پیداواری صلاحیت کو برقرار رکھنے کے لیے پانی دودھ دینے والے مویشیوں کی خوراک کا ایک اہم اور بنیادی  حصہ ہے۔ پانی کا استعمال مویشیوں کے جسم میں نیوٹرینٹس کا توازن برقرار رکھنے میں مدد کرتا ہے تاکہ عمل انہضام کو بہتر بنایا جا سکے، جسم سے فضلہ اور اضافی گرمی کو خارج کیا جا سکے اور غذائی اجزاء کو جسم کے بافتوں میں منتقل کیا جا سکے۔ ایک جانور کے جسم میں 60 سے 70 فیصد پانی ہوتا ہے۔ جبکہ  دودھ میں تقریباً 85% پانی ہوتا ہے۔ اس لیے دودھ  دینے والی گائے کو ہر لیٹر دودھ کے لیے ڈھائی لیٹر پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔

دودھ دینے والے مویشی اپنی پانی کی ضروریات کو پینے، پانی پر مشتمل فیڈ اور غذائی اجزا کے گلنے سے پیدا ہونے والے میٹابولک پانی کا استعمال کرکے پورا کرتے ہیں۔ وہ کھانا اور دودھ دینے کے فوراً بعد پانی پینا چاہتے ہیں۔ مثلاً گائے چارہ کھاتی ہے پھرپانی پیتی ہے پھر چارہ کھاتی ہے پھر پانی پیتی ہے۔ اس لیے پانی کے ٹینک فیڈ بنک سے 10 سے 15 میٹر کے اندر اندر آسان رسائی میں دستیاب ہونے چاہیئے۔ پانی کی ٹینک کے ارد گرد دس سے پندرہ فٹ صاف جگہ بھی ہو تاکہ جانورایک دوسرے کو دھکا نہ دیں سکیں۔ اس لیے کمرے/جگہ جہاں جانور ہوں اسکے قریب یا اندر پانی کے اضافی ٹینک رکھنا بہتر ہے۔ یہ دیکھا گیا ہے کہ گائیں ٹینکیوں کے مقابلے میں  پیالوں سے پانی آہستہ آہستہ پیتی ہیں۔ ایک گروپ میں ہر 20 گائیوں کے لیے کم از کم تین فٹ لمبا اور دو فٹ چوڑا پانی کا ٹینک درکار ہوتا ہے۔ گائے 25 سے 29 ڈگری سیلسیس کے درمیان درجہ حرارت والے پانی کو ترجیح دیتی ہے۔ بہت سے ڈیری پروڈیوسرز گائیوں کے پینے والے پانی کو گرم کرنے کے لیے دودھ کولنگ سسٹم کا استعمال کرتے ہیں۔

یہ سب عمومی سفارشات ہیں۔ یہ دیکھا گیا ہے، گرم موسم میں، بہت سے ڈیری فارمرز سفارش کردہ مقدار سے تجاوز کرتے ہیں جس سے ان کے دودھ دینے والے جانوروں کی میں مثبت تبدیلیاں آتی ہیں۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ ڈیری پروڈیوسروں کو پانی کی مقدار کو بڑھانے کے لیے نئے اور تخلیقی خیالات کے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے تاکہ پیداوارمیں اضافہ ہو۔