دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی  کی وجہ سے خوراک کی ضروریات  بھی بڑھ گئی ہیں۔   اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے  اور فصلوں کی پیداوار بڑھانے کے لئےمختلف کھادیں اور کیڑے مار ادویات بہت زیادہ مقدار میں استعمال ہو رہی ہیں۔کیڑے مار ادویات ہماری جدید زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکی ہیں اور ان کا استعمال زرعی زمینوں، ذخیرہ شدہ اناج اورپھولوں کے باغات  میں موجود خطرناک  بیماریوں کو منتقل کرنے والے کیڑوں کے خاتمے کے لیے کیا جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق عالمی سطح پر ہر سال تقریباً 38 بلین ڈالر کیڑے مار ادویات پر خرچ ہوتے ہیں۔

کیڑے مار ادویات کے مسلسل استعمال نے پانی، ہوا اور مٹی  کو آلودہ کر دیا ہے۔ کیڑے مار ادویات مٹی  میں شامل ہو کر پودوں کی   جڑوں  میں موجود فائدہ مند بیکٹیریا  ، فنگس اور الجی کی افزائش اور میٹابولک سرگرمیوں کو متاثر کر تی ہیں۔ کیڑے مار ادویات مختلف ذرائع سے  پانی میں شامل  ہو تی ہیں ۔ جیسا کہ  صنعتی فضلہ کے ساتھ شامل ہونا،  پودوں پر سپرے کے بعد سپرے کے آلات کی دھلائی  سے، یا کھیتوں سے بارش یا آبپاشی کی وجہ سے ۔ ادویات  کا پانی میں شامل ہونا  آبی پودوں،  مچھلیوں ، دوسرے جانوروں اور یہاں تک کہ  انسانوں کے لیے  بھی سنگین خطرہ ہے۔

کیڑے مار ادویات فضائی آلودگی کی وجہ  بھی بنتی ہیں۔ کیڑے مار ادویات کے فصلوں پر  سپرے سے یہ ادویات   ہوا میں معطل ہو جاتی ہیں اور ذرات ہوا کے ذریعے دوسرے علاقوں میں چلے جاتے ہیں جو آلودگی کا باعث بنتے ہیں ۔  اورجنگلی حیات کے لیے خطرہ بن جاتی ہیں۔ یہ آلودگی انسانوں میں بھی مختلف بیماریوں کا باعث بنتی ہے۔

ان سب مسائل سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ فصلوں کو کیڑوں سے بچانے کے لئے کیمیائی طریقوں کے علاوہ  دوسرے غیر کیمیائی طریقوں کا استعمال بھی کیا جائے۔ کیڑے مار ادویات کا استعمال محکمہ زراعت  کی مقرر کردہ مقدار سے زیادہ نہ کیا جائے اور ایسی ادویات کا استعمال کیا جائے جو ماحول  کے لئے نقصان دہ نہ ہوں۔اسکے علاوہ کاشتکار اپنی فصل کے ارد گرد خالی زمین چھوڑیں یا  ایور گرین درخت ونڈ بریک کے طور پر لگائیں جوکیڑے مار ادویات کو جذب کرتے ہیں اور دوسرے علاقوں میں بڑھنے سے روکتے ہیں۔