بہت سے جاندارپودوں میں بیماریاں پھیلانے کا سبب بنتے ہیں۔ان کو جاننا اور سمجھنا ضروری ہے اس طرح انکی روک تھام آسان ہو جاتی ہے۔ پودوں میں مختلف بیماریوں کا سبب بننے والے پیتھوجینز عام طور پر جڑ کےنظام ، پودوں کے سبز حصوں اور پھلوں کو تباہ کردیتے ہیں۔ان میں فنگس ، بیکٹیریا ، وائرس اور نیماٹوڈ شامل ہیں۔ان پیتھوجنز کی تفصیل درج ذیل ہے:

فنگس

پودوں میں بیماریاں پھیلانے کا ایک اہم سبب فنگس ہے۔ فنگس گیلے اور مرطوب حالات میں پھلتی پھولتی ہے۔ فنگس اپنی خوراک خود نہیں بنا سکتی لہذا وہ پودوں سے اپنی خوارک حاصل کرتی ہے اور پودوں میں بیماریاں پھیلانے کا سبب بنتی ہے۔پودوں میں تقریباً دو تہائی بیماریاں فنگس کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ فنگس عام طور پر مٹی میں موجود رہتی ہے۔ فنگس سے ہونے والی بیماریوں میں سفوفی پھپھوندی،روئیں دار پھپھوندی،کنگھی اور مرجھاؤ شامل ہیں۔

بیکٹیریا

بیکٹیریا بھی پودوں میں بیماریاں پھیلانے کا سبب بنتے ہیں۔ بیکٹیریا پودوں میں عام حالات میں داخل نہیں ہو سکتے۔ بیکٹیریا پودوں میں کسی کٹ یا قدرتی طور پر کھلے ہوئے حصوں سے داخل ہوتے ہیں۔ بیکٹیریا صرف تب فعال ہوتے ہیں جب انکو مناسب ماحول ملتا ہے۔ جب ماحول اور آب وہوا مناسب ہوتا ہے تو بیکٹیریا بڑی بڑی کالونیاں بناتے ہیں۔ بیکٹیریا پودوں میں پتوں کے داغ، بلیک راٹ، بیکٹیریل بلائٹ اور مرجھاؤ کا سبب بنتا ہے۔

نیماٹوڈ

نیماٹوڈ بھی پودوں میں بیماریاں پھیلانے کا سبب بنتے ہیں۔نیماٹوڈ خوردبینی حیاتیات ہیں جو کیڑوں سے ملتے جلتے ہیں۔ یہ زیادہ تر مٹی میں رہتے ہیں اور آسانی سے پودوں تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ نیماٹوڈ پودوں کے تمام حصوں جیسا کہ جڑوں، تنے ، پتوں، پھول اور بیج کونقصان پہنچاتے ہیں۔ نیماٹوڈ کی وجہ سے پودوں میں غذائی اجزاء کی کمی ہوجاتی ہے،پودے مرجھا جاتے ہیں اور پیداوار کم ہوجاتی ہے۔

وائرس

وائرس نہ صرف انسانی صحت بلکہ پودوں کی صحت کے لئے بھی نقصان دہ ہیں۔یہ حیاتیات خلیوں کے اندر رہتے ہیں۔ وائرس بیجوں کے ذریعے یا چھدرائی کے دوران پودے میں داخل ہوجاتے ہیں۔ فنگس اور نیماٹوڈ بھی پودوں میں وائرس پھیلانے کا سبب بنتے ہیں۔