طرح ہر گھر کی ضرورت کے مطابق خوراک بھی میسر آتی اور توانائی اور پیسے کی بچت بھی ہوتی ہے۔

اس طریقے سے حاصل کی گئی سبزیاں اور پھل غذائیت کے لحاظ سے بھی مارکیٹ میں میسر سبزیوں اور پھلوں سے بہتر ہوتے ہیں۔ 2014 میں ایک سروے کیا گیا جسکے مطابق امریکہ میں اکہتر فیصد فوڈسکیپنگ کا مقصد غذائیت سے بھرپور خواراک کا حصول تھا۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ گنجان آباد شہروں میں تازہ پھل اور سبزیاں بہت کم میسر آتی ہیں فوڈ سکیپنگ کے ذریعے گھروں میں تازہ پھل اور سبزیاں آسانی سے حاصل کی جاسکتی ہیں ۔ اسکے علاوہ آجکل زیادہ پیداوار کے حصول کے لئے کیمیائی کھادوں کا استعمال بہت بڑھ گیا ہے اور ان سے حاصل ہونے والے پھلوں ، سبزیوں اور فصلوں میں کیمیکل کے اثرات بھی موجود ہوتے ہیں جو ایک قابل فکر بات ہے۔ گھروں میں اگائی جانے والی سبزیاں غیر ضروری کیمیکلز سے پاک ہوتی ہیں۔

فوڈ سکیپنگ کے لئے ضروری ہے کہ مکمل وقت دیا جائے اور ایسے پودے اور انکی ایسی اقسام کا انتخاب کیا جائے جو جغرافیائی محل وقوع، آب و ہوا اور اس علاقے کے لئے موزو ں ہوں۔ دنیا کے بدلتے ہوئے حالات کے لئے فوڈ سکیپنگ خوراک کے حصول کا ایک اچھا طریقہ ہے۔ ہمیں بھی ہر گھر میں فوڈ سکیپنگ کے طریقے کو اپنانا چاہئے اس طرح ہماری ضرورت پوری ہونے کے ساتھ ساتھ ماحول پر بھی بہتر اثر پڑے گا۔