لمپی سکن مویشیوں میں کیپریپوکس وائرس کی وجہ سے ہونے والی جلد کی بیماری ہے۔یہ بیماری 2012 تک افریقہ میں پائی جاتی تھی اسکے بعد یہ مشرق وسطیٰ، ایشیا اور مشرقی یورپ کے ممالک میں بھی پھیل چکی ہے۔ 2019 میں لمپی سکن کی بیماری چائنہ،بنگلہ دیش اور انڈیا میں بھی پھیل گئی۔ 2020 میں ایشیا کے مختلف ممالک جیسا کہ بھوٹان، میانمر،نیپال ، تایوان،ویتنام،سری لنکا بھی اس بیماری کی زد میں آ گئے۔

لمپی سکن کی بیماری ہر عمر اور ہر جنس کے جانوروں میں پائی جاتی ہے۔ تاہم چھوٹے جانور اس بیماری سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ لمپی سکن کی علامات میں بخار،ہائپر سلائویشن اور جلد کا پھٹ جانا شامل ہے۔ بیماری بنیادی طور پر کیڑوں جیساکہ مکھیوں اور مچھروں کے کاٹنے سے پھیلتی ہے۔ اسکے علاوہ لمپی سکن آلودہ آلات اور بعض صورتوں میں براہ راست جانوروں سے دوسرے جانوروں میں بھی پھیلتی ہے۔   لمپی سکن کی بیماری میں مویشیوں کے جسم پرپچاس ملی میٹر قطر کے ابھار سر،گردن اور دیگر اعضاء پر نمودار ہوتے ہیں۔ ان ابھار میں سرمئی یا پیلا مادہ موجود ہوتا ہے۔ شدید متاثرہ جانوروں میں لمپی سکن کی وجہ سے سانس اور معدے کی نالی میں بھی گھاؤ  بن جاتے ہیں۔ شدت اختیار کرنے کی صورت میں یہ بیماری جانوروں کی موت کا سبب بنتی ہے۔

مویشیوں میں لمپی سکن کی بیماری معاشی نقصان کا سبب بنتی ہے۔اس بیماری کے سبب دودھ کی پیداوار میں کمی آتی ہے۔

پاکستان میں بھی لمپی سکن کی بیماری پنجاب اور سندھ میں مویشیوں میں پائی جا رہی ہے اور اس بیماری کے سبب بہت سے جانور مر رہے ہیں۔ سندھ میں بیس ہزار سے زائد جانور اس بیماری کا شکار ہو چکے ہیں جن میں سے پندرہ ہزار جانور کراچی میں موجود ہیں۔ 54 جانور کی اس بیماری کے ذریعے موت کا شکار ہو چکےہیں۔ جبکہ 4751 جانور صحت یاب ہو گئے ہیں۔ صوبے میں مچھر اور کیڑے مار سپرے کئے جا رہے ہیں۔خصوصی طور پر ایسے علاقوں میں جہاں مویشیوں کے فارم موجود ہیں۔اسکے علاوہ حیدر آباد میں ہیلپ لائن ڈیسک بنایا گیا ہے۔ جہاں اس نمبر 0229201913 پر کال کر کے بیماری سے متعلق معلومات لی جا سکتی ہیں اور اس سے بچاؤ کے لئے اہم اقدامات کی تفصیل معلوم کی جا سکتی ہے۔

لمپی سکن کی بیماری بہت تیزی سے جانوروں میں پھیلتی ہے اس سے بچاؤ کے لئے وائرس کے خلاف ویکسین لگائی جاتی ہے اور جانوروں کی نقل و حرکت کو روکا جاتا ہے۔ اسکے علاوہ اس بیماری کا کوئی خاص اور واضح علاج موجود نہیں۔ اس لئے بہتر یہ ہے جانوروں کو احتیاطی تدابیر کے ذریعے اس بیماری سے بچایا جائے۔