یک اندازے کے مطابق دو ہزار پچاس تک عالمی آبادی نو اعشاریہ سات بلین ہو جائے گی۔ جس کی خوراک کی ضروریات کو پورا کرنا زراعت کے شعبے کیلئے بہت بڑا چیلنج ہے۔ زراعت سے منسلک افراد اس کوشش میں ہیں کہ وہ کیڑوں، بیماریوں اور جڑی بوٹیوں کے تدارک کے لیے ایسے ماحول دوست طریقے ایجاد کریں جو نہ صرف فصلوں کی پیداوار میں اضافہ کریں بلکہ کسانوں کے معاشی حالات بھی بہتر ہو۔ حیاتیاتی زرعی ادویات قدرتی پودوں، جانوروں، بیکٹیریا اور معدنیات سے بنائی گئی ایسی زرعی ادویات ہیں جو نہ صرف ماحول دوست ہیں بلکہ زمین کیلئے بھی کم نقصاندہ ہیں۔ ان حیاتیاتی زرعی ادویات کے بنیادی اجزاء کی بنیاد پر ماحولیاتی تحفظ ایجنسی نے انھیں تین گروہوں میں تقسیم کیا ہے۔ جرثوموں والی کیڑے مارادویات، پودوں سے بننے والی حفاظتی مادے اور حیاتیاتی کیمیکل والی کیڑے مارادویات

جرثوموں والی کیڑے مارادویات

جرثوموں والی کیڑے مارادویات وسیع اسپیکٹرم کیڑوں مار ادویات ہیں۔ بیکٹیریا، وائرس اور فنگس ان کیڑے مار ادویات کے بنیادی اجزاء ہیں۔ کیڑوں کی وسیع اقسام کے تدارک کے لیے بیسیلس تھورینجیئنسس جرثومے سب سے زیادہ استعمال ہوتے ہیں۔

پودوں سے بننے والی حفاظتی مادے

پودوں سے بننے والی حفاظتی مادے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ فصلیں ہیں۔ پودوں سے تیار ہونے والے یہ مادے بیکٹیریا یا فنگس سے الگ کردہ پروٹین کو پودوں میں ہی رکھ کر تیار کیے جاتے ہیں۔ اس کی ایک ایک عام مثال جینیاتی انجینئرنگ میں بیسیلس تھورینجیئنسس پروٹین کا استعمال ہے۔

حیاتیاتی کیمیکل والی کیڑے مارادویات

حیاتیاتی کیمیکل سے بننے والی کیڑے مار ادویات کیڑوں کے تدارک یا انکو غیر فعال کرنے کے لیے قدرتی طور پر پائے جانے والے مادے ہیں۔ سب سے زیادہ استعمال ہونے والی حیاتیاتی کیمیکل والی کیڑے مار ادویات میں نیم اور نیم سے بننے والی پروڈکٹس ہیں۔ ایک اور مثال سیمیو کیمیکل ہے۔ جو ایک ہی یا مختلف قسم کے کیڑوں کے فطری طرزعمل میں تبدیلی لاتے ہیں۔ سب سے زیادہ استعمال ہونے والے سیمیو کیمیکل جنسی پھندے ہیں۔ جنسی پھندے بالغوں کے ملاپ میں خلل پیدا کرکے کیڑوں کا تدارک کرتے ہیں۔