پاکستان کا شمار دودھ پیدا کرنے والے ممالک میں ہوتا ہے۔ پہلےڈیری فارمنگ پرائیویٹ سیکٹرتک محدودتھی۔ لوگ اپنی ضروریات کے مطابق گھروں میں مویشی پالتے تھے ۔اور روایتی طریقوں کا استعمال کیا جاتا تھا۔لیکن پچھلی دو دہائیوں کے دوران اس شعبہ میں کافی ترقی ہوئی ہے۔ پاکستان میں جانوروں کی دیکھ بھال اور دودھ کی مصنوعات تیا رکرنے کے لئے روایتی اور تجارتی دونوں طریقوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اسکے علاوہ حکومتی سطح پر بھی اس میں بہت کام ہوا ہے۔ ڈیری فارمنگ کے لئے 2007میں پالیسی بنائی گئی ہے۔ حکومتی سطح پر بنائی گئی اس پالیسی نے ڈیری سیکٹر کی ترقی پر کافی توجہ دی ہے۔ اس نے کئی پرائیویٹ اسٹیک ہولڈرز کو ڈیری مصنوعات کی فارمنگ، پروکیورمنٹ اور پروسیسنگ میں سرمایہ کاری کرنے کی دعوت دی ہے۔ اس حقیقت کے باوجود کہ حکومت نے ڈیری سیکٹر کو ترقی کے لیے اہم ترجیحی شعبوں میں شامل کیا ہے، کسانوں کو بنیادی اسٹیک ہولڈرز ہونے کے باوجوداب بھی بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔ پاکستان میں دودھ کی پیداوار کے پانچ اہم نظام ہیں جن کی بنیاد محل وقوع، ریوڑ کے سائز اور انتطام کی سطح پر رکھی گئی ہے۔ ڈیری فارمنگ کے یہ نظام مندرجہ ذیل ہیں:

• سمال ہولڈر سبسسٹنس پروڈکشن سسٹم 

سمال ہولڈر مارکیٹ پروڈکشن سسٹم 

رورل کمرشل پروڈکشن سسٹم( دیہی تجارتی پیداواری نظام)

پیری اربن پروڈکشن سسٹم

لارج پیری اربن کمرشل ڈیری فارمنگ سمال ہولڈر

سبسسٹنس پروڈکشن سسٹم

ڈیری فارمنگ کے اس نظام میں چھوٹے پیمانے پر صرف گھریلو ضروریات کو پورا کرنے کے لئے مویشی پالے جاتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے خاندانی زمین کا استعمال کیا جاتا ہے اور کسان خود جانوروں کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ان جانوروں کی پچاس سے ساٹھ فیصد خوراکی ضروریات گندم کے بھوسے اور سبز چارے سے پوری ہوتی ہیں۔

سمال ہولڈر مارکیٹ پروڈکشن سسٹم

اس نظام میں پانچ سے سات جانور ہر گھر میں موجود ہوتے ہیں اور گھریلو ضرورت سے زیادہ دودھ موجود ہوتا ہے۔ ستر فیصد سے زیادہ دودھ بیچ دیا جاتا ہے۔

رورل کمرشل پروڈکشن سسٹم( دیہی تجارتی پیداواری نظام)

پاکستان میں 2006 کے بعد ڈیری سیکٹر بڑے پیمانے پر دودھ کی پروڈکشن کی طرف منتقل ہونے لگا۔ ایک دیہاتی کمرشل ڈیری فارم تیس جانوروں پر مشتمل ہوتا ہے۔ان جانوروں کی پچاس فیصدخوراکی ضرورت چارہ والی فصلوں سے جبکہ پینتیس فیصد بھوسے سے پوری کی جاتی ہے۔ فارم میں پیدا ہونے والا نوے فیصد دودھ فروخت ہوتا ہے۔

پیری اربن پروڈکشن سسٹم

اس نظام میں بیس سےدو سو چھوٹے پیمانے پر جبکہ دو سو سےدو ہزار بڑے پیمانے پرمویشی رکھے جاتے ہیں۔ ان فارمز سے دن میں دو مرتبہ دودھ بازار میں پہنچایا جاتا ہے۔ ملک میں اس طرح کے دو سو فارم موجود ہیں۔

لارج پیری اربن کمرشل ڈیری فارمنگ

گزشتہ دو سے تین دہائیوں کے دوران شہروں میں تیزی سے اضافے نے پیری اربن ڈیری فارمنگ کو لارج پیری اربن کمرشل ڈیری فارمنگ (کارپوریٹ فارمنگ) کی طرف منتقل کیاہے۔ ان فارموں کے مالکان کا مقصد زیادہ سے زیادہ دودھ کی پیداوار حاصل کرنا ہے۔ ان فارمز پر دودھ کی پروسیسنگ جیسا کہ چلنگ، پاسچرائزیشن اور پیکیجنگ کا انتطام بھی موجود ہے۔ اور تیار شدہ مصنوعات کو ڈیری کمپنیوں یا ڈیپارٹمنٹل سٹورز پر بھیجا جاتا ہے۔ملک میں ایسے فامز ایک فیصد سے بھی کم ہیں۔