دالیں پھلی دار اجناس کے خاندان سے تعلق رکھتی ہیں اور پاکستان میں یہ موسم سرما کی اہم فصل ہے۔ پاکستان میں اٹھارہ تحقیقی ادارے دال کی تحقیق اورپیداوار میں اضافہ کے لئے کام کر رہےہیں۔دالیں پھلیوں کی صورت میں اگتی ہیں اور انکے بیج  کھانے کے طور پراستعمال کئے جاتے ہین جو کہ سرخ ، بھورے ، سیاہ اور سبز رنگ کے ہوتے ہیں۔ دالوں  میں پروٹین اور فائبر کی کافی مقدار موجودہوتی ہے ۔دالوں کی افادیت اور اہمیت کی وجہ سے محکمہ زراعت نے بھی مسورکی کاشت کے لئے کسان حضرات کیلئے سفارشات مرتب کی ہیں۔ آجکل مسور کی کاشت جاری ہےجو کہ اکتوبر کے پہلے ہفتے سے شروع ہوئی ہے اور نومبر کے وسط تک جاری رہے گی۔ راولپنڈی ، جہلم ، چکوال ، گجرات ، سیالکوٹ ، بہاولپور ، مظفر گڑھ  اور ڈیرہ غازی خان میں اسکی کاشت کے لیے بہترین وقت یکم اکتوبر سے پندرہ نومبرہے۔ کاشتکار حضرات کے لئے ضروری ہے کہ وہ نومبر تک کاشت مکمل کر لیں اس سےمسور کی بہتر پیداوار حاصل ہوتی ہے۔ مسور کی پیداوار کو بڑھانے کے لئے ضروری ہے کہ بیماریوں اور کیڑوں سے قوت مدافعت رکھنے والی اقسام کاشت  کی جائیں ۔محکمہ زراعت نے مسور کی کچھ منظور شدہ اقسام بتائی ہیں جس کے استعمال سے زیادہ پیداوار حاصل ہو سکتی ہے۔ ان اقسام میں مسور 93 ، این آئی اے بی مسور 2002 ، این آئی اے بی مسور 2006 ، پنجاب مسور 2009 ، چکوال مسور اور مرکز 2009 وغیرہ شامل ہیں۔ مسور کی بہتر پیداوار کے لئے ایک بیگ ڈی اے پی کھاد یا ایک بیگ ٹرپل سپر فاسفیٹ اور آدھا بیگ یوریا کھاد یا تین بیگ سنگل فاسفیٹ اور آدھا بیگ یوریا کھاد ایک ایکڑ  میں استعمال کرنے سے بہتر نتائج حاصل ہوتے ہیں۔