مارچ اور اپریل کے دوران جنوبی ایشیاء خاص طور پر انڈیا اور پاکستان کو شدید گرمی کی لہر نے اپنی لپیٹ میں رکھا۔ کئی علاقوں میں درجہ حرارت 45 درجہ سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کرگیا۔ جس سے بجلی اور پانی کی شدید قلت پیدا ہو گئی۔ گرمی کی لہر کی وجہ سے جنوبی ایشیا میں بہت نقصانات بھی ہوئے۔ جن میں گرمی سے ہونے والی اموات، فصلوں کا خراب ہونا، بجلی بندش اور آگ لگنا شامل ہے۔ 

پاکستان میں مارچ 1961 کے بعد سب سے زیادہ گرم مہینہ رہا۔ پاکستان کے محکمہ موسمیات کے مطابق، جیکب آباد، جو کہ پاکستان کے صوبہ سندھ کا ایک شہر ہے اسکا درجہ حرارت 120.2 فارن ہائیٹ(       49 درجہ سینٹی گریڈ) تک پہنچ گیا تھا۔ اسکے بعد نواب شاہ میں بھی درجہ حرارت121.1  فارن ہائیٹ (49.4 درجہ سینٹی گریڈ) تک بڑھ گیا تھا۔ گرمی کی شدت آگے بھی برقرار رہنے کا امکان ہے۔ موسمی پیشن گوئی  کے مطابق  گیارہ اور بارہ مئی کو درجہ حرارت پچاس ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب ہونے کا امکان ہے اور کم از کم سولہ مئی تک پاکستان کے بیشتر حصوں میں ہیٹ ویو برقرار رہے گی۔ پیشن گوئی میں کہا گیا ہے کہ بالائی پنجاب، اسلام آباد، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور کشمیر میں دن کے وقت درجہ حرارت معمول سے7 سے9 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہے گا، جب کہ سندھ، جنوبی پنجاب اور بلوچستان  میں یہ معمول سے 6 سے8 ڈگری زیادہ رہے گا۔ سندھ کے چیف میٹرولوجیکل آفیسر ڈاکٹر سردار سرفراز کے مطابق دادو، سکھر، لاڑکانہ، جیکب آباد، شہید بینظیر آباد، نوشہرو فیروز، خیرپور، شکارپور اور گھوٹکی اضلاع میں دن کے وقت زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 46سے48 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھنے کا خدشہ ہے۔ اسکے علاوہ جامشورو، حیدرآباد، بدین، ٹھٹھہ، میرپورخاص اور عمرکوٹ کے اضلاع میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 43 سے 45 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔

گرمی کی اس لہر کی وجہ سے پانی کے ذخائر میں کمی ہونے کا امکان ہے۔ اسکے علاوہ فصلوں، سبزیوں اور باغات میں بھی پانی کی کمی کا مسئلہ سامنے آ سکتا ہے۔ حکام نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ جہاں تک ممکن ہو پانی کو محفوظ رکھیں۔ فصلوں کو گرمی کی شدت سے بچانے کے لئے ضروری ہے کہ ضرورت کے مطابق بار بار آبپاشی کی جائے۔ سبزیوں کے ارد گرد زمین کو ملچنگ کے ذریعے محفوظ رکھا جائے۔ اس طرح زمین ٹھنڈی رہتی ہے اور جلدی خشک نہیں ہوتی۔ جہاں تک ممکن ہو گرمی کی لہر کے دوران پودوں کی حفاظت کے لیے شیڈ کا انتظام کیا جائے۔اس سے پودے سورج کی روشنی کی شدت سے محفوظ رہتے ہیں اور مٹی ٹھنڈی رہتی ہے۔ مویشیوں کو بھی زیادہ سے زیادہ پانی پلایا جائے تاکہ وہ شدید گرمی کے اثرات سے محفوط رہ سکیں۔

شدید گرمی کے باعث اس سال فصلیں جلدی پک کر تیار ہو گئی ہیں جسکا اثر پیداوار پر ہوا ہے۔ گندم کا دانہ معمول سے چھوٹا ہے ۔ پیداوار میں کمی کے باعث کاشکاروں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ فصلوں کا جلدی تیار ہونا موسمی تبدیلی کے اثرات کی وجہ سے ہے۔  موسمی تبدیلی کے اثرات سے بچنے کے لئے مکمل تحقیق کی ضرورت ہے۔   کیونکہ آئندہ سالوں میں بھی ایسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تحقیقی اداروں اور حکومت کو مل کر اس مسئلہ کا حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

فصلوں کے علاوہ لوگوں کو بھی سورج کی روشنی سے بچنے کی تاکید کی ہے۔ گرمی کی شدت سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں۔ جیسا کہ پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جائے۔ باہر نکلنے سے پہلے سر ڈھانپ لیں۔ سائے میں رہیں اور غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں۔ جسم کو ٹھنڈا رکھنے کے لئے ٹھنڈے پانی سے نہائیں۔