دودھ دینے والے اور مال بردار جانوروں کے لیئے بہترین غذا ہے۔
ماٹ گراس ایک سخت قسم کا چارہ ہے۔ جو دودھ دینے والے اور مال بردار جانوروں کے لیئے بہترین غذا ہے۔ ماٹ گراس کھانے میں سخت ہوتی ہے جس کی وجہ سے چھوٹے جانور مکئی اور چری ک مقابلے میں ماٹ گراس شوق سے نہیں کھاتے۔ ماٹ گراس مئی، جون، اکتوبر اور نومبر میں چارے کی کمی کو پورا کرتی ہے۔ بہتر فصل کی اونچائی ڈیڑھ میٹر ہوتی ہے۔ ماٹ گراس کی ایک بار کی بوائی سے آٹھ سے دس سال تک پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے۔ ماٹ گراس میں چھ سے آٹھ فیصد تک پروٹین ہوتی ہے، جس کی وجہ سے یہ سائیلج بنانے کے کام آتا ہے۔ ماٹ گراس پوٹھوار کے علاقے میں بھی کاشت کیا جاسکتا ہے۔
ماٹ گراس موزوں زمین اور شرح بیج
ماٹ گراس گرم مرطوب آب و ہوا کی فصل ہے۔ سردی میں فصل کی پیداوار میں فرق پڑتا ہے۔ مسلسل کہر برداشت نہیں کر سکتی ۔ لیکن برسات میں فصل اچھی ہوتی ہے۔ پانی کی کمی برداشت کرتا ہے لیکن پانی ملنے پہ خوب پھلتا پھولتا ہے۔ ماٹ گراس کیلئے بھاری میرا زمین موزوں ہوتی ہے۔ ہلکی میرا، کلر اٹھی، اور ریتلی زمین میں کاشت نہیں کرنی چاہیۓ۔ ماٹ گراس کی کاشت کیلئے زمین کو چار سے پانچ بار ہل اور سہاگہ سے چلا کر بھربھرا تیاس کیا جاتا ہے۔ بہتر ہے کہ بوائی سے پہلے داب کے طریقہ سے جڑی بوٹیاں بھی ختم کر لی جائیں۔
ماٹ گراس وقت اور طریقہ کاشت
ماٹ گراس دو طریقوں سے کاشت کی جاتی ہے۔ فروری اور مارچ میں قلموں کے ذریعے اور اگست اور ستمبر میں جڑوں کے ذریعے۔جڑوں والے پودوں کی کامیابی کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں کیونکہ جڑوں میں قلموں کی نسبت شرح اموات کم ہوتی ہے ۔ماٹ گراس کی کاشت کیلئے ضروری ہے کہ قلمیں آنکھ دار ہو۔ قلموں کی بوائی ترچھے رخ اس طریقہ سے کی جاتی ہے کہ قلم کی ایک آنکھ زمیں کے اندر ہو اور ایک باہر ہو۔ماٹ گراس کے سموں کو کماد کے سموں کی طرح لٹایا نہیں جاتا بلکہ زمین میں ترچھا دبایا جاتا ہے۔ اگر اسکو کماد کی طرح کاشت کیا جائے تو قلمییں خراب ہو جاتی ہیں۔ قلموں کا درمیانی فاصلہ تین تین فٹ رکھا جاتا ہے۔ ایک ایکٹر کیلئے تقریباً گیارہ ہزار قلمیں درکار ہوتی ہیں۔ قلمیں زرعی تحقیقاتی ادارہ اسلام آباد اور سرگودھا سے حاصل کی جاسکتی ہے۔
ماٹ گراس برداشت
پہلی کٹائی کے لئے فصل تین سے چار ماہ میں تیار ہو جاتی ہے۔جب فصل کی لمبائی چار سے پانچ فٹ ہو جائے تو فصل کاٹ لینی چاہیے۔ پہلی کٹائی کے بعد فصل ڈیڑھ سے دو ماہ میں تیار ہو جاتی ہے۔ ماٹ گراس کی کٹائی جلدی کرنی چاہیے ورنہ فصل سخت ہو جاتی ہے۔ ایسے میں غذائیت میں کمی کے ساتھ جانوروں کی رغبت بھی کم ہو جاتی ہے۔ ماٹ گراس جون سے نومبر تک چارہ دیتی ہے۔ سردی میں جب ماٹ گراس کی پیداوار نہیں ہوتی توفصل کے درمیان سرسوں، مکئ یا برسیم کاشت کی جاسکتی ہے۔
Reference
http://www.agripunjab.gov.pk
Muhammad Ashiq, "Munafa Baksh Kasht"
