کیمیائی کھادوں کے بڑھتے ہوئے استعمال اور ان کے ماحولیاتی اثرات کی وجہ سے زمین کی زرخیزی بڑھانے کے دوسرے طریقوں پر غور کیا جا رہا ہے۔انہی طریقوں میں ایک حیاتیاتی کھاد یا بائیو فرٹیلائزر کا استعمال ہے۔ حیاتیاتی کھاد ( بائیو فرٹیلائزر ) ان فائدہ مند بیکٹیریا پر مشتمل ہوتی ہے جو زمین میں پودوں کی جڑوں کے ساتھ یا انکے اندر رہتے ہیں۔ حیاتیاتی کھاد میں موجود بیکٹیریا پودوں کو نائٹروجن، فاسفورس اور دوسرے خوراکی اجزا مہیا کرتے ہیں اوراسکے ساتھ ساتھ انکی نشو نما میں بھی اضافہ کرتے ہیں۔

حیاتیاتی کھاد کا استعمال مختلف فصلوں میں کیا جا تا ہے۔ لیکن پھلی دار فصلیں میں اس کا استعمال زمین میں کافی مقدار میں نائٹروجن کا اضافہ کرتا ہے۔ یہ کھادیں ہوا میں موجود نائٹروجن کو جذب کرتی ہیں اور پودے اس نائٹروجن کو استعمال کرتے ہیں۔ پھلی دار اجناس میں حیاتیاتی کھادوں کے استعمال سے پیداوار میں پندرہ سے بیس فیصد تک اضافہ ہوتا ہے اور کیمیائی کھادوں کے استعمال میں بھی کمی آتی ہے۔

حیاتیاتی کھاد استعمال کرنے کا طریقہ

حیاتیاتی کھاد استعمال کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ دو لٹر پانی میں آدھا کلو چینی ڈال کر مکس کریں اور اس محلول میں حیاتیاتی کھاد کے دو پیکٹ ڈال کر مکس کر لیں اور بیج پر لگائیں۔اور اچھی طرح مکس کریں۔یہ سارا عمل سایہ دار جگہوں پر کریں کیونکہ حیاتیاتی کھاد یا بائیو فرٹیلائزر میں زندہ بیکٹیریا موجود ہوتے ہیں جو زیادہ گرمی سے مر جاتے ہیں۔

کھادوں کا استعمال فصل کی زیادہ پیداوار لینے کے لئے ضروری ہے لیکن ہمیں زمین کی زرخیزی کو برقرار رکھنے کے لئے دوسرے طریقوں کو بھی استعمال میں لانا چاہئے۔ اس طرح زمین کی زرخیزی بھی برقرار رہے گی اور ساتھ ساتھ بہتر پیداوار بھی حاصل ہوگی۔جبکہ کسانوں کی کیمیائی کھادوں پر خرچ کی لاگت بھی کم ہوگی۔